ٹائم اینڈ سپیس ٹائم

ویلوِٹ کے ایک ٹکڑے کے کونے پکڑ کر کھینچیں، اب اگر کوئی چیز اس کپڑے پر پھینکیں گے تو کپڑے میں گڑھے پیدا ہونگے اور چیزیں لڑھک کر گہرے گڑھوں کی طرف جانے لگیں گی۔ یہ ہے آئن سٹائن کی گریوٹی کی شکل

Idrees Azad ادریس آزاد بدھ نومبر

Time and spacetime

یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ آئن سٹائن کو ملنے والا نوبل پرائز، آخر اسے اضافیت کی بجائے فوٹو الیکٹرک ایفکٹ پر کیوں دیا گیا؟ واقعہ یوں ہے کہ چھ اپریل 1922ء کے روز آئن سٹائن اور اپنے وقت کے عظیم فرانسیسی فلسفی برگسان کے درمیان ایک مناظرہ ہوا تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس مناظرہ کے بعد نوبل پرائز کمیٹی کے صدر نے کہا:
’’اب چونکہ آئن سٹائن کے نظریہ پر برگسان نے اعتراض کر دیا ہے۔ اس لیے نوبل پرائز، اضافیت پر نہیں دیا جا سکتا۔‘‘
یوں گویا آئن سٹائن کو اس کا اصل نوبل پرائز نہیں دیا گیا بلکہ متبادل راستہ تلاش کر کے، فوٹو الیکٹرک ایفکٹ اور براؤنین موشن پر دے دیا گیا۔ جس پر آئن سٹائن اتنا جِز بِز ہوا کہ اس نے اپنی نوبل سپیچ میں بجائے فوٹو الیکٹرک پر بات کرنے کے پورا وقت اضافیت کو دے دیا اور یوں گویا آئن سٹائن نے زبردستی یہ جتانے کی کوشش کی کہ یہ نوبل پرائز فی الحقیقت اضافیت پر ہی ہے۔

(جاری ہے)


