Toay

ط

سہیل عباس خان منگل جولائی

Toay

پیارے بچو ط سے ہمیشہ طوطا پڑھایا جاتا ہے, ایک تو اس لئے کہ طوطے کی چونچ ط جیسی ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ طوطا رٹا بڑا اچھا لگاتا ہے، ویسے تو رٹا مارا بھی جاتا ہے، اور اگر کوئی رٹا نہ مارے تو اسے بھی مارا جاتا ہے۔ کچھ لوگ طوطے کو ت سے لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہاں اگر توتا چینی ہو تو اسے ت سے بھی لکھا جا سکتا ہے۔ ط سے طوطی بھی ہوتی تھی، سنا ہے اس کی آواز نقار خانے میں کوئی نہیں سنتا تھا، اب بھی کوئی نہیں سنتا، اب طوطی کا نیا نام عوام ہے۔

ط سے طویل بھی ہوتا ہے، ویسے تو یہ ہوتی بھی ہے۔ پاکستان اپنے طویل القامت لوگوں کی وجہ سے مشہور ہے، ویسے تو سنا ہے یہاں طویل القامت درخت بھی ہوتے تھے لیکن ہم نے طویل عرصے سے ان کا سفر طے کروا دیا ہے، پتہ نہیں ہماری آزادی کا سفر کب طے ہوگا، اب تک تو بلوائیوں کے نرغے میں ہیں۔

(جاری ہے)

پیارے بچو ط سے طائر ہوتا ہے، جب سے اس نے قومی خزانے سے طہارت کی ہے وہ لاہوتی ہو گیا ہے۔

ط سے طیارہ بھی ہوتا ہے، ویسے تو اسے جہاز بھی کہتے ہیں، اس کا ہیروئن سے تعلق ہوتا ہے، پہلے وہ ہیروئن سے سفر کرتا تھا، اب ہیروئن اس میں سفر کرتی ہے۔ ط سے طبق ہوتا ہے اور سنا ہے وہ چودہ ہوتے ہیں، جو عوام کے بجلی کے بغیر روشن کئے جاتے ہیں، ہے ناں ہماری راکٹ سائنس، وڈا آیا گلوبل ولیج۔ ط سے طبلہ ہوتا ہے اور اس کو بجانے والے کو طبلہ نواز کہتے ہیں، ہمارے الٹے کام دیکھیں ہم اسی کا طبلہ بجانے کا خواب دیکھتے ہیں۔

ط سے طلبا بھی ہوتے ہیں، ان کی تنظیم ہو تو انہیں طالبان کہتے ہیں۔ یہ اچھے بھی ہوتے ہیں اور سنا ہے برے بھی ہوتے ہیں، جو نہ پھٹیں وہ اچھے ہوتے ہیں اور جو پھٹ جائیں وہ برے ہوتے ہیں۔ ط سے طب بھی ہوتی ہے، اس سے غیر ملکی طالب علموں کو وال چاکنگ کا مطلب سمجھانے میں مدد ملتی ہے۔ ط سے ایک طاہر شاہ بھی ہوتا یا ہوتی ہے، ویسے تو ایک ڈبل شاہ بھی تھا، لیکن طاہر شاہ اینجل ہے اور ڈبل شاہ ڈیول، اسی سے متاثر ہوکر ایک دشمن ملک نے گانا بنایا ہے۔

میں ہوں ایک اینجل اور ڈیول میرا یار اب اندرون خانہ دونوں ملکوں میں یاری تو ہے لیکن ابھی یہ پتہ چلانا باقی ہے کہ ان میں سے اینجل اور ڈیول کون ہے، چائے والا یا پائے والا۔ ط سے طبیعت بھی ہوتی ہے، اس سے اگر آواز آئے تو سازگار ہوتی ہے اور اگر آواز بند ہو جائے تو ناساز۔ ویسے اگر اس کا تعلق حالات سے ہو تو آواز آنے پر ناسازگار اور نہ آنے پر سازگار۔

پیارے بچو ط سے طریقہ ہوتا ہے، یہ آج کل کے پیر طریقت سے لے کر واردات والے تک سب استعمال کرتے ہیں، اگر اسے خاتون استمال کرے تو اسے ریسیپی کہتے ہیں۔ ٹوٹکے کی ٹ پہ ط ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ ڈال پر بھی ہوتی ہے، جو دال گلنے پر اتر جاتی ہے۔

پیارے بچو ط سے طفل ہوتا ہے، یہ ناداں ہوتا ہے، پھر بھی پتہ نہیں کیوں جے آئی ٹی والے اسے پیشیاں بھگتنے پر مجبور کرتے ہیں۔

حالانکہ وہ گھٹنوں کے بل چلتا ہے، پھر بھی اسے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ط سے طلاء ہوتا ہے، پہلے اس سے سکے بنائے جاتے تھے، آج کل سکہ بند طلا بنایا جاتا ہے۔ طلا کو ل سے لگا دیں تو وہ چودھری بن جاتا ہے۔ ط سے طوائف ہوتی ہے، تھو تھو تھو، استغفراللہ، اسلامی مملکت میں اس کا نام لینا بھی گناہ ہے، سنا ہے وہ تماش بینوں میں گھری رہتی ہے، ایک تو ہماری قوم کو تماشا بہت پسند ہے، اوساکا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے لفظ تماشا پڑھ کر اردو سیکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

