Wahid U Rehman Khan

وحید الرحمن خان

جمعرات جنوری

وحید الرحمن خان ۱۹۷۰ء۔حیات خوش رہنا اور خوش رکھنا ایک نفسیاتی ضرورت ہی نہیں، سماجی تقاضا بھی ہے، خصوصاًایک ایسے دور میں جب حبس بڑھ جائے اور علم نایاب ہو جائے۔ وحید الرحمن خان بھی اپنی تحریروں کے ذریعے یہی فرض بجا لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نرے کھرے تلمیذ الرحمن ہیں کیونکہ ان کے یہاں اردو کے بڑے مزاح نگاروں سے اکتساب کی نمایاں جھلکیاں نظر آتی ہیں۔

مگر یہ اکتساب کسی بے شعور مقلد کا نہیں، ایک ایسے ذہین اور ذکی شگفتہ نگار کا ہے جس میں مزاح کی فطری صلاحیتیں بخوبی موجود ہیں۔ وحید الرحمن لفظ کے تخلیقی استعمال سے واقف ہیں۔ ذکاوت اور رعایت لفظی کے لئے جس کفایت لفظی کی ضرورت ہے، اس سے انہیں آگہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لفظی مزاح کی طرف ان کا میلان کچھ زیادہ بڑھا ہوا ہے جس پر روگ لگانے کی ضرورت ہے اور بعض ایسے اظہاری سانچوں سے جواب کلیشے بن چکے ہیں، انہیں اجتناب لازم ہے۔

(جاری ہے)

وحید الرحمن کا سفر دائرے کا سفر نہیں جس میں پیش قدمی ہی پسپائی بن جاتی ہے۔ ان کی تحریریں بتاتی ہیں کہ ان کا حال بہت حد تک اطمینان بخش ہے اور مستقبل بہت درخشاں۔(ڈاکٹر تحسین فراقی ) سوانحی اشارے وحید الرحمن خان یکم اپریل 1970ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ 1986ء میں گورنمنٹ کمپری ہنسو ہائی سکول ملتان سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج بوسن روڈ سے بی اے پاس کیا۔ بعد ازاں 1993ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اردو اور ایم فل کیا۔ آپ آج کل گورنمنٹ کالج وحدت روڈ میں بطور لیکچرار خدمت انجام دے رہے ہیں اور ایم اے فارسی میں ڈاکٹریٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔ وحید الرحمن خان کی تصانیف گفتنی شگفتنی ،حفظِ ماتبسم اور خامہ خرابیاں منظر عام پر آچکی ہیں۔

Your Thoughts and Comments