Zer E Tameer Aadmi

"زیرِ تعمیر آدمی"

جمعہ 10 فروری 2017

ارشد محمود:
یادِ عہدِ یوسفی میں قبلہ یوسفی صاحب کی معیت (ع پر زور دے کر) میں اپنا مختصر سا خاکہ تو نہیں خاکہ نما کہہ لیں۔
نام
نام کو چھوڑیں وہ تو سب نے پڑھ سن لیا ہوگا۔ اسکا مطلب دیکھیں اور پھر مجھے دیکھیں۔ "دیکھو جو دیدہء عبرت نگاہ ہو"۔ "ارشد" (نہایت ہدایت یافتہ) محمود (تعریف گیا گیا)۔ نام رکھنے والے کے ذہن میں اگر مانوم (پتہ نہیں یہ لفظ کب اردو ڈکشنری میں شامل ہوگا- مطلب جسکا نام رکھا گیا ہو) کے مستقبل کی حرکات واضح ہوں تو یقین مانیں بہتوں کے نام یکسر مختلف ہوں۔

ایسا ہی کچھ معاملہ میرے نام کے ساتھ بھی ہے، میرا نام میری شخصیت سے ہرگز لگا نہیں کھاتا۔ یقین مانیں اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ وہ تو میری آنجہانی چھوٹی پھوپھو(اللہ مغفرت فرمائے) انہوں نے کہیں سے سن کے چپکا دیا تھا۔

(جاری ہے)

جب سے سکول جا کے نام کے ہجے اور فیروز الغات میں معنی معلوم پڑے ہیں، مسلسل خود کو اونٹ کی طرح اپنے نام کے خیمہ میں بٹھانے کی سعیء رائیگاں میں ہوں۔


خاندان:
ماشاء اللہ بھرا پُرا خاندان ہے۔ اپنے ذاتی آدھ درجن سے زائد بہن بھائی ہیں۔ بہنیں بھائیوں کی نسبت ایک دانہ بڑھتی ہیں۔ ویسے وہ جسے خاندان بمعنی کاسٹ کہتے ہیں، لکھنے میں "راجپوت" اور عملآ خاندانِ "غلاماں" ہے۔ دادا جان انگریز کے غلام تھے، والد صاحب انگریز کے غلاموں کے غلام اور خود کو انگریز کے غلاموں کی تیسری پیڑھی کے زیرِ تسلط پاتا ہوں۔


تاریخ پیدائش:
یوں تو تارہخ ساز شخصیات دنوں، مہینوں یا سالوں میں نہیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن خانہ پْری کے لیے دو ذرائع سے متضاد معلومات کی روشنی میں موٴرخ اس ضمن میں شدید الجھن کا شکار ہیں۔ کیونکہ ہر دو ذرائع نے اپنے اپنے تئیں تحقیق کر کے میری جو تواریخ پیدائش زائچہ کی ہیں، دونوں میں کوئی 5 ماہ 21 دن کا ناقابل پاٹ فرق دَر آیا ہے۔

بمطابق سکول ریکارڈ 8 جولائی بشکریہ دادا جان مرحوم و مغفور جبکہ بمطابق والدہ محترمہ سخت جاڑے (ماہ پوہ) بروز جمعتہ المبارک صبح کاذب کے وقت انگریزی مہینے جنوری کی 15 کو زمین پر دے مارا گیا۔۔ سنہ پیدائش ایسا یادگار کہ بْھلائے نہ بْھولے۔ پہلی باقاعدہ انڈو پاک جنگ کا آغاز ہماری مسلمانیوں کی تقریفِ سعید کو رکوانے کی غرض سے ہوا۔ کافر کب چاہتے تھے کہ مجھ ایسی قد آور شخصیت مسلمانوں میں شامل ہو۔

کمینے دشمن نے عین رسم ختنہ پردازی جو بمباری شروع کی تو توپوں کی گھن گرج اور جنگی جہازوں کے شور میں ہماری صدائے احتجاج دب کر رہ گئی تھی۔ اور تماش بین رشتہ دار پکی ہوئی دیگیں چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف پسپا ہو گئے تھے۔
پیشہ:
آنکھ کھلی تو خود کو کسان گھر میں پایا، ہاتھ پاوٴں چلنا شروع ہوئے تو تجارت کا شوق چرایا، لڑکپن میں صحت سدھارنے کا سودا سر میں لیے کمپلیکس ہسپتال جا پہنچا اور اپنی دماغی صحت کی سلامتی کے پیش نظر محکمہ تعلیم کا رخ کیا اور آج مڑ کر دیکھتا ہوں تو بس سوچتا ہوں کہ میں ملازمت کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔

رگوں میں رواں راجپوت خون نے کبھی اچھا ماتحت نہیں بننے دیا۔ افسرانِ بالا کی محبت کے طفیل 5 سال سے کچھ اوپر کالا پانی (گلگت) کا سزاوار ٹھہرا۔ یہ اور بات کہ پانی نے مجھے دیکھ کر رنگ بدل لیا۔ انہی دنوں کے تحاف میں احسان شاہ، محبوب حسین عامر اور حبیب الرحمان مشتاق ہیں۔
پہچان:
کشادہ روشن ماتھا جسکی حدود کا تعین ڈیورنڈ لائن کی طرح مشکل اور منہ دھوتے ہوئے مشکل تر ہو جاتا ہے۔