طوائف کی ایک قسم طوائف الملوکی بھی ہے، اس کا استعمال ملک میں ملوک کرتے ہیں۔ ط سے طاقت بھی ہوتی ہے، جس میں ہوتی ہے اس کی بھینس ہوتی ہے اور جس میں نہیں ہوتی اسے طبیب ایک کشتہ دیتے ہیں جو بھینس کے مکھن میں لپیٹ کے کھایا جاتا ہے۔ لیکن سنا ہے مکھن کھانے سے دانت ہل جاتے ہیں، اس لیے اسے وہ کھاتے ہیں جن کے منہ میں دانت نہیں ہوتے۔ ط سے طاق ہوتا ہے، پرانے شاعر اسے نسیاں کے ساتھ استعمال کرتے تھے لیکن نئے شاعر اب اس فن میں طاق ہو گئے ہیں۔

طاق کے ساتھ جفت استعمال کیا جاتا ہے، اور جفت ہونے کے لئے لوگ شاخ تاک سے بنی ایک چیز استعمال کرتے ہیں۔ سنا ہے اسے دو حرفی کہتے ہیں اور بعض لوگ اس پر تین حرف بھیجتے ہیں۔

ط سے طرم خان بھی ہوتا تھا، اب بھی وہ خان تو ہے لیکن خان سے پہلے اس کا قافیہ لگا لیا ہے۔ ط سے طرار بھی ہوتا ہے، یہ تیز کے ساتھ لگائیں تو اور تیز ہو جاتا ہے۔ ط سے طرب بھی ہے، اس کا تعلق عیش کے ساتھ ہے، اس کے لئے خاص محفل ہوتی ہے، جو طلب کے پیش نظر برپا کی جاتی ہے، اس میں رسد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

ط سے طاوٴس بھی ہوتا ہے، اس کا تخت مشہور ہے، اب جو بھی اس پر بیٹھتا ہے وہ چھانگا مانگا کے جنگل میں طاوٴس کے ساتھ ساتھ رباب کے رقص کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ط سے طمع ہوتا ہے، جب یہ بڑھ جائے تو یہ ان طرف داروں کے منہ پر طمانچہ ہوتا ہے، جنہوں نے ایک پلیٹ بریانی کے بدلے اس کا اہتمام کیا ہوتا ہے۔ ط سے طلاق بھی ہوتی ہے، یہ دی بھی جاتی ہے اور لی بھی جاتی ہیں، لیتے وقت اس کا نام خلع ہوتا ہے، دونوں صورتوں میں اس کا تعلق خلاصی سے ہوتا ہے، اب پتہ نہیں خلد میں اس کی کیا صورت ہوگی۔

کیونکہ سنا ہے وہاں آپ کو اپنی بیوی بھی حوروں کے ساتھ ملے گی، جو تین کے ساتھ گزارہ نہیں کرتی وہ ستر کے ساتھ کیسے کرے گی۔ پیارے بچو ط سے طلسم ہوتا ہے، پہلے یہ ہوش ربا ہوتا تھا، اس کی ایک لوح ہوتی تھی جو طلسم کشا کے ہاتھ لگتی تھی، اب یہ سادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ عوام کا لفظ بھی لگاتے ہیں، طلسم کشا اس کی مدد سے ایسا طلسم بناتا ہے کہ اس میں دریائے خون رواں بھی بہاتا ہے۔

ط سے طبقہ ہوتا ہے، ہم نے اس میں ترقی کر کے طبقات بنائے اور پھر ان میں فرق بھی پیدا کیا۔ ط سے طرز بھی ہوتی ہے، یہ ہر کسی کی اپنی اپنی ہوتی ہے، کسی زمانے میں یہ تحریر اور تقریر کی ہوتی تھی، اب یہ تعزیر کی ہوتی ہے۔ ط سے طشت ہوتا ہے، انگریز اس میں مغلوں کو سر رکھ کر پیش کرتے تھے، اب جدید مغل اس میں سر رکھ کر انگریزوں کو پیش کرتے ہیں۔

ط سے طعام بھی ہوتا ہے، اس کا اہتمام پہلے شادیوں میں اور اب سیاسی جلسوں میں کیا جاتا ہے، لیکن دونوں صورتوں میں لوگ قیام کا موقع نہیں دیتے۔ ط سے طغیانی ہوتی ہے، یہ ہر سال آتی ہے، اسے سالوں نے تصویر بنوانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ط سے طنز بھی ہوتا ہے، پہلے یہ بت طناز کا طنطنہ دیکھ کر کیا جاتا تھا، اب اس کا استعمال مزاح کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

کسی نے پوچھا طنز اور مزاح میں کیا فرق ہے تو آگے سے جواب دیا گیا کہ جو خود پر کیا جائے وہ مزاح ہے اور جو دوسرے پر کیا جائے وہ طنز ہے، کہنے والے نے کہا: اگر میں کہوں تم وزیراعظم بن جاوٴ گے تو یہ طنز ہوگا اور اگر تم کہو میں وزیراعظم بن جاوٴں گا تو یہ مزاح ہوگا۔
پیارے بچو جس جس نے وزیراعظم بننا ہے وہ ہاتھ کھڑا کرے، لڑکیاں خود کھڑی ہو سکتی ہیں۔ لیکن پہلے آپ کو استاد کے پاس زر ضمانت جمع کرانا ہوگا، جو امید ہے جلد ہی ضبط ہو جائے گا۔

Your Thoughts and Comments