Zikar Onth Or Bilyo Ka

ذکر اُونٹوں کا اور بلّیوں کا!

ہفتہ جنوری

Zikar Onth Or Bilyo Ka
ابنِ انشاء:
کسی نگر میں کوئی شخص تھا ہم جیسا آ پ جیسا، اس کا کوئی کام بگڑا تو اس نے منت مانی کہ یا پیر جھنڈا اگر یہ کام روبراہ ہوجائے تو اپنا اونٹ خدا کی راہ میں کسی کو ایک ٹکے کے عوض دے دوں کرنا خدا کا اس کی مراد پوری ہوئی اب یہ حضرت چکنم میں اتنا بڑا اونٹ ایک ٹکے میں کیسے دے دوں ادھر جھنڈا پیرا کی خفگی کا بھی ڈر ایک لیڈر بھی ،بولے اے میاں غم نہ کر ایسا قانون چھانٹیں گے کہ تیرا نقصان بھی نہ ہوا اور منت بھی پوری ہوجائے گی جا ایک بلی کہیں سے پکڑکے لا وہ ایک خوفیاتی ہوئی مریک بلی لے آیا ان بزرگ نے فرمایا اسے اپنے اونٹ کے گلے میں باندھ باندھ دی فرمایا اب ان پر قیمتوں کی چٹ لگادے اونٹ پر ایک ٹکے کی اور بلی پر پانچ سو روپے کی پھر اعلان کردے کہ لوگو گھر لٹادیا ہے مال سستا لگادیا ہے شرط فقط یہ ہے کہ جو اونٹ کو خریدے گا اسے بلی مول لینی ہوگی دونوں جانوروں کا الگ الگ سودا منظور نہیں یہ ہمارے ہاں کا دستور نہیں۔

(جاری ہے)

معلوم نہیں اس عقیدت کیش کا الو سیدھا ہوا کہ نہیں یعنی اس کی بلی بکی کہ نہیں لیکن اس کے بعد سے اونٹ کے گلے میں بلی باندھنے کا رواج اور محارہ چل نکلا اس کی ایک مثال تو فارن ایڈیعنی غیر ملکی امدا د ہی کو جانئے کہ دینے والا اس طرح ایک ہاتھ سے دیتا ہے کہ دوسرے ہاتھ کو پوری پوری خبر رہتی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ اے بھتیجے پسماندہ خان۔۔۔۔۔یہ لے تھیلی غریب جان کر تیری مدد کئے دیتے ہیں کہ سخاوت اور خدا ترسی ہمیشہ سے ہمارے خمیر میں ہے لیکن اس رقم کو خرچ کرنے کی ترکیب تجھے کیا معلوم ہوگئی؟ہم اپنا مشیر بھیجیں گے اس کی تنخواہ اس تھیلی میں سے دیجیو جو مال باہر سے منگائیں وہ ہمارے ملک سے اور ہمارے ملک کے جہازوں میں منگائیو مہنگے سستے کی فکرمت کیجیو میاں پسماندہ خاں نے خوش خوش تھیلی لی اور تھینک یو یا سخی کار پھرپر الہرایا چند روز میں من کی آنکھ کھولی تو دیکھا کہ وہ تو موچی کا موچی ہے ہاں سخی داتا نے ہر طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اپنے پاؤں پھیلالیے ہیں او ر اپنا بندوبست دوامی رائج کردیا ہے اس کے بعد سے سمجھدار سا میاں شرط کرنے لگیں کہ چچا میاں تھیلی تو لیں گے لیکن اس کے ساتھ کوئی رسی ڈوریString وغیرہ نہیں چاہئے مرادیہی کہ رسی ہوگی تو اس کے دوسرے سرے پر ضرور کچھ نہ کچھ بندھا ہوگا بلی مشیر فارن پالیسی سی آئی اے فوجی اڈہ وغیرہ۔

پچھلے دنوں پھر ہمیں یہ محاورہ یاد آیا اسرائیل تابکار نے مسجد اقصیٰ کو آگ کیا دکھائی سارے عالم اسلام میں آگ لگ گئی دنیا بھر کی مسلمان آتش زیر پا اٹھ کھڑے ہوئے ہمارے ہاں بھی جلوس نکلے اور جلسے ہوئے مسئلے کے تقدس کا تقاضاتھا کہ پوری توجہ اس مرکوز ہے لیکن سیاس اور موقع شناس لوگوں نے یہاں بھی پنجابی محاورے کے مطابق اپنے اپنے لچ تلنے اور اردو محاورے میں اپنی اپنی بلیاں اس اونٹ کے گلے میں باندھنی شروع کیں اخباروں میں اعلان آنے لگے کہ آج کمپنی باغ میں جلسہ ہوگا جس میں مسجد اقصیٰ اور فلاں قفیے اور فلاں واردات پر احتجاج کیا جائے گا ہم نے کچھ اس قسم کی مناوی پر طرف سنی۔