سامنے سے آنے والے اگر ہیڈ لائٹس آن نہ بھی کریں تو ماتھے سے ریفلیکٹ ہوتی روشنی انہیں میرے ہونے کا پتہ دیتی ہے۔
رنگ:
ایک دم پکا، نصف صدی کی دھوپ بارش سے بالکل بھی خراب نہیں ہوا۔ دو عدد کانوں کے بیچ پھنسے گول چہرے پر ایک عدد کھڑی ناک جس کے نیچے کبھی پرشکوہ مونچھیں ہوا کرتی تھیں، جو 2014ء میں بڑے گھر پیشی کے وقت داڑھی سے بدل گئیں۔


قد:
اپنے قبلہ یوسفی صاحب کے قد میں سے 3 انچ جوتے کی ایڑھی کے منہا کریں تو انکے ساتھ کھڑا ہونے پر بآسانی انکے سر کے اوپر سے دوسرے کان کی موجودگی کو اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں۔
وزن:
پیٹ اور اس میں موجود اوجھڑی اور ہوا نکال کر گندم کی ایک بوری کا نصف ہوگا۔
جسامت:
ناٹوں میں لمبا اور لمبوں میں چھوٹا۔ اسی گومگو جسامت کے کارن 1980ء میں پاک فوج کا کمیشن مجھ سے یہی کوئی 3 انچ 2 کلو کے فرق سے محفوظ رہا۔

3 انچ لمبائی چوڑائی کی کمی بھی کوئی کمی ہوتی ہے بھلا۔ چڑھتی عمر میں چھاتی اور قد کا گھٹنا بڑھنا تو لگا رہتا ہے پر یہ بات غیر لچکدار فوجی دماغ میں کیونکر سما سکتی تھی، سو مجھے کلو وزن اور3 انج لمائی چوڑائی بڑھانے کے لیے 3 ہفتے کا وقت دیا گیا، جسے پورا کرنے کے لیے کوئی لگ بھگ 33 سال کا عرصہ لگ گیا۔ مجھے جلدی یوں نہ تھی کہ فوج بارے رائے عامہ کی تیبدیلی کو ہی تب محسوس کر لیا تھا۔


حُلیہ:
دَرویشانہ۔
پسند:
لسی (بلاتخصیص میٹھا و نمک)، پودینہ کی چٹنی، محفوظ فاصلہ سے عورت۔ پھولوں میں موتیا اور رات کی رانی۔ خوشبو میں مشک۔
جانوروں میں کتے کی وفا سے ایک عرصہ متاثر رہا۔ لیکن جب سے کتے نے انسان کی عادات اپنا لیں ہم نے بھی عہدِ کہیں اور استوار کر لیا۔ اور بکری کے شوہر سے ہفتہ میں ایک بار گہری پلیٹ میں گاڑھے شوربے کے ہمراہ معانقہ کا معاملہ طے کر لیا۔


چِڑھ:
خواتین کے سامنے بگڑتا مرد اور مردوں کے سامنے سنورتی عورت کے علاوہ جلی ہوئی روٹی۔
بچپن سے منیر نیازی کے مافق ایک وصف مستقل اپنائے رکھا۔ "ہرکام میں تاخیر"۔ بچپن میں دودھ چھوڑنے میں تاخیر۔ وہ یوں کہ گندم نے اپنے باوا جی کو جنت سے نکلوایا تو میں نے بھی اسے پورے پانچ سال دانت نہ لگایا تاوقتیکہ پڑوس میں مقیم عمر میں خود سے دوگنے دور کے کزن مشتاق بھائی مرحوم نے ایک چھترا (مست بکرا) صرف میرے لیے پالا جو اچھے خاصے آدمی کو ٹکر مار کے گرا دیتا تھا۔

خدا معلوم بکرے اور اسکے مالک کو میرے کھانے کی اوقات کا علم وکی لیکس سے ہوا یا پانامہ لیکس سے، وہ باجماعت عین کھانے کے اوقات ہمارے گھر آجاتے اور بکرے کے خوف سے مجھے دودھ کے بجائے گندم کھا کر گنہگار ہونا پڑتا۔ وقت کے ساتھ یہ عادت پختہ ہوگئی اور بکرے سے دشمنی بھی۔ اور آج بھی بکرے کی بوٹیاں کھا کر انتقام کی آگ کو بْجھا رہا ہوں۔ باقی رہا گناہ تو مجھے یقین ہے اللہ رحیم ہے، خوف میں سرزد گناہوں پر پکڑ نہیں کرتا۔


لڑکیوں کو چھیڑنے کی عمر میں بسیوں بار نہ چھیڑنے کی وجہ سے رسوائی ہوئی اور اب اسی کا دھڑکا لگا رہتا ہے سو اب جو چھیڑنا چاہے اسے منع نہیں کیا کرتا۔ کھیل کود کی عمر میں معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل پر توجہ دی، تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں کرکٹ اور فٹ بال سیکھا، اور شادی کی عمر میں تعلیم حاصل کی۔ یوں ہر کام میں تاخیر سے بڑھاپے میں جوانی کو پہنچا ہوں۔
اور بھری جوانی میں ابھی تعمیر ہو رہا ہوں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ "تری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی" سوبنتے بگڑ جاتا ہوں۔
دعا کیجے گا۔ آپ سے کہا ہے، جی جی ادھر ادھر نہ دیکھیں دعا کر دیں۔ جانتا ہوں آپ بھی کوئی حاجی ثنا اللہ نہیں ہیں۔ لیکن دعا کرنے میں کیا حرج ہے۔ اللہ تو سب کی سنتا ہے۔

Your Thoughts and Comments