عورت مارچ کے خلاف

انسان کبھی آزاد نہیں ہوتا وہ غلام رہتا ہے اپنی سوچ کا اپنی خواہشوں کا اور پابند ہے اپنی بھوک اور سانس کا - ذرا سوچئے کیا ایسا کرنے سے ہماری آزادی چھن جاتی ہے؟ آدم وحوا کی حقیقی آزادی خدا کے حکم پرعمل میں پوشیدہ تھی خدا کا حکم تھا جو چاہو کرو

Neel Ahmed نیل احمد جمعرات مارچ

Aurat March K Khilaf
انسان کبھی آزاد نہیں ہوتا وہ غلام رہتا ہے اپنی سوچ کا اپنی خواہشوں کا اور پابند ہے اپنی بھوک اور سانس کا - ذرا سوچئے کیا ایسا کرنے سے ہماری آزادی چھن جاتی ہے؟  آدم وحوا کی حقیقی آزادی خدا کے حکم پرعمل میں پوشیدہ تھی خدا کا حکم تھا جو چاہو کرو اور جیسے چاہو رہو مگر شجرہ ممنوعہ (نیک و بد کی پہچان کا درخت) کا پھل نہ کھانا ورنہ آزادی سے محروم کر دیے جاؤ گے مگر شیطان کے بہکاوے (اگر تم نے یہ پھل کھا لیا تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے لیے اچھے برے کا فیصلہ کرنے میں خدا کے محتاج نہ رہو گے) میں آکر نافرمانی کی اور آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھے دراصل آدم و حوا اس امر میں تو آزاد تھے کہ وہ خدا کی نافرمانی کریں گے یا نہیں مگرچونکہ شجر ممنوعہ اس علامت کا غماز تھا کہ  انسانوں کے لیے اچھا کیا ہے اور برا کیا اور چونکہ خدا مہربان ہے اور اس کے حکم سے ظاہر ہے کہ صرف وہی جانتا ہے کہ انسانوں کے لئے اچھا کیا ہے اور برا کیا اسی لیے اچھائی اور برائی کا معیار قائم کرنے کا حق خدا نے اپنے پاس رکھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے روز اول سے ہی آزادی کی حدود متعین کر دی تھی یعنی آدم و حوا کی حقیقی آزادی شجر ممنوعہ سے دور رہنے میں مضمر تھی جیسا کہ خدا نے واضح کردیا تھا کہ نافرمانی کی صورت میں اپنےاچھے اور برے کا فیصلہ تم پر چھوڑ دیا جائے گا اورچھوڑ دیا گیا، اب ہم گناہ کے غلام ہیں، گناہ کے چنگل سے نکل کر ہی حقیقی آزادی کو پا سکتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر صحیح فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ، اکثر ہمارے فیصلوں کے نتائج غلط ہوتے ہیں ہمیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارا فیصلہ صحیح ہے یا غلط اب اگر آپ سوچ رھے ہیں کہ آپ کو ایسی آزادی مل جائے جس میں کوئی قدغن یا حدود نہ ہو تو یہ ناممکن ہے ۔

(جاری ہے)

"دی ورلڈ آف انسائیکلوپیڈیا میں درج ہے کہ ہر منظم معاشرے میں بہت سے پیچیدہ قوانین اس لئے بناۓ جاتے ہیں کیونکہ ایسے قوانین کی بدولت لوگوں کی آزادی کا تحفظ کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس آزادی پر حدیں بھی لگائی جاتی ہیں تاکہ افراد ایک  دوسرے کی آزادی میں مخل نہ ہوں" مساوات اور آزادی کے تصور نے عورت کو معاشی استقلال کے ساتھ اس بندھن سے بھی آزاد کردیا جو مذہب اور ثقافت کی وجہ سے موجود تھے غرض کے عورت شمع محفل اور تشہیری مہم کا اہم جز بن کر رہ گئی – اوپر سے تحریک نسائیت نے ظلم ڈھایا کہ معاشرے میں جنسیت کے اعتبار سے مرد و عورت میں امتیازی سلوک کے خلاف عورت نے آواز اٹھائی تو اسے مرد کے مد مقابل لا کھڑا کیا اور وہ یہ سمجھ بیٹھی کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کرتے ہیں اور عورت مرد کے بغیر کامیاب زندگی گزار سکتی ہے جبکہ غور کیا جائے تو ہر پڑھا لکھا اور انسانیت پر یقین رکھنے والا فرد عورت کو معاشرے میں برابری کا حق دیتا ہے اور اسلام میں پہلے ہی مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کئی معاملات میں زیادہ حقوق سے نوازا گیا ہے - مرد سے علیحدگی مسئلے کا حل نہیں بلکہ معاشرے میں سماجی انصاف قائم کرنے کے طریقوں اورعورت کے تحفظ کے نام پر بننے والے قوانین کی ہنگامی بنیادوں پر سختی سے عمل داری کی ضرورت ہے ۔


 ہم سب نے دیکھا اور پڑھا سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے حوالے سے لوگوں نے کیا تاثرات قائم کیے اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے عورت مارچ کے حوالے سے مضامین تحریر کئے اور اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا جس میں کسی نے بہت زیادہ جذباتیت سے کام لیا اور کوئی بہت زیادہ جانبدار نظر آیا جبکہ کسی نے بھی مسلہ کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور اگر وہ سمجھے بھی ہیں تو اس مسئلے کا کوئی حل تجویز نہیں کیا گیا ۔

میں عورت کے حقوق کی علمبردار ہوں اور مجھے بحیثیت شاعرہ و ادیب آٹھ مارچ کو ہونے والی کانفرنسز مدعو کیا گیا جہاں صرف مسائل کے انبار گنواۓ گئے مگر تجاویز یا مسلہ کا حل پیش نہیں کیا گیا ۔ آخر آپ کتنے قوانین اور کتنی جیلیں بنائیں گے؟ کتنے مردوں کو جیلوں میں بند کریں گے؟  کتنی خواتین کو مردوں کی بد نیتی اور بدفعالی  سے محفوظ کر سکیں گے؟  یہ مسائل بڑھتے رہیں گے جب تک کہ روزمرہ پیش آنے والے حادثات و واقعات کا ہنگامی بنیادوں پرحل تجویز نہ کیا جائے ، میں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا  ہےکہ یہ تمام مسائل جو کہ زیر بحث آ رہے