Wapsi Machar Khan Ki

واپسی مچھّر خان کی!

منگل دسمبر

Wapsi Machar Khan Ki
ابنِ انشاء:
السَلام علیکم“ ”وعلیکم السّلام۔آبھئی مچھر خان روزہ ہے یا لوگوں کا خون چوستا پھررہا ہے۔“آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے خود روزے سے ہوں۔“تجھے ہم سے کیا مطلب ہمارا عمل ہمارے ساتھ دیکھ عالی صاحب نیک ہوگئے۔ہم بھی ہوجائیں گے جب سے وہ عمرہ کرکے آئے ہیں روزہ، نماز،تراویح وغیرہ سب کا اہتمام ہے ہم بھی اللہ نے چاہا توعمرہ کرآئیں گے۔

“تو کیا عمرہ ادا کرنے سے پہلے روزے کی نماز کی ممانعت ہے؟“ارے تو کیوں مذہبی بحثوں میں پڑتا ہے اندیشہ شہر میں مبتلا ہوتا ہے بتا تیری کیا خاطر کروں تیرے لیے تو جا ن بھی حاضر ہے جیسا کہ ملیریا کے اعدادوشمار سے ظاہر ہے۔شکریہ ابھی سامنے حلوائی کے کونڈے پرسے چکھوتیاں کرکے آیا ہوں۔

(جاری ہے)

“تو کیا اس نے جالیاں ہٹادیں،جالیاں اجی حضرت وہ تولوگوں نے دو دن کو اس ڈر سے لگائی تھیں کہ مارشل لا والے دھرلیں جب دیکھا کہ یہ معاملے سوال حکام یعنی کارپوریشن وغیرہ پرچھوڑدیے گئے ہیں تو اتار پھینکیں اچھا آج کوئی کہانی سنا نے آیا ہے ہمارا قصور معاف کر۔

“جی نہیں کہانی سنانے نہیں تبادلہ خیالات کرنے آیا ہوں تو پھر جلدی سے کر ہمارے خیالات تو لے لے اپنے خیالات ہمیں دے دے۔ہم پہلے ہی اپنے خیالات سے تنگ ہیں میرا خیال تھا آپ کچھ ون یونٹ وغیرہ ٹوٹنے کے مسئلے پر رائے زنی کریں گے اب توخوش ہیں ناں آپ۔“تجھے ہمارے خوش نا خوش ہونے سے مطلب تو تین میں نہ تیرہ میں نہ پنجابی نہ مہاجر نہ نیا سندھی نہ پرانا سندھی۔

“جی یہ تنگ نظریاں آپ اشرف المخلوقات کو مبارک ہمارے ہاں ایسی تفریق نہیں ہم تو مچھر ستاں بنائیں گے ایک ہی۔“کیا پدّی کیا پِدّی کا شوربہ ارے تو تو پدّی بھی نہیں ہے۔”پدّی ودّی کی باتیں بہت ہوچکیں یہ جہموریت کا زمانہ ہے بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لانہیں کرتے۔“کیا مطلب تو بھی الیکشن کی سوچ رہا مرزا ظفر الحسن کے رجسٹر میں نام لکھائے گا۔

“جی ہاں جب آبادی کی بنا پر ہی سب کچھ ہونا ہے تو ہم بھی ہیں تو بھی اے فرزند کتباں اپنی خودی پہچان۔“آپ لوگ تو پورے ملک میں بارہ کروڑ ہوں گے یہاں ای جو ہڑ پر ہماری اتنی آبادی ہوگی یہ جو آپ کے سامنے کی سڑک پر کوڑے کا ڈھیر ہے اور جسے آپ کے دس سالم بھی نہیں اٹھواسکے کوئی دس لاکھ مچھر تو اس پر آباد ہوں گے۔اچھا بابا جو تیرا جی چاہے کر ہم سیاسی آدمی نہیں ہیں آج ہفتے کا دن ہے ہمیں اپنا کام لکھنے دے۔

پھر آپ ڈاکٹروں پر لکھیں گے؟“ارے نہیں وہ تو ایک ڈاکٹر صاحب پر لکھ دیا تھا سب کو ناراض کرلیں تو ہماری بیماریوں کا علاج کون کرے گا؟بہت بیماریاں ہیں ہم میں جن کا فارما کو پیا میں ذکر ہے اور نہیں بھی ہے۔“آپ تو وہمی آدمی ہیں۔“نہیں وہمی نہیں ہوں سائنس کی ترقی کے ساتھ دواؤں میں بھی ترقی ہوئی ہے بیماریوں میں بھی ہوئی ہے ڈاکٹروں کی فیسوں میں بھی ہوئی ہے پہلے ایسی رنگارنگ ٹھنڈی میٹھی چار چار انچ لمبے ناموں والی بیماریاں کہاں ہوئی تھیں لوگوں کو کھانسی بخار وغیرہ ہوتا تھا حکیم کی دو پیسے کی دوا سے ٹھیک ہوجاتے تھے اب تین منٹ کے ڈیڑھ سو روپے دیتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔

