Thank You Sorry Excuse Me

تھینک یو‘سوری‘ایکسیوزمی!

عطاالحق قاسمی بدھ فروری

Thank You Sorry Excuse Me

انگریزوں کو تین الفاظ ادا کرنے کا بہت شوق ہے تھینک یو‘سوری ایکسیوزمی!تھینک یو کی تکرار تو اتنی ہوتی ہے کہ کہنے اور سننے والے دونوں ہلکان ہوجاتے ہیں دکاندار چیز بیچتے وقت تھینک یو کہتے ہیں اور گاہک چیز خریدتے ہوئے تھینک یو کہتا ہے حتیٰ کہ گاڑی میں بیٹھے ہونے کی صورت میں بھی وہ سلام کرکے تھینک یو کا فریضہ انجام دیتا ہے یہی حال سوری اور ایکسیوزمی کا بھی ہے سوری اس وقت کہا جاتا ہے جب ذرا سی غلطی ہوجائے بعض دفعہ احتیاطًا بھی سوری کہہ دیا جاتا ہے ایکسکیوزمی عموماً مخاطب کرنے کے لئے کہا جاتا ہے اور یہ الفاظ ہم ایسے لاہور یوں کو بھی لندن یا ترا کے دوران اتنی دفعہ سننا پڑتے ہیں کہ لاہور یاد آنے لگتا ہے جہاں کسی کا شکریہ ادا کرنا یا سواری کہنا غیرت کے منافی سمجھا جاتا ہے اگر میرے پنجابی کے اہل زبان دوست ناراض نہ ہوں تو یہ ماننے میں حرج نہیں ہماری زبان میں شکرئیے کے لیے سرے سے کوئی لفظ ہی نہیں ہے شکریہ اردو کا لفظ ہے مہربانی اردو کا لفظ ہے اللہ بھلا کرے کہا جائے تو لگتا ہے کہ مولا خوش رکھے قسم کی چیز ہے تاہم اردو میں یہ لفظ موجود ہونے کے باوجود اس کے استعمال کو چنداں مناسب نہیں سمجھا جاتا چنانچہ ہم لوگ من حیت القوم یعنی چاروں صوبوں کے لوگ شکریہ وغیرہ کہنا نہیں جانتے میں اس کی وجہ تلاش کرتا رہا ہوں اور بال آخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ تینوں لفظ تعلقات میں ایک طرح کی بیگانگی ظاہر کرتے ہیں کسی کے پاﺅں پر آجائے تو پاﺅں روندنے والا سواری نہیں کہتا اوردوسرے اندھے ہو نظر نہیں آتا ؟کہہ کر حساب برابر کردیتا ہے اگر شروع ہی میں سوری کہہ دیا جائے تو اس سے ایک تو انگریز مردود کی تقلید کا پہلو نکلتا ہے اور دوسرے زبان یا زبان درازی کا چسکا پورا ہیں ہوتا عربی کا ایک مقولہ ہے جس کا آسان اردو ترجمہ جیسی روح ویسے فرچتے ہے ہمارے سیاستدان اور صاحبان اقتدار بھی چونکہ ہم ہی میں سے ہیں لہٰذا متذکرہ بالا تینوں لفظ ان کی زبان پر بھی نہیں چڑھتے یہ دونوں طبقے یعنی حزب اختلاف اور حزب اقتدار ایک دوسرے کا نہ شکریہ ادا کرتے ہیں نہ کبھی معذرت کرتے ہیں اور نہ کبھی معاف کیجیے گا کہتے ہوئے ایک دوسرے شائستگی کے ساتھ راستہ مانگتے ہیں بلکہ جسے موقع ملتا ہے وہ الا اللہ کہہ کر دوسرے پر چڑھ دوڑتا ہے ان دنوں میاں نواز شریف کی حکومت نہ صرف یہ کہ اپوزیشن بلکہ حلیف کی چاند ماری کی بھی زد میں آئی ہوئی ہے حلیف جماعتوں میں سے کچھ کے گلے شکوے تو بالکل بجا ہیں لیکن ان میں ایک آدھ جماعت ایسی بھی ہے جو وزیر اعظم کو اپنا سٹینو بنانا چاہتی ہے کہ وہ جوڈ کٹیٹ کرائیں سر موانحراف نہ کریں وزیر اعظم اورمتذکرہ جماعت کے رہنما کے درمیان ممکن ہے کبھی اس نوع کا ڈائیلاگ بھی ہوا ہو آپ تو خواہ مخواہ مجھ سے ناراض رہتے ہیں آپ فرمائیں کیا چھ ماہ بیشتر آپ کے کہنے پر میں نے آپ کے ڈیڑھ سو دہشت گرد رہا نہیں کئے؟”بالکل کئے تھے“چار ماہ بیشتر میں نے آپ کے چار سو آدمی مختلف محکموں میں بھرتی نہیں کرائے؟کرائے تھے!“آپ کے کہنے پر گزشتہ ماہ میں نے اپنے حمائیتیوں کے ایک موثر گروپ کو ناراض نہیں کیا؟کیا تھا،ابھی پرسوں میں نے آپ کے کہنے پر اپنا ایک اہم فیصلہ تبدیل نہیں کیا؟کیا ہے،
تو پھر آپ شکرئیے کا ایک لفظ کہنے کے بجائے ہم سے ناراض کیوں ہیں؟
”کمال ہے صاحب آپ کو ہماری ناراضگی کی وجہ کا بھی علم نہیں آپ پرسوں کی بات کررہے ہیں آپ یہ بتائیں کہ کل کا دن جو خالی گزرگیا ہے اس میں آپ نے ہمارے لئے کیا کیا؟“سو ہمارے وزیر اعظم کو اپن اس حلیف کو خوش رکھنے کے لیے ہر روز کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن چونکہ شکریے کا لفظ ہماری قوم کے مزاج میں شامل نہیں لہٰذا جناب وزیر اعظم اس لفظ سے محروم رہتے ہیں اسی طرح سوری کا لفظ حکومت اورایکسکیوزمی کے الفاظ اپوزیشن کے ذہنوں سے محو ہوچکے ہیں لگتا ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو انگلستان گئے کافی روز ہوگئے ہیں اگر ہوسکے تو کسی ویک اینڈ پر ایک چکر ادھر لگالیں تاکہ تھینک یو سوری اور ایکسکیوزمی کے الفاظ ان کے حافظے میں تازہ ہوسکیں میں بھی محض یہ سبق یاد کرنے کے لئے اس ماہ انگلستان گیا تھا ورنہ سردیوں میں وہاں جاکر باپردہ میمیں دیکھنے کا کیا تک تھا؟

Your Thoughts and Comments