Zoaad

ض

سہیل عباس خان پیر جولائی

Zoaad

ض

پیارے بچو

ض کو ایسے پڑھو جیسے دعا مانگتے ہو، یہ عربی انداز ہے، کبھی عرب ہم سے مانگتے تھے اب ہم ان سے مانگتے ہیں۔ ض سے ضمیر ہوتا ہے، جو مدت سے سویا ہوا ہے، ستو پی کے، ویسے تو بھنگ بھی پی کر سو سکتا تھا لیکن اس سے رنگ میں بھنگ پڑ سکتی تھی۔ ہمارے ہاں جو چیز سب سے زیادہ بکتی ہے وہ ضمیر ہے۔ ض سے ضد ہوتی ہے، جسے ہٹ بھی کہتے ہیں، تین ضدیں مشہور ہیں، راج ہٹ، بالک ہٹ اور تریا ہٹ۔

یعنی بادشاہ کی ضد، بچے کی ضد اور عورت کی ضد۔ اگر یہ تینوں آپ نے اکٹھی دیکھنی ہوں تو ٹویٹر پر تشریف لائیں۔ ض سے ایک صدر کا نام بھی بنتا ہے جو ہمیں آموں کے موسم میں بہت یاد آتا ہے۔ پیارے بچو ہمارے زمانے میں ض ضعیف ہوتا تھا اور اس کے ساتھ تصویر بھی بنی ہوتی تھی، پھر بھی بتانا پڑتا تھا کہ یہ بڈھا آدمی ہے۔

(جاری ہے)

اب روایت ضعیف ہوتی ہے۔ جو سیاست دان ضعیف ہو جائے اسے بزرگ کہتے ہیں بلکل اسی طرح جیسے امریکہ کو ایران شیطان بزرگ کہتا ہے۔

ض سے ضبط بھی ہوتا ہے، ہمارے ہاں یہ صرف کتابوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کبھی کبھی یہ ربط کے ساتھ مل کر ربط ضبط بن جاتا ہے جسے میل ملاپ بھی کہتے ہیں، جب خود ہی ملاپ کا موقع دیتے ہیں تو پھر ضبط تولید کا مشورہ کیوں دیتے ہیں، ویسے مشورہ مشورہ ہی ہوتا ہے، ہم نے کون سا اس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ پیارے بچو ض سے ضابطہ فوجداری بھی ہوتا ہے، تعزیرات کا مجموعہ بھی کہتے ہیں، اس میں تعزیر صرف عوام کے لیے ہوتی ہے، ویسے تو ضابطہ اخلاق بھی ہوتا ہے لیکن یہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا۔

ض سے ضمانت بھی ہوتی ہے، یہ کروائی بھی جاتی ہے اور ضبط بھی ہوتی ہے، اس لئے اس کا تعلق ضیافت سے بنتا ہے جو سنا ہے اْڑائی جاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے افلاطون کی ضیافت مشہور ہے۔ ض سے ضلع بھی ہوتا ہے، پہلے اس کا تعلق تحصیل کے ساتھ ہوتا تھا، اب جگت کے ساتھ ہے۔ ض سے ضخامت بھی ہوتی ہے، اس کا استعمال کمیشن والے کرتے ہیں جب بھی کوئی رپورٹ بنانا ہو، اس وجہ سے کہ وہ ضخیم ہوتی ہے، اسے عوام سے دور رکھا جاتا ہے۔

ض سے ضم ہوتا ہے، جب ایک چیز کو دوسری چیز میں ڈالیں تو اسے ضم کرنا کہتے ہیں، پھر یہ خود ہی ہو جاتی ہے اس لئے اس میں ذم کا پہلو بھی ہے۔ ض سے ضمنی بھی ہوتی ہے، یہ الیکشن سے شروع ہو کر تھانے تک جاتی ہے۔ کچھ لوگ فیس بک پر ضمنی بیوی بھی تلاش کرتے ہیں۔ پیارے بچو اگر تم میں سے کسی کو ضروری کام آئے تو اپنی چھنگلی اوپر کر دیا کرو۔ شابش شابش

Your Thoughts and Comments