Ttay

ٹ

سہیل عباس خان جمعرات مئی

Ttay

پیارے بچو!!!
جی!
شابش شابش، پیارے بچو!!!
جی!
”ٹ“ سے ہوتا ہے ٹکڑا، اسے پنجابی میں ٹوٹا بھی کہتے ہیں۔ اس کا استعمال پاکستان میں بہت ہوتا ہے۔ یہ چاول میں بھی ہوتا ہے اور فلموں میں بھی ہوتا ہے۔ پاکستانی مائیں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دھمکی دینے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں کہ ابھی تمہارا باپ آئے گا تو تمہارے ٹوٹے کرواوٴں گی۔ آپ جسے جاپانی میں ”ہین“ کہتے ہیں۔


”ٹ“ کی ادائیگی کے لیے جس طرح جمناسٹک میں گیند کی طرح جسم کو گول کرتے ہیں اس طرح زبان کو گول کر کے تالو سے بغیر گوند کے چپکائیں، پھر باچھوں کو چوڑا کریں اور پہلے سے چوڑی ہوں تو صرف کھولنے پہ اکتفا کریں، اب زبان کو آہستہ سے ایسے چھوڑیں جیسے گاڑی سیکھتے ہوئے کلچ چھوڑا جاتا ہے، لیکن جھٹکا نہ لگے، اگر جھٹکا لگا تو ”ٹ“ کی ادائیگی سے پتا چل جائے گا کہ آپ زیر تعلیم ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں زیر تعلیم کے ساتھ ووٹ کا واوٴ لگ جائے تو وزیر تعلیم بن جاتا ہے۔
جاپانی ”ٹ“ اور ”ت“ میں اُسی طرح فرق نہیں کر سکتے جس طرح ہم جاپانی اور چینی میں فرق نہیں کر سکتے۔ جاپانی اور چینی کے فرق کا آنکھوں سے پتا چلتا ہے، چینیوں کی آنکھیں نیم باز اور جاپانیوں کی نیم نیم باز آنکھیں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ہم نیم کے درخت کے نیچے چارپائی پہ نیم دراز ہو کر نیم باز آنکھوں سے مہر نیم روز کو دیکھتے ہیں۔


ہم ”ٹ“ اور ”ڈ“ کے ذریعے قومیت کا پتا بھی چلاتے ہیں۔ جیسے اگر سرائیکی اور غیر سرائیکی کے فرق کا پتا کرنا ہو تو لفظ ڈیڈر یعنی مینڈک بلوایا جائے گا۔ عام طور پر سندھی پنجابیوں کی شناخت کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ اس کے مطابق ان سے وہی سلوک کیا جائے جو پرانے زمانے میں بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے تھے۔
”ٹ“ سے ٹوپی آج کل زیادہ مشہور ہے، آپ نے ایک ضرب المثل سنی ہوگی ”حامد کی ٹوپی محمود کے سر“ ، اب وہ بدل گئی ہے، اب عبدالقوی کی ٹوپی قندیل کے سر ہے۔

پاکستان میں ٹوپی ڈراما بہت مشہور ہے۔ اس میں ہم اتنے ماہر ہیں کہ پوری دنیا کے چوٹی کے اداکار ہمارے آگے پانی بھرتے ہیں۔ ہم اب اپنے لیے خود پانی نہیں بھرتے بلکہ لوگ سرکاری نل سے بھر کے ہمیں ہوم ڈلیوری دیتے ہیں۔ آپ جو ڈلیوری سمجھ رہے ہیں وہ نہیں ہے۔
”ٹ“ سے ٹریکٹر ٹرالی بھی مشہور ہے اور اب اس کا ذکر ہماری مہذب اسمبلی میں بھی ہوتا ہے۔


”ٹ“ سے ٹکے ٹوکری بھی ہے۔ ویسے تو ہمارے ہاں ٹکا سا جواب بھی ہوتا ہے۔ ٹکے کا سکہ اب ہمارے ہاں نہیں ہوتا بلکہ ٹکے ٹکے کے لوگ ہوتے ہیں۔ ویسے تو ٹکا ٹک بھی مشہور ہے لیکن اسے کھانا بڑے گردے کا کام ہے۔ سنا ہے کافی گرم ہوتا ہے، ہمیں ہر چیز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کون سی چیز گرم ہے اور کون سی ٹھنڈی۔ یہ گرمی ہمارے دماغ کو بھی چڑھ جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments