Thora Sa Karachi

تھوڑا سا کراچی

جمعہ مئی

Thora Sa Karachi
کراچی میں ہر بات ہوتی ہے،لیکن نہیں ہوتی تو بس بارش نہیں ہوتی۔بارش کی ضرورت بھی کیا ہے؟یہاں پسینا ہی اتنا بہتا ہے کہ زمین تر ہوجاتی ہے۔اتنی تَری کافی ہے شہر میں۔زمین کو اس سے زیادہ نم نہیں ہونا چاہیے۔یہاں تین چارسال پہلے بارش ہوئی تھی تو لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ کراچی میں یہ کیا ہورہا ہے۔کراچی میں سب کچھ ملتا ہے،لیکن اگر کوئی شخص چھتری خریدنے بازار جاتا ہے تو دکان دار اس پر ہنستے ہیں،بلکہ کچھ دکان دار تو پوچھ بھی بیٹھتے ہیں کہ یہ کِس کام آتی ہے۔

کراچی میں دھوپ بہت سستی ہے۔بڑی سخت دھوپ پڑتی ہے،لیکن کسی کو یہاں چھتری لگائے نہیں دیکھا گیا۔کراچی میں لُو بھی چلتی ہے،کیوں نہ چلے،یہاں ہر چیز چلتی ہے۔وہ تو اچھا ہے کہ لُو چلنے کے کچھ دن مقرر ہیں،بس سال دو چار دن۔

(جاری ہے)

جو اسے سہ جاتے ہیں،سال بھر خوش رہتے ہیں۔کچھ لوگ اس کے عادی بھی ہو جاتے ہیں اور جب گرمی کے موسم کے ختم ہونے کے دن آتے ہیں تو انہیں افسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ لو ہی نہیں چلی،اب اگلے سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔

یہاں کی دھوپ بھی کچھ کم گرم نہیں ہوتی۔کہاں جاتا ہے کہ کچھ لوگ تو تیز دھوپ میں کھانا بھی پکا لیتے ہیں،لیکن یہ پرہیزی کھانا ہوتا ہے،مثلاََ ابلی ہوئی ترکاریاں،نیم برشت انڈے اور سُوپ۔کچھ بھی ہو ،پیٹ تو بھر جاتا ہے۔آدمی کو کبھی کبھی پرہیز بھی کرنا چاہیے،ورنہ یہ دھوپ کس کام آئے گی۔
کراچی میں یوں تو کھانے پینے کی سبھی چیزیں اچھی ہوتی ہے۔

لسی کی سب سے بری خوبی یہ ہے کہ اس کے لئے گلاس خاص سائز کے بنتے ہیں۔ باہر سے آنے والے لوگ دو تین منٹ خالی گلاس کو ہی دیکھتے رہتے ہیں ۔اور اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔اتنے برے گلاس میں اگر آدمی چائے یا سادہ پانی ہی پی لے تو بے ہوش ہوجائے،لیکن اتنی لسی پی کر آدمی ہوش میں آجاتا ہے۔
کراچی کی صبح بہت میٹھی ہوتی ہے۔یہاں ناشتہ حلوہ پوری سے ہوتا ہے۔

حلوا بھی ایسا ترکہ گھی کے قطرے جابجا ٹپکتے رہتے ہیں۔پُوری گھی میں تیرتی ہوتی ہے اور اسے بڑی مشکل سے اصلی حالت میں لایا جاتا ہے۔حلوہ پوری کھڑے کھڑے کھانے کی چیز ہے۔بیٹھ کر کھاؤ تو اس کا مزہ جاتا رہتا ہے۔جو لوگ اسے گھر لے جا کر کھاتے ہیں،نقصان میں رہتے ہیں،لیکن آخر گھر کے لوگوں کو بھی یہ چیز کھلانی چاہیے۔
کراچی میں پاور ہاؤس بھی ہے۔

اس پاور ہاؤس سے شہر میں روشنی پھیلائی جاتی ہے،لیکن یہ روشنی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے،جیسے کوئی مقرر کسی مسئلے پر روشنی ڈال رہا ہو۔ کبھی پڑتی ہے تو کبھی نہیں پڑتی۔اتنے کم پاور کا پاور ہاؤس بنانا بہت مشکل ہے۔بلب جلتے ہیں پنکھے بھی لگے ہیں،لیکن نہیں چلتے۔ویسے شہر میں کہیں کہیں اتنی روشنی نظر آتی ہے کہ آنکھیں چُندھیا جاتی ہیں۔شادی نہ بھی ہورہی ہوتو ہال روشنی میں نہایا رہتا ہے(بارش تو وہاں ہوتی نہیں ہے کہ بارش میں نہائے)۔


