Zindan Mazahiya Tehreer

زن دان مزاحیہ تحریر

بدھ مارچ

Zindan Mazahiya Tehreer

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا تھا یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بندے کو پسند تو خاتون کے گال کا تل آتا ہے مگر اسے شادی پوری خاتون سے کرنا پڑتی ہے۔ایسے ہی ہیں پسند تو بلجیم کی جیلیں ہیں اور تعریف ہم پورے بلجیم کی کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہاں اتنے جرائم ہوتے ہیں کہ لوگ اس ڈر سے پستول لے کر گلی میں نہیں نکلتے کہ کوئی چراکر نہ لے جائے لیکن وہاں جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ شرفاءکو جیل پہنچانے کا بھی انتظام ہے،سڑکوں پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ شہر میں آہستہ گاڑی چلائیں اور شہر کی سیر کریں۔

پھر جیلوں میں قیدیوں کو ہفتہ وار تعطیل ملتی ہے سنڈے کو آف ڈے ہوتا ہے،جس کے بعد ڈے آف رہتا ہے اس لئے وہاں بندہ جیل بھی یوں جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں دفتر جاتا ہے۔

(جاری ہے)

بلجیم کا موسم ایسا ہے کہ سب سے گرم وہاں عورت ہی ہے۔البتہ خاوند اتنے ٹھنڈے مزاج کے ہیں کہ بیویوں سے پوچھو کہ آپ نے کون کون سے گلیشیز دیکھے ہیں؟تو وہ جو نام لیں گی اس میں ان کے خاوند کا نام بھی شامل ہوگا۔

اگر وہاں گرمیاں ہوتیں تو ہمیں یقین ہے قیدیوں کو گرمیوں کی چھٹیاں ملا کرتیںلیکن اس کے باوجود وہاں کی جیلیں عبادت گاہوں کا منظر پیش کرتی ہے یعنی خالی رہتی ہے۔ بلجیم حکومت لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے نت نئے اعلانات کرتی رہتی ہے گذشتہ دنوں انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قیدی اپنی بیویاں بھی رکھ سکیں گے۔
صاحب!جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتا یقین کریں وہ غیر شادی شدہ ہے اور بلجیم میں تو بقول آسکروائلڈ کنوارے شادی شدوں کی طرح رہ رہے ہیں اور شادی شدہ اتنے رہ نہیں رہے جتنے رہ گئے ہیں۔

عورت کے وہاں اتنے حقوق ہیں کہ مرد کو صرف یہ حق ہے کہ وہ مستحق ہے عورتوں کی دو زبانیں ہیں ایک فرانسیسی اور دوسری ولندیزی۔حالانکہ عورت کو بولنے کے لیے ایک زبان ہی کافی ہوتی ہے وہاں تو گھر میں عورت ہی خاوند ہوتی ہے۔ سو ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ قیدیوں کو بیویاں ساتھ رکھنے کی سہولت دی گئی ہے یا یہ سزا ہے۔ممکن ہے پولیس کو یہ شک ہوا ہو کہ وہاں مرد جرم صرف کرتے ہی اس لئے ہیں کہ جیل جاکر بیوی سے دور رہنے کا موقع ملے گا۔

گھر اور جیل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ وہ مکان جس میں بیوی ساتھ نہ ہو جیل کہلاتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے جیلیں خالی پڑی رہنے کی وجہ سے حکومت انہیں گھر بنانا چاہ رہی ہو۔ بلجیم میں کرسی پر بیٹھ کر کرنے والے کام عورتیں کرتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہاں کسی دفتر کے مالک سے پوچھو آپ کے ہاں کتنی عورتیں کام کرتی ہے؟کہے گا ہر دس میں سے ایک “ ”اسی لئے ہمارے ہاں ہسپتالوں میں یہ شکایت ہوتی ہے کہ یہاںڈیلیوری کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں ایسی شکایتیں ڈاکخانوں میں بھی ہوتی ہے وہاں کے گھروں کا ماحول ایسا ہی ہے جیسے ایک صاحب حبیب جالب صاحب کے گھر گئے۔

جالب صاحب کی بیوی نے کہا وہ تو گھر نہیں آئے۔وہ صاحب بولے مگر مجھے تو وہ ابھی یہ کہہ کر آئے تھے کہ میں جیل جارہا ہوں۔شاید اسی لئے شادی کو عمر قید کہتے ہیں۔ایک غیر ملکی دانشور کہتاہے شادی میں ایک آقا ایک ملکہ اور دو قیدی ہوتے ہیںجن کا ٹوٹل دو بنتا ہے۔ بلجیم کی ایک شاعرہ سے کسی نے پوچھا آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟اس نے کہا میرے گھر میں ایک کتا ہے جو ہر وقت غراتا ہے آتش دان ہے جو ہر وقت دھوں دیتا ہے طوطا ہے جو دن رات مجھے برا بھلا کہتا ہے۔

اور ایک بلی ہے جو اکثر رات کو گھر نہیں آتی اب بتاﺅ میں کس لیے شادی کروں۔جیلیں انسان کو سزا دینے کے لئے ہیں اور سزا یہ ہے کہ آپ کووہ کچھ نہ دیا جائے کو بے آرام کرے۔شاید بلجیم حکومت اسی لئے بیویاں ساتھ رکھ رہی ہے ویسے بھی اتنی تکلیف اور اذیت کوڑے پڑنے سے نہیں ہوتی جتنی یہ سوچ کر ہوتی ہے کہ مجھے کوڑے پڑرہے ہیں۔مشتاق احمد یوسفی کے عبدالودود بیگ کسی پہاڑی مقام پر ہوٹل میں کمرہ لینے گئے تو سامنے یہ لکھا دیکھا ہوٹل ہذا میں آپ کو گھر کا ماحول ملے گا“تویہ کہہ کر واپس آگئے کہ اگر گھر کا ماحول ہی چاہئے تھا تو پھر ہمیں پہاڑی مقام پر آنے کی کیا ضرورت تھی؟سو لگتا ہے جیلوں میں گھر کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں یوں زندان کو زن دان بنایا جارہا ہے ویسے ہمیں اس کی سمجھ نہیں آئی کہ اس کے بعد سے بلجیم میں جرائم کی شرح میں کمی کیوں ہونے لگی ہے۔

Your Thoughts and Comments