“یہ تو زیادتی ہیں بعضے بچ بھی جاتے ہیں ہاں بعض قسمت والے بچ بھی جاتے ہین جسے اللہ رکھے اُسے کون ڈاکٹر چکھّے۔آپ نے اکثر ڈاکٹروں کی زبان سے یہ قول سنا ہوگا کہ آپریشن کامیاب ہوا مریض مرگیا۔لیکن اب تو دواؤں میں بہت ریسرچ ہوئی ہے کیمسٹ کی دکان پر جاکر دیکھیے طرح طرح کی رنگ برنگی گولیاں،کیپسول۔شربت۔جو وہ آج ہے کل نہیں ہے جو کل ہے پرسوں نہیں ہے۔

“ہاں بے شک سائنس کی ترقی کے تو ہم بھی قائل ہیں کہ اینٹی بایوٹک دوائیں بناکر دس لاکھ کی جان بچاتے ہیں اور ایک بم پھینک کربیس لاکھ کو نشٹ کردیتے ہیں اور دواؤں کا یہ حال ہے کہ جس طرح پہلے زمانے میں بعض مرض ایسے ہوتے تھے جن کی کوئی دوانہ ہوتی تھی اب سنا ہے ایسی دوائیں ہوتی ہیں جن کے لیے کوئی مرض ابھی تک نہیں نکلا۔جی یہ سب باتیں کمپی ٹیشن کی ہیں فری انٹر پرائز کی ہیں خیر یہ لمبی بحث ہے خدا کرے یہ بیماریاں ختم ہوں اور کوئی شخص بیمار نہ ہو۔

ایں دعا ازمن واز جملہ آمیں باد۔“آپ نے چور کی دعا سنی ہے چور کی دعا ؟راجہ مہدی علی خان کی نظم جس میں چور دست بہ دعا ہے کہ بندے یہ تیرے وقت عجب آن پڑا ہے یا مولا کتے کو سلادے چوکیدار کو بے ہوش کردے دروازے کی کنڈی کھول دے۔لیکن میں تو ڈاکٹروں کی بات کررہا ہوں آج ایک ڈاکٹر کے گھر سے گزرا ہوا کونین پینے گیا ہوگا۔یا ڈی ڈی ٹی کا پھینکا مارنے گیا ہوگا ارے بڑا چٹورا ہے تو مچھرخان ۔

“آپ بات تو سنئیے۔ڈاکٹر،،،کی بیٹی تقاضا کررہی تھی کہ ڈیڈی میرے کمرے میں الگ ٹیلی ویژن ہونا چاہیے جس میں صابن تیل کے اشتہار دل جمعی سے دیکھ سکوں ڈاکٹر صاحب نے کہا اچھا بیٹے ملیریا پھیل رہا ہے ایک نہیں دولادوں گا اب ان کی بی نی نے کہا کہ مجھے سونے کا جڑاؤ سیٹ چاہے ڈاکٹر صاحب بولے انفلوائنز کے لیے دعا کرو اللہ سب کی سنتا ہے اب صاحبزادے بولے مجھے کار چاہے ابا جی!سب ڈاکٹروں کے بچوں کے پاس ہے ڈاکٹر صاحب نے کہا اچھا بیٹے یہ تو رمضان ہی میں لے دوں گا لوگ تھالیاں بھر بھر افطاری کھاتے ہیں پھر پیٹ پکڑے دوڑے آتے ہیں۔

ہم نے کہا دیکھو میاں مچھر!یہ بحث ختم کرو اس میں ڈاکٹروں کی فیسوں کا ذکر آئے گا اور مریضوں کی غریبی کا ذکر آئے گا جو دس پانچ روپے خرچ نہیں کرسکتے میں کہوں گا علاج کا ذمہ حکومت لے لوگ کہیں گے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے یہ سارے مسائل آپ کو مبارک ہوں ہاں ڈاکٹروں کا علاج البتہ ہوسکتا ہے میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے۔“شاباش ہے ہمیں بھی دینا دہ کتاب لیکن کل اب بھاگ کہ ہمارے کالم کا وقت ہے اور پھر ہمیں گھی لینے جاناہے۔وہ کیوں؟“ارے ون یونٹ ٹوٹا ہے ناں چراغ جلائیں گے اصلی گھی کے نہ سہی مامتا والے کے سہی۔

Your Thoughts and Comments