Under Standing

عمر کا ایک حصہ گزار کا آج مصالحت کاراز پتا چلا، اکثر سننے میں آتا تھا کہ فلاں میاں بیوی میں بڑی انڈرسٹینڈنگ ہے

حُسین جان جمعہ جنوری

Under Standing
عمر کا ایک حصہ گزار کا آج مصالحت کاراز پتا چلا، اکثر سننے میں آتا تھا کہ فلاں میاں بیوی میں بڑی Under Standing ہے۔ خیر ہم بھی ایک عدد بیوی رکھتے ہیں لیکن ہمیشہ شش و پنج میں ہی رہے کہ آخر یہ مصالحت یعنی Under Standing ہوتی کیسے ہے، جبکہ ہمیں تو اکثر مسائل کا ہی سامنا رہتا ہے کہ ہم کہتے ہیں بھلی بانس یہ کردو تو وہ کہتی ہیں چھوڑیں آپ کو کیا پتا یہ ایسے نہیں کرنا، اسی طرح بہت سے معاملات پر اکثر اوقات ہماری نصف بہتر سے بحث ہو جاتی تھی اور ہمیں اپنی اوقات کا ٹھیک طرح سے ادراک ہو جاتا تھا، پھر سوچا چلو گوگل کو آزما کر دیکھیں کہ شائد وہ ہی اس کا کوئی حل بتا دے مگر افسوس گوگل بھی مات کھا گیا، پھر ایک دن خواب میں بہت بڑئے مرید کا دیدار ہوا، (یعنی زن مرید) انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ بیٹھ کر معاملات کو سلجھاؤ اس سے زندگی بہتر گزرئے گی، لہذا اگلے دن ہم نے بیگم صاحبہ سے کہا کہ اُن سے کچھ بات کرنی ہے، تو جواب ملا جلدی بتاؤ مجھے ابھی امی کے گھر جانا ہے۔

(جاری ہے)

خیر جلدی جلدی عرض کی کہ آج ہم مصالحت کر لیتے ہیں، تو بولیں جلدی بکو جو بکنا ہے، میں نے کہا کیونکہ میں ایک مرد ہوں لہذا بڑئے بڑئے فیصلے یعنی، آج کھانا کیا بنانا ہے، برتن کس صابن سے دھونے ہیں، کس دُکان سے دودھ لینا ہے، بچوں کے ڈائپر کس برانڈ کے ہوں گے، بچوں کا شیمپو کون سا ہو گا، کپڑئے کس دن دھونے ہیں وغیرہ میں کرؤں گا اور چھوٹے چھوٹے فیصلے یعنی، بچے کس سکول میں جائیں گے، کس رشتہ دار کے ہاں جانا ہے، بڑئے ہونے پر بچوں کی شادیاں کہاں کرنی ہیں، گاڑی اور گھر کون سا لینا ہے، کاروبار کون سا بہتر ہے، وغیرہ جو کے بہت چھوٹے فیصلے ہوتے ہیں وہ کریں گی تو انہوں نے میری بات فورا مان لی، تب سے ماشاء اللہ ہماری کبھی کسی بات کو لے کر بحث نہیں ہوئی اور ہم میں بھی مصالحت یعنیUnder Standing ہو گئی ہے۔

تو آج سے لوگ ہماری بھی مثال دیا کریں گے کہ دیکھو میاں بیوی میں کیسیUnder Stdanding ہے ۔
ہمارئے ایک دوست ہیں جناب کے بقول اُن کی بیوی اُن کے لیے Directجنت سے بھیجی گئیں ہیں سونے پے سہاگہ موصوفہ میں صفات بھی ہوروں جیسی پائی گئیں ہے۔ وہ اتنی بھولی اور معصوم ہیں کہ ہمارئے دوست صبح دال کے پیسے دے کر جاتے ہیں اور شام کو گھر میں مٹن پکا ہوتا ہے۔

تو جناب خوش ہو جاتے ہیں کہ کیسی زوجہ ماجدہ پائی ہے کہ جس کے آنے سے معجزات ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب سے جناب کی شادی ہوئی ہے محلے میں موصوف کی عزت کو بھی چار چاند لگ گئے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی ان کی کتے جتنی عزت نہیں کرتے تھے اب ہر محفل کی یہی جان ہوتے ہیں۔ اور ہر ایک کی کوشش ہوتی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان کا مخلص بن جائے۔