آخر برگسان نےآئن سٹائن کے ’’زمانے‘‘ (Time) پر کیا اعتراضات کیے تھے؟ کیا برگسان اب زندہ ہوتا تو وہ آئن سٹائن کے نظریات کی صداقت دیکھ کر تسلیم کر لیتا کہ فی الواقعہ وہ یعنی برگسان خود اپنے نظریہ زماں میں غلط تھا؟ بعض لوگوں نے تو اس مناظرے کے بعد ٹائم کو دو الگ الگ صورت ہائے حال میں تقسیم کرکے دیکھنا شروع کر دیا۔ نمبر ایک، نفسیاتی زمانہ، نمبر دو طبیعاتی زمانہ۔
ٹائم جو ایک تجربے کا نام تھا، آئن سٹائن کی گریوٹی میں آ کر ایک شکل (Shape) کا نام بن گیا۔ ایک ایسا مواد جو لچکدار ہے۔ اس میں مادے کی وجہ سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔ وادیاں، دراڑیں، بھنور، موجیں، اونچی نیچی سطحیں، قوسیں، سیدھی لکیریں، ٹیڑھی لکیریں غرض ہرطرح کی جیومیٹری کی اشکال آئن سٹائن کی سپیس ٹائم فیبرک میں پائی جاتی ہیں۔ سپیس ٹائم فیبرک کا اتنی شدت کے ساتھ مادی شکل اختیار کر لینا بہت ہی غیر فلسفیانہ سی بات ہے۔ دوبارہ کہوں گا کہ ’’ٹائم تو ایک تجربے کا نام تھا‘‘، لیکن اب یہ ایک لچکدار کپڑے کا نام ہے۔ ایک ایسا کپڑا جس کی بُنائی میں لچکدار (ربڑی) دھاگہ استعمال ہوا ہو، وہ کھینچنے پر پھیل جاتا ہے اور چھوڑنے پر واپس اپنی اصلی شکل میں آ جاتاہے، جیسے کہ ویلوِٹ۔
آپ ویلوِٹ کا ایک ٹکڑا اپنے دو دوستوں کو اس طرح پکڑائیں کہ انہوں نے دو دو کونے پکڑ کر کھینچ رکھے ہوں۔ کپڑا تن جائیگا۔ اب اگر آپ کوئی چیز اس کپڑے پر پھینکیں گے تو کپڑے میں لچک کی وجہ سے گڑھے سے پیدا ہونگے۔ زیادہ چیزیں پھینکنے سے زیادہ گڑھے پیدا ہونگے اور چیزیں لڑھک لڑھک کر گہرے گڑھوں کی طرف جانے لگیں گی۔ یہ ہے آئن سٹائن کی گریوٹی کی شکل۔ یہ تمام اجرامِ فلکی ایسی ہی لچکدار فیبرک میں لڑھکتے، پھسلتے، تیرتے پھر رہے ہیں۔ سورج زمین سے زیادہ بھاری ہے اس لیے سپیس ٹائم فیبرک میں سورج کا گڑھا زیادہ گہرا ہے اور زمین کا کم گہرا ہے۔ چاند کا زمین سے بھی کم گہراہے۔ زمین سورج کے گڑھے کی اندرونی دیواروں کے ساتھ چپک کر دوڑ رہی ہے اور چاند زمین کے گڑھے کی دیواروں کے ساتھ چپک کر دوڑ رہا ہے، جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلاتا ہوا بازی گر۔
سپیس ٹائم فیبرک میں ایک عجب کرشمہ یہ ہے کہ یہ مادے کی وجہ سے اپنی شکل بدلتی ہے۔ بالکل مادی آبجیکٹ کے مطابق شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ایسے جیسے کوئی سانچہ ہوتا ہے۔ یعنی سپیس ٹائم فیبرک میں زمین دراصل کسی سانچے میں دھری ہے۔ جیسی زمین کی شکل، ویسی آس پاس کی فیبرک کی شکل۔ اب کرشمے والی بات یہ ہے کہ سپیس ٹائم فیبرک کی اس طرح کی شکل مادے کو بھی اپنی شکل بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یعنی وہ مادہ جس کی وجہ سے سپیس ٹائم میں گڑھا پڑ گیا تھا اب اس گڑھے کی وجہ سے اپنی شکل بدلنا شروع کرتا ہے۔ تمام اجرامِ فلکی بالآخر اسی لیے گول ہو جاتے ہیں کہ وہ اندر کی طرف مسلسل لڑھکتے اور دبتے رہتے ہیں۔ تنے ہوئے کپڑے پر پھینکے گئے پتھر کے ٹکڑے زیادہ گہرے گڑھے کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں اور بالآخر زیادہ گہرے گڑھے میں جمع ہی نہیں ہو جاتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر رہنے لگتے ہیں۔ یہ سارے سیارے، ستارے، کہکشائیں ایسے ہی وجود میں آئے ہیں۔ تنے ہوئے کپڑے پر لڑھک لڑھک کر۔ یعنی سپیس ٹائم مادے کی شکل بدلتی ہے اور مادہ سپیس ٹائم کی شکل بدلتا ہے۔ گریوٹی کسی قسم کی کشش نہیں بلکہ تنے ہوئے کپڑے پر زیادہ گہرے گڑھے کی طرف لڑھک جانے کا نام ہے۔ خلا میں اگر کوئی مادہ نہ ہو تو تنا ہوا کپڑا بالکل سیدھا یعنی فلیٹ ہوگا۔ پھر اگر اس میں کوئی ستارہ رکھ دیا جائے تو جیسی اس ستارے کی شکل ہوگی، سپیس ٹائم فیبرک میں ویسی شکل کا ایک سانچہ پیدا ہو جائیگا۔ یہ سانچا صرف نیچے کی طرف پیدا نہ ہوگا جیسے ہم زمین پر تنے ہوئے کپڑے کی مثال میں دیکھتے ہیں، بلکہ یہ سانچا ستارے کے چاروں طرف بن جائیگا۔ کیونکہ سپیس ٹائم فیبرک تو ہر جگہ ہے، کسی سمندر کی طرح۔ اور ستارے سیّارے اس سمندر میں آبدوزوں کی طرح ہیں۔ اپنے چاروں طرف پانی کو ڈیفارم کرتی ہوئی آبدوزیں۔
یہ ساری تصویر تو ایک ’’شکل‘‘، ایک شباہت ایک جیومیٹری کی ہے۔ جیومیٹری کا وجود تو مادی آبجیکٹس کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ ٹائم کا ایسی شکل Shapeسے کیا تعلق؟ آئن سٹائن کی سپیس ٹائم فیبرک، مکان کی تین ابعاد اور زمانے کی چوتھی بعد سے مل کر بنتی ہے۔ زمانے کی بعد مکان کے ساتھ کیسے مل گئی؟ یہ بڑا عجیب و غریب سوال ہے۔ زمانہ (ٹائم) ایک خالصتاً موضوعی سے ایک خالصتاً معروضی تجربے میں کیونکر بدل گیا؟
سٹرنگ تھیوری نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ سٹرنگ تھیوری کے بقول گریوٹی کے بھی ذرّات ہوتے ہیں، جنہیں گریوٹان کہا جاتاہے۔ یہ ذرّات ایسی ڈائمینشنز میں پائے جاتے ہیں جو سپیس ٹائم فیبرک کے ظاہری میڈیم (واسطے) میں فقط تین ابعادِ مکانی اور ایک بعدِ زمانی کی صورت ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن فی الحقیقت ان سے بلند تر ڈائمینشنز کا وجود بھی ہے۔ گریوٹانز کا میڈیم وہ بلند تر ڈائمینشنز ہیں۔ جیسے روشنی کا میڈیم ہماری سپیس ٹائم فیبرک ہے اور روشنی کے ذرّات یعنی فوٹانوں کا میڈیم بھی ہماری سپیس ٹائم فیبرک ہی ہے، ویسے ہی گریوٹانز کا میڈیم اَگلی ڈائمینشنز میں موجود ہے۔ پانچویں ڈائمینشنز میں امکانات کی لامنتہا لائنیں ہیں، جنہیں ہم ٹائم لائنز، پرابیبلٹی لائنز وغیرہ کے ناموں سے جانتے ہیں۔ پانچویں ڈائمینشن میں موجود شخص کے لیے سپیس ٹائم فیبرک میں موجود تمام امکانات کی لکیریں ایسے ہیں جیسے اُس کی ہتھیلی کی لکیریں۔ وہ ہر مادی شے کے آغاز سے انجام تک، تمام ٹائم لائنوں سے یوں واقف ہے جیسے کوئی کسی ایک حرف سے واقف ہو۔ فقط ایک حرف، جیسے ’’بی ‘‘ B۔
مکان کی جہات جوں جوں گمبھیر ہوتی جاتی ہیں گریوٹانز کو چھپنے کے لیے تُوں تُوں زیادہ نفیس میڈیم میسر آتا جاتا ہے۔ ہماری سپیس ٹائم میں پیدا ہونے والے گڑھے انہی گریوٹانز سے پیدا ہونے والی گریوٹی کی نہایت سادہ مثال ہیں۔ تھری ڈی میں اِن کی مینی فیسٹیشن اِسی طرح ہی ممکن ہے۔ مکان کی تین ابعاد کے ساتھ زمانے کی چوتھی بعد ملاتے ہیں تو امکانات کا وجود جنم لیتا ہے۔ امکانات کا وجود حقیقی ہے لیکن ان کے استشہاد کا امکان فقط برتر شعور میں پایا جاتا ہے، غرض ٹائم خالصتاً موضوعی تجربہ ہے جو موجود اور ظاہری کائنات میں ایک معروضی تجربے کے طور پر اپنا اظہار کرتا ہے۔ بایں ہمہ موجودہ کائنات کا سارے کا سارا معروض فی الحقیقت فقط موضوعی تجربہ ہی ہے۔

اسلام آباد کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

Time and spacetime is a khaas article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 November 2017 and is famous in khaas category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.