Zaal

ذ

سہیل عباس خان بدھ جولائی

Zaal
ذ پیارے بچو ذ سے ذم ہوتا ہے، جس کا مطلب مذمت، ہجو، براء ہے۔ لیکن پاکستان میں ہر غلط کام کی صرف ہجو کی جاتی ہے، اسے اگر براء سمجھا جاتا اور اس کی ہر سطح پر مذمت کی جاتی تو آج پاکستان جاپان ہوتا۔ ذ سے ذمہ بھی ہوتا ہے اور الحمد للّٰہ پورا پاکستان نہایت ذمہ واری سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ ذ سے ذلیل کرنا ہوتا ہے، یہ ہمارا قومی مشغلہ ہے۔ ذ سے ذلت بھی ہوتی ہے، پاکستان میں عوام کو سہولت دی گئی ہے کہ وہ اسے زندگی کے ساتھ جوڑ کے خوش و خرم گزار سکتے ہیں۔

ذ سے ذریعہ بھی ہوتا ہے ، ہمارے ہاں اس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا اور سچ پوچھیں تو قائداعظم کی تصویر ہی ہمارا واحد ذریعہ ہے۔ ذ سے ذات شریف ہوتا ہے اور ہر ایسا لفظ جس کے ساتھ شریف آتا ہو ہم نے سائبر کرائم بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

ذ سے ذقن بھی ہوتا ہے، اسے چاہ ذقن بھی کہتے ہیں، پوری اردو شاعری میں شعرا کو جب بھی پیاس لگتی تھی اسی کنویں سے پیاس بجھاتے تھے۔

ذ سے پرانے قاعدے میں ذخیرہ تھا، لیکن اب نئے قاعدے میں اسے ذخیرہ اندوز کیا جا رہا ہے، آپ اپنی ہوم ورک کی کاپی میں اس کے ساتھ اپنی مرضی کی شوگر مل یا کسی بھی تاجر کی تصویر لگا کر آٹو گراف بھی لے سکتے ہیں، اور کسی مجید امجد کو پیسے دے کر اس پر نظم بھی لکھوا کر اپنے دوستوں سے داد طلب کر سکتے ہیں۔ ذ سے ذائقہ بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں کھانا پکانے والے کسی بھی گوشت کو اس طرح پکا سکتے ہیں کہ ذائقے میں وہ آپ کو چھوٹا یا بڑا گوشت معلوم ہو، ویسے سچ ہی تو کہتے ہیں ساری دنیا میں چھوٹا یا بڑا گوشت ہی ہوتا ہے، اب جانور کا نام بتانا کیا ضروری ہے۔

اور ویسے بھی ہم حرام جانوروں کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتے، بس انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ ذ سے ذوالحج یا ذوالحجہ ہوتا ہے، اس مہینے میں حج کیا جاتا ہے، باقی عالم اسلام میں اس میں قربانی دی جاتی ہے، جانور ذبح کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان چونکہ اسلام کا قلعہ ہے اس لیے یہاں ہر روز حج تو نہیں کیا جاتا البتہ قربانی ضرور دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے صرف ایک جانور کا استعمال کیا جاتا ہے جس کا نام عوام ہے۔

ذ سے ذہن بھی ہوتا ہے، بچپن میں ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ اسے استعمال کرنا ہے، لیکن جب ہم اسے استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو یہ ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ بچو اب یہ بات ذہن سے نکال دو۔ ذ سے ذوق بھی ہوتا ہے لیکن ہم نے تو صرف استاد ذوق کا نام سنا ہے، پاکستان میں فنون لطیفہ کے نام پر جو کچھ پیش کیا جارہا ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ذ سے ذل بھی ہوتا ہے، یہ زبر اور زیر دونوں سے ہوتا ہے، زبر والا صاحبان اقتدار کے لیے ہوتا ہے اور زیر والا عوام کے لیے۔

ذ سے ذرہ بھی ہوتا ہے، جسے توڑ کے سائنس نے اتنی بڑی ترقی کی۔ ہم نے سوچا ہم بھی کچھ ایسا کریں کہ پوری دنیا حیران رہ جائے، ہم نے ذرا کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنا لیا۔ اب آپ کو پاکستان میں ہر جگہ ذرا کی کرامات نظر آئیں گی، پوری دنیا ذرا کو تھوڑا، کم یا چھوٹا کے معنی میں لیتی ہے لیکن ہم اس کا استعمال بڑا کے معنی میں کرتے ہیں۔ ہمارے لیے ہر بات ذرا سی بات ہے، اور جب کوئی اس ذرا سی بات میں دخل دیتا ہے تو خواہ وہ عدالت عظمیٰ ہی کیوں نہ ہو ہم اسے کہتے ہیں جاوٴ ذرا خشکہ کھاوٴ، اور اس بیچاری کا ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔

ذ سے ذکر سے بھی ہوتا ہے۔ یہ زیر اور زبر دونوں کے ساتھ لکھا جاتا ہے، پرانی داستانوں میں اسے زیر سے شروع کیا جاتا تھا اور پھر متن میں زبر کے ساتھ اس کا استعمال مہارت سے کیا جاتا تھا، یہ کام اب اشرافیہ میں کیا جاتا ہے، سائبر کرائم والوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس کا تعلق شریف سے بالکل نہیں ہے۔ ذ سے ذی روح بھی ہوتا ہے۔ ما شاء اللہ پورا پاکستان ذی روح ہے، مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو، پیارے بچو اب اسی خوشی میں جاوٴ اور استاد کے لیے مٹھائی لے آوٴ۔

Your Thoughts and Comments