Zaiba Aur Naziba

زیبا اور نازیبا

جمعرات مارچ

Zaiba Aur Naziba

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
اگرچہ ہمارا فلموں سے کبھی تعلق نہیں رہا پھر بھی ہم جانتے ہیں جیسے کالجوں میں دو قسم کے شاگرد پائے جاتے ہیں شاگرد اور شاگرد شیخ رشیدایسے ہی الفاظ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک زیبا اور دوسرے نازیبا دنیا کے وہ ذخائز جہاں سے زیادہ نازیبا الفاظ ملتے ہیں وہ دماغ‘دھن اور ڈکشنری ہیں‘جبکہ زیبا الفاظ کے بارے میں کالعدم عالمی اردو کانفرس کے کنویز اداکار محمد علی ہم سے بہتر بتاسکتے ہیں تاہم نواب زادہ نصر اللہ کا یہ بیان پڑ ھ کر میں نے پی ڈی اے کے جلسے کے بارے میں شادی بیاہ جیسے الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ میں نے ساری زندگی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے یہ توقرین قیاس ہے کہ انہوں نے اپنی شادی پر الفاظ استعمال نہ کئے ہوں اسے ازدواجی اتحاد کہہ کر پکارا ہوگا لیکن ساری زندگی ایسے الفاظ استعمال نہ کرنے کا انہوں نے یوں کہا ہے کہ ہمیں لگا شادی بیاہ کوئی نازیبا لفظ ہے؟ ہمارے ہاں لڑکا لڑکی اپنے منہ سے شادی بیاہ کا لفظ نکالیں تو بزرگ آنکھیںچھاتی اور چھڑی نکال کر یوں پیچھے پڑجاتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی فحش لفظ کہہ دیا ہوگا صاحب ڈاکٹر ہونے کے ناطے سے ہم تو یہ جانتے ہیں دنیا میں صرف ایک لفظ فحش ہے جسے ہر کسی نے فحش کہا وہ لفظ ہے”فحش“ انگریزی میں شادی Marria age کہتے ہیں،اگرچہ انگریزوں نے شادی کے ساتھ ایج یعنی عمر لگادی ہے تاہم ایک صحافی نے الزیتھ ٹیلر سے پوچھا بندے کو آخری شادی کس عمر میں کرنی چاہیے اس نے کہا عمر کا تو پتانہیں البتہ آخری شادی بندے کو آخر میںکرنا چاہیے ہوسکتا ہے نواب زادہ صاحب کو یہ لفظ اس لئے پسند ہوں کہ اس میں بندے کو تین بار قبول ہے قبول ہے کہناپڑتا ہے یا ممکن ہے وہ شادی کو جہموری عمل سمجھتے ہوں کنگ ایڈورذ میڈیکل کالج میں اپنی طالب عملی کے دوران ہم نے ایک سروے کیا تھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے ڈکٹیٹرکا نام لکھیں جواب میں شادی شدہ خواتین میں سے کچھ نے اپنے خاوندوں کے نام لکھ دئیے تھے اگرچہ امریکی میں اتنی جہموریت ہے کہ وہاں گھروں میں بھی جہموری نظام چلتا ہے روز ویلٹ کے دور میں سینٹر لانگ ایک بار گھر آیا تو اس کی بیوی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فرینڈلی ہورہی تھی ،بوائے فرینڈ کھسکنے لگا تو بیوی بولی میرے خاوند جہموریت پر یقین رکھتے ہیں اس کمرے میں ہم دو ہیں اور وہ ایک سوا نہیں اکثریت کی بات ماننا پڑے گی خواجہ معین الدین صاحب نے تو جہموریت کی کمال تعریف کی ہے طلبہ سے پوچھا ہمایوں اور اکبر میں باپ کون تھا؟اگرچہ دونوں ہی باپ تھے اپنے بچوں کے بہر حال دس لڑکوں میں تین نے کہا ہمایوں اکبر کا باپ تھا بعد میں تاریخ نے بھی ثابت کیا ہے اور اکبر ہمایوں کا بھی باپ نکلا جہموریت اور مارشل لاءمیں وہی فرق ہے جو کنوارگی اور شادگی میں ہے نواب زادہ صاحب کی طرح ہم خود مارشل لاءکی مار سے شل ہے پیر پگاڑا تو ہیں نہیں جو مارشل لاءبھی یوں کہتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں مارشل لائ۔

(جاری ہے)


ہم اس سب کے باوجود شادی بیاہ کو نازیبا الفاظ میں شامل نہیں کرسکتے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے یہ لفظ نہیں پورا جملہ بمع جملہ حقوق ہے اگرچہ یہ جملہ دنیا میں سب سے کم مرتبہ جن کے منہ سے نکلا وہ شادی شدہ لوگ ہیں ویسے بھی عورتیں یہ بتانے کے لئے کہ وہ شادی شدہ ہیں انگوٹھیاں اور زیورات پہنتی ہیں جب کہ مرد اس مقصد کے لئے پچھلے سال کے کپڑے پہنے ہیں ہمارے ہاں محبت کا انجام شادی پر ہوتا ہے گویا شادی نہ ہوتی تو محبت انجام تک نہ پہنچتی جاری رہتی ایسے ہی جہموریت کی کوششوں کا انجام مارشل لاءپر ہی ہوتا ہے اگرچہ شادیوں کی ناکامیوں کی وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ زیادہ تر ان لوگوں کی شادیاں ہورہی ہیں جنہیں پہلے شادی کا تجربہ نہیں ہوتا حکومت کی ناکامیوں کی کیا وجہ ہے اس کی سمجھ میں نہیں آتی جہاں تک نواب زادہ صاحب کے شادی بیاہ کے لفظ استعمال نہ کرنے کی وجہ کا تعلق ہے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شادی کا مطلب خوشی ہوتا ہے اور نواب زادہ صاحب اگرچہ دیکھنے میں ایسے لگتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے ابھی ہنسائیں گے ہاتھ میں چھڑی پاجامہ پہننے اور عملی جامہ پہنانے کا شوق بٹوے قمیض اور منہ میں پان سر پر ترکوں کی ترک کی ہوئی ٹوپی لیکن بات سنجیدہ کرتے ہیں جیسے پگاڑہ صاحب سنجیدہ بات کردیں تو لوگ ان کی عیادت کو آنے لگتے ہیں ایسے ہی نواب صاحب کے منہ سے کوئی خوشی کی خبر سن لے وہ سب سے پہلے ماہر امراض کان ناک گلا سے کان چیک کرائے گا سو ہمیں یقین ہے کہ شادی بیاہ کے الفاظ نوابزادہ صاحب نے کہے ہی نہیں یہ مصطفی کھر صاحب کا بیان ہے جو غلطی سے نواب صاحب کے نام سے چھپ گیا۔

Your Thoughts and Comments