یہی دوست پہلے پہل پھٹی پرانی جینز پہن کر گھوما کرتے تھے آجکل ارمانی سے کم میں بات نہیں کرتے۔ ہمارئے دوست کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ سب کرامات ان کی بیگم کی ہیں جن کے آنے سے اُن کے دن "پھر"گئے ہیں۔
کچھ لوگوں کے خیال میں پاکستان میں خواتین کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں صاحب تب تک اپنی جوتی پاؤں میں نہیں پہن سکتے جب تک بیگم نا چاہے۔

بڑئے سے بڑا افسر گھر میں بکری کے مانند ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے صاحب کو جانتے ہیں جو ایک سرکاری ادارئے کے پورئے سیکشن کے انچارج ہیں اُن کے نیچے تقریباً 400 سے 500آدمی کام کرتے ہیں لیکن گھر میں یہ جناب لونگی پہن کر ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے باگڑ بلا۔ ایک دفعہ مجھے ان کے گھر کسی کام سے جانا پڑاموصوف نے ایک فون کال پر کام کروا دیا۔ لیکن ہم ان کی گھریلو حالت دیکھ کر سکتے میں راہ گئے کہ ہر بات میں سوائے جی کے وہ کچھ نہیں کہ پارہے تھے۔

تمام ہولڈ اور ٹی وی کا ریمورٹ بیگم کے ہاتھ میں ہی تھا۔ ہم نے پوچھا باجی آپ اتنے بڑئے افسر کو کیسے ہنڈل کر لیتی ہیں تو انہوں نے فرمایا یہ افسر ہوں گے باہر میرے تو ماتحت ہی ہیں اور اُن سے بولی جائیں کچن میں میرے لیے گرما گرم کافی بنا لائیں۔
اکثر اوقات شادی شدہ دوستوں میں یہ مقابلہ ہو رہا ہوتا ہے کہ کون زیادہ رن مرید ہے۔ جتنے والے کو چائے کا کپ پیش کیا جاتا ہے۔

کچھ احباب گھرسے باہر ہر وقت یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ گھر میں اُن کا بہت رعب ہے اور تمام فیصلے وہی کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی گھر میں داخل ہوں یہ کسی بلی کے بلونگڑے کی تصویر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد پڑتا ہے ایک کزن ہیں جو ہر وقت اپنی دانش چھاڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک دفعہ جناب سے ملنے ان کے گھر گیا۔ تو دیکھا کہ ان کی دانشوری کی بھابی زرہ برابر بھی قدر نہیں کر رہی تھیں۔

بھابی مجھے کہنے لگی بھائی صاحب یہ کام کروا دیں پلیز کیونکہ یہ تو دُنیا کے نکمے ترین انسان ہے ان سے کوئی کام بھی ڈھنگ کا نہیں ہوتا۔ خود کو ہر وقت دانشور خیال کرتے ہیں جبکہ نل ان سے تبدیل نہیں ہوتا۔ اور سردیوں میں ناک تک نہیں پونچھ پاتے۔ اگر کبھی سبزی لینے بھیج دو تو سارا حساب کتاب خراب کر دیتے ہیں۔
ابھی ہم بیٹھے یہ سطور لکھ ہی رہے ہیں کہ ہماری بیگم صاحبہ کا فون آگیا ہے کہ آتے ہوئے دہی لیتے آنا ورنہ آج کھانا نہیں ملے گا۔

اُن کے بقول ہم سارا سارا دن ویلے بیٹھے رہتے ہیں اور کسی کام کے نہیں ہیں۔ جبکہ ایک ہم ہیں کہ سارا دن اپنی مصروفیت کا رونا روتے رہتے ہیں اور وہ صاحبہ ہیں کہ ایک پل میں ہمیں دُنیا کا ویلا ترین انسان قرار دے دیتی ہیں۔ اب سمجھ آئی کہ ہمارے شعرا اکثر اوقات بیویوں کو میکے جانے کی ترغیب کیوں دیا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ پل ہوتے ہیں جو سکون سے گزرتے اور گھر اپنا اپنا لگتا ہے۔

ورنہ تو یہاں بھی نوکر کا ہی گماں رہتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے ایک دوست نے کہا نیا گھر خریدا ہے۔ لیکن اُس گھر میں ایک چیز بھی اُن کی مرضی کی نہیں لگی ۔ جو کچھ بھی لگوایا تمہاری بھابھی نے لگاوایا ہے۔ بڑئے چاہ سے کہتی ہیں میرا گھر ایسا ہو گا میرا گھر ایسا ہو گا۔ جس نے لاکھوں روپیہ خرچ کردیا اُس کے شائد موصوفہ نے صرف چوکیداری کے لیے رکھنا ہے۔

Your Thoughts and Comments