کراچی میں جتنی گاڑیاں ہیں اتنے ہی”رفتار روک“(اسپیڈ بریکر)بھی ہیں۔ہر گلی کوچے میں دوچار جگہیں سطح مرتفع کی طرح ابھری ہوئی ہیں۔ان پر پیدل بھی چلا جائے تو چڑھائی کا لُطف آتا ہے۔کوئی گاڑی ان پر آسانی سے نہیں چڑھ سکتی۔
کراچی میں یوں تو کوئی چیز مہنگی نہیں معلوم ہوتی،مطلب یہ کہ مہنگی تو ہوتی ہے ،لیکن مہنگی معلوم نہیں ہوتی۔

ہاں تعلیم ضرور مہنگی ہے۔یہ اونچے دام دے کر خریدنی پڑتی ہے۔ کچھ اسکول تو ایسے بھی ہیں،جہاں دس بیس ہزار روپے ماہا نہ فیس ہوتی ہے اور ادا بھی کرنی پڑتی ہے۔فیس میں اور انکم ٹیکس میں یہی فرق ہے۔فیس سے بچنا ممکن نہیں۔ہمارا جی چاہا کہ ہم ایسا اسکول دُور سے ہی دیکھ کر اپنی آنکھیں سینک لیں۔
بازاروں میں رونق ہی رونق ہے۔اتنی بھیڑ کے بچے آسانی سے کھو جائیں۔

بچے کھونے اور بچے بدلنے کی بڑی سہولت ہے،لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے:،”بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے “
کراچی میں دھرنے بھی بہت دیے جاتے ہیں اور جلوس بھی بہت نکلتے ہیں،لیکن اس میں نئی بات کیا ہے سبھی شہروں میں جلوس نکلتے ہیں۔ بڑے شہر تو بنائے ہی اسی لئے جاتے ہیں۔ کہ روز کوئی نہ کوئی جلوس نکلے اور راستے بند ہوجائیں۔

جلوس سے ہی تو شہر کی رونق میں اضافہ ہوتا ہے۔لیکن صرف ایک جلوس اس کام کیلئے کافی نہیں ہوتا،اسی لئے ایک دن میں کئی کئی جلوس نکلتے ہیں اور بعض وقت تو خود جلوس میں حصہ لینے والوں کو پتا نہیں چلتا کہ وہ کِس جلوس میں چل رہے ہیں۔
کراچی کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس شہر کا کوئی جغرافیہ نہیں ہے۔آپ کسی سمت میں بھی نکل جائیے،کراچی موجود ہوگا۔

اب یہاں لوگ سمندر کو بھی قابل توجہ چیز سمجھنے لگے ہیں اور ساحل سمندر پر بھی گھر بنانے میں تکلف نہیں کرتے۔سوچتے ہوں گے،آسمان سے تو پانی نہیں برستا،چلو سمندر ہی کا پانی دیکھیں۔
دن چاہے کتنا ہی گرم ہو،یہاں شام بہر حال ٹھنڈی ہوتی ہے۔بیلے اور موتیا کے پھولوں کی مہک سے البتہ لوگ تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے۔کبابوں کی مہک زیادہ تیز ہوتی ہے۔

کلفٹن کی فوڈ سٹریٹ پر تو جیسے تکے کبابوں کا میلا لگا ہوتا ہے۔
یہاں کی دکانیں خوب سجی سجائیں ہوتی ہیں۔کسی بھی دکان کے سامنے کھڑے ہوجاؤ،دل لگ جاتا ہے۔ہمیں گھڑیوں کی دکانیں سب سے زیادہ پسند آئیں۔ایک دُکان اور بیسوں گھڑیاں اور ہر گھڑی میں الگ وقت۔
کراچی کی ساری عمارتیں دیکھنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کیوں کہ ساری عمارتیں تو خود اہل کراچی نے نہیں دیکھی ہوں گی۔

مسجدِ توبیٰ دیکھنے کی خواہش تھی،یوں سمجھیے اسے چُھوا،دیکھا نہیں۔درِتوبہ بند تھا اور دربان قاعدے قانون کے پابند۔
لیکن آغا خان اسپتال اتنی تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا کہ کیا ان لوگوں نے دیکھا ہوگا جو اس عالی شان خوب صورت بلکہ لاجواب اسپتال میں کام کرتے ہیں۔خدمت خلق اور یہ حسن و خوبی۔ہر چیز اعلیٰ درجے کی۔ اسپتال کے اند ر اور باہر دونوں جگہ آرام وآسایش کا اتنا خیال رکھا گیا ہے۔کہ جی لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔علاج کا تو وہ معقول انتظام ہے کہ ہمیں تو سارے مریض تندرست ہی نظر آئے۔یہاں آکر یہ اندازہ ہوا کہ کُچھ مرض کیوں لاعلاج ہوتے ہیں،جگہ اچھی نہیں ہوتی ہوگی۔

Your Thoughts and Comments