Zikar Aik Pajamay Ka

ذکر ایک پاجامے کا

جمعرات اگست

Zikar Aik Pajamay Ka

محمد سر فراز
ایک شخص نے اپنے لیے نیا کُرتا پاجامہ درزی سے سلوایا ۔گھر آکر پہن کر دیکھا تو پاجامہ تین انچ بڑا تھا ۔وہ بڑا پریشان ہو اکہ دوسرے دن سفر پر جانا ہے اور پاجامہ لمبا ہے ،اتنا وقت بھی نہیں کہ درزی کے پاس جائے ۔وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا کہ میرا پاجامہ تین انچ لمبا ہے ۔ تم اسے درست کردو ۔بیوی بولی :” میں سارادن کی تھکی ہوئی ہوں ، کل کر دوں گی ۔

“پھر وہ شخص بیٹی کے پاس گیا تو اس نے بھی اسکول کے کام کا بہانہ کرکے انکار کردیا ۔وہ شخص اس پاجامے کو بہو کے پاس لے گیا تو وہ بولی :”میرے بچے کھانے کے لیے تنگ کررہے ہیں ،میں کھانا تیار کر رہی ہوں ۔“وہ شخص اپنی والدہ کے پاس گیا تو اس نے اپنی مصروفیات سے آگا ہ کیا ۔آخر وہ شخص مایوس ہو کر کمرے میں گیا ،پاجامہ کھونٹی پر لٹکا یا اور سوگیا ۔

(جاری ہے)

کچھ دیر بعد بیٹی کو ابا کا خیا ل آیا ۔سو چا ،کیوں نہ میں ابا کا پاجامہ ٹھیک کردوں ۔یہ سوچ کر اس نے تین انچ تک پاجامہ کاٹ کر سیا اور کھونٹی پر لٹکا دیا ۔جب بہو بچوں کو کھانا کھلا کر فارغ ہوئی تو اسے بھی سُسر ابا کاخیال آگیا۔ اس نے بھی تین انچ کم کرکے پاجامہ کاٹ کر دوبارہ سیا اور کھونٹی پر ٹانگ دیا ۔
اس شخص کی والدہ جب کام سے فارغ ہوکر سونے لگیں تو بیٹے کا چہرہ نگاہوں میں گھو م گیا ،بے چین کر اُ ٹھ بیٹھی ۔جا کر بیٹے کا پاجا مہ تین انچ کا ٹ دیا اور مطمئن ہو کر سو گئی ۔آدھی رات کو بیگم کی آنکھ کھلی تو اسے پاجامے کا خیا ل آیا ۔اس نے بھی تین انچ پاجامہ کم کیا اور سو گئی ۔صبح جب اس شخص نے دیکھا تو کھونٹی پر پاجامے کی بجائے نیکر نظر آئی وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا.

Your Thoughts and Comments