۱۔آج شام کراچی دھوبی پنچائت کے جلسے میں مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی اور کلاسٹک سوڈے کی گرانی کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا جائے گا غیر دھوبی حضرات بھی شریک ہوسکتے ہیں۔
۲۔آج انجمن فلاح کورنگی کے جلسہ عام میں مسجد اقصیٰ کے بے حرمتی کارپوریشن کے عملہ صفائی کی زیادتیوں اور بھینسوں کو شہر بدر کرنے کے خلاف احتجاجی قرار دیں منظور کی جائیں گی۔


۳۔حضرت قبلہ فلاں نے پریس کا نفرس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی لامحدود ذاتی ملکیت میں کسی قسم کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا وغیرہ۔اور لوگوں کی مثالیں رو چھوڑدیجیے کہ محض برائے وزن بیت ہیں سیاسی مقدسین کی یہ شترگربگی اور مینگنیاں ڈال کر دودھ دینا خالی ازمصلحت نہیں اگر معاملہ مسجد اقصیٰ تک ہی رہے تو لوگوں کی توجہ عربوں کے کاز پر مرکوز ہوجائے گی لوگ مصر،شام،عراق،اردن اور الجزائر کے عربوں اوران کی حکومتوں کی ہمدردی میں گرفتار ہوجائیں گے محض اس وجہ سے کہ وہ اسرائیلی کے خلاف زندگی موت کی لڑائی لڑرہے ہیں بعض تو الفتح کے فدائی بھی بن جائیں گے جو برملاویت نامیوں وغیرہ کی تعریف اور تقلید کرتے ہیں یہ تو نہیں ہونا چاہیے اچھا لوگوں کو مسجد اقصیٰ کے نام پر جمع ہونے دو ہم اس میں اندرون ملک کے قصے اورباہمی قضیے کھینچ لائیں گے حتیٰ کہ حقیقت خرافات میں گم ہوجائے اصل مسئلہ ہی غتربورڈ ہوجائے۔

سب جگہ تونہیں لیکن بعض جگہ یہی ہوا مسئلہ مسجد اقصیٰ کا ہے خیال پارلیمنٹ کی ممبری میں انکا ہوا ہے نام کعبہ کا ہے اور راہ ترکستان کی ہے ستم موشے دایان نے کیا ہے اور عضہ مولانا عوام دوست پشاوری پر اتارا جارہا ہے ہمارے ایک دوست نے ہمیں ایک جلسے کا احوال آکر سنایا کہ مقرر خصوصی نے اپنی پاٹ دار آواز میں تفرمایا۔اے لوگو اے مسلمانو مسجد اقصےٰ کا جلایا جانا بڑے افسوس کی بات ہے یہ بہت برا ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن آجکل ظلم کہاں نہیں ہوتا فلاں شہر میں ایک جلسہ ہوا ہماری ہی پارٹی کا ایک جسلہ تھا کچھ لوگوں نے ہمارے ایک آدمی کے تھپٹر کھنچ مارا بھائی لوگو بالکل بے قصور بیچارے کی نکسیر پھوٹ گئی ارے تلخی بندھ گئی خون کی ساری قمیض لہولہان ہوگئی سارے پاجامے کا ستیاناس ہوگیا مجمع میں سے کسی نے آواز لگائی حضرت بات مسجد اقصیٰ کی ہورہی ہے مقرر نے پینتر ابدل کر کہا ہاں ہاں بھائی مسجد اقصیٰ ہمیں جان ستے عزیز ہم اس کے جلائے جانے کے ہرگز حق میں نہیں بلکہ سراسرخلاف ۔

برادران اسلام مسجد اقصیٰ کا بڑا درجہ ہے اور ہم نے ریزولیشن پاس کرکے اور ہڑتال کے ذریعے اپنے چلتے کارخانے دفتر اور کاروبار بند کرکے اسرائیل پر جو ضرب کاری لگائی ہے اس کے بعد وہ ایسی ناشائستہ حرکت نہ کرے گا اب رہا ہمارے آدمی کی نکسیر پھوٹنے کامعاملہ ارے ہمیں سمجھا کیا ہے ہم کفن بدوش آئیں گے کشتوں کے پشتے لگادیں گے خون کی ندیاں بہادینگے اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

Your Thoughts and Comments