Walima Danghal

ولیمہ دنگل

منگل اکتوبر

Walima Danghal

ڈاکٹر تنویر حسین
پچھلے دنوں ہمیں ایک رجسٹری موصول ہوئی ۔کھول کر دیکھا تو اس میں سے ایک ولیمہ کا اشتہار برآمد ہوا۔جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔”بچوں ،بوڑھوں اور نوجوانوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ موٴرخہ 4نومبر 1989ء بروز ہفتہ بمقام اکھاڑا پیر غازی شہید ایک عظیم الشان ولیمہ دنگل ہو گا،جو خواتین وحضرات بوٹیوں پر پلٹنے ،جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہوں ،ان کی شرکت ہمارے لیے باعثِ کروڑ مسّرت ہو گی۔

ولیمہ دنگل میں شمولیت کے لیے عمر اور وقت کی کوئی قید نہیں ۔
اس دنگل میں گو جرانوالہ ،سیالکوٹ ،وزیر آباد ،قصور اور شکر گڑھ کی روسٹ مرغ کھانے والی،ثابت کو فتے نگلنے والی ،سالم بکرے ہڑپ کرنے والی ،دہی کے کونڈے او رپانی کے ڈرم پینے والی مشہور ومعروف ٹیمیں حصّہ لے رہی ہیں ۔

(جاری ہے)

“نیز اس دنگل میں چھوٹے چھوٹے مقابلے بھی ہوں گے۔جو شوربہ پینے والوں ،زردہ اور چٹنی سلاد کھانے والوں کے درمیان ہوں گے ۔

ولیمہ دنگل کے سر پر ستِ اعلیٰ ”جی بھر چکا “صاحب اور ریفری جناب دولہا میاں صاحب ”چپ شاہ “ہوں گے۔
ہم 4نومبر کو ریشمی دھوتی کُرتا زیبِ تن کرکے اور گلے میں ایک عد د تعویذ لٹکا کر اکھاڑا پیر غازی شہید کی طرف روانہ ہو گئے ۔وہاں پہنچے تو قتاتوں اور سائبانوں تلے نائی دیگوں میں کف گیر ہلا ہلا کر مہمان ٹیموں کا استقبال کر رہے تھے ۔

شادی والے اکھاڑے میں دھولک اور ڈھول کی آوازوں سے اگر چہ کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے مگر ولیمہ دنگل کی رونق اور گہما گہمی میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا تھا۔
دیگوں ،کڑاہیوں ،کف گیروں اور ڈھولک کے مِلے جُلے پکے راگوں اور پاپ میوزک سے دیگوں کے اندر مرغے مرغیوں اور بکرے بکریوں کی فنا کار قص جاری تھا۔جب دیگیں پک کر تیار ہو گئیں تو ریفری چُپ شاہ نے سیٹی بجاتے ہوئے اعلان کیا۔

“خواتین وحضرات ! ولیمہ دنگل کا آغاز ہوا چا ہتا ہے ۔آپ سے التماس ہے کہ اپنے اپنے دانت تیز کر لیں ۔جو ٹیم زیادہ کھانے میں نمبر لے جائے گی،اس کے لیے سٹر یچروں اور چارپائیوں کا انتظام کر دیا گیا ہے تا کہ اسے فرسٹ ایڈ کے ساتھ ساتھ ہسپتال بھی پہنچایا جاسکے ۔
یہ اعلان سنتے ہی بچوں ،بوڑھوں اور جوانوں نے اپنے اپنے کُرتے اتار دیے اور دھوتیوں ،شلواروں اور پتلونوں کے لنگوٹے کَس کر کھانے پر جھپٹ پڑے۔

پہلے توٹیموں نے اپنے آپ کو گرم گرم گوشت کی بھاپ سے ”وارم اپ “کیا اور پھر کف گیروں ،چمچوں اور چھری کانٹوں سے گوشت کھانا شروع کر دیا۔جب کوئی ٹیم دوسری ٹیم کو آگے نکلتا دیکھتی تو وہ کف گیروں ،چمچوں اور چھری کانٹوں کو زمین پر پٹخ کر دونوں ہاتھوں سے گوشت کھانا شروع کر دیتی ۔
ولیمہ دنگل کی ویڈیو فلم بھی بن رہی تھی تاکہ کل کلاں کو کوئی کھا کر مکر ہی نہ جائے ۔

پہلے تو ہم گوشت خوروں کے ہجوم کے چھٹنے کے منتظر تھے ۔پھر یہ سوچ کر کہ کہیں بھو کے نہ رہ جائیں ،ہم پلیٹ اور چمچ کی تلاش میں کھانے کی میز کی طرف بڑھے ۔ابھی ہم میز کے قریب پہنچے ہی تھے کہ گوجرانوالہ کے ایک منجھے ہوئے کھلاڑی نے کبڈی کبڈی کرتے ہوئے ہماری ٹانگ پکڑ لی ۔”یار ․․․․فاؤل تو نہ کھیلو!“ہم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔”یہ مرغے یا بکرے کی ٹانگ نہیں ،یہ تو ہماری ٹانگ ہے “۔

خیر وہ ہماری ٹانگ چھوڑ کر اپنے اصل ہدف یعنی اصل مرغ کی طرف لپکا۔
ہم پھر پلیٹ اور چمچ لے کر آگے بڑھے ۔اس مرتبہ بھی ہمیں ایک صحت مند کھلاڑی نے راستے ہی میں روک لیا۔اب تو گھمسان کا رن پڑچکا تھا۔بڑے بڑے گوشت خور گوشت کی ڈشوں کو راستے ہی میں ہائی جیک کر لیتے اور ہم جیسے اناڑی ان کا منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ۔کھانے والوں کے درمیان مقابلے کا ٹیمپو بہت تیز ہو چکا تھا او ر یہ اندازہ لگانا مشکل تھاکہ کون کس کی ڈش میں کھا رہا ہے اور کون کس کے منہ میں ڈال رہا ہے ؟ہم یہ سو چ کر پیچھے ہٹ گئے کہ اگر موقع ملا تو چھوٹے مقابلوں میں حصّہ لیں گے۔

کھانے کے دوران میں کھلاڑیوں نے ایک چہرے پر کئی چہرے سجالیے تھے ۔
جن چہروں پر کیل،چھائیاں ،مہا سے اور چیچک کے دانے تھے وہ دہی ،چٹنی اور سلاد سے پُر ہو چکے تھے ۔تمام کھلاڑیوں کے سر،منہ اور ہاتھ شوربے سے لت پت تھے ۔یوں محسوس ہورہا تھا،جیسے وہ ابھی ابھی شوربے کی دیگوں سے برآمد ہوئے ہیں ۔اس اثناء میں بہت سے کھلاڑی بے ہوش ہوہو کر گرنے لگے۔

اب ریفری نے شوربہ پینے والوں ،زردہ اور چٹنی سلاد کھانے والوں کو دعوت دی کہ وہ میدان میں آکر اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں ۔
کھلاڑیوں نے آن کی آن میں رکوع کی شکل میں اپنے اپنے منہ دہی کے کونڈوں میں ڈال دیے۔اس کے ساتھ ہی وہ چٹنی کے ڈونگے اور سلاد بکریوں کی طرح کرچ کرچ کرکے کھانے لگے۔ہم نے اس مرتبہ بھی اپنی قسمت آزمانا چاہی مگر ہماری چنے یا ماش کی ڈال نہ گل سکی۔اس مقابلے میں بھی بہت سے کھلاڑی بے ہوش ہوئے مگر انھیں فوراََ ایمبو لینس کے ذریعے ہسپتال پہنچادیا گیا۔ولیمہ دنگل کے اختتام پر ریفری ”چپ شاہ “نے ڈائس پر آکر سب ٹیموں کا تہہِ دل سے شکر یہ ادا کیا اور اوّل دوم اور سوم آنے والی ٹیموں کو انعامات دینے کا اعلان کیا۔

Your Thoughts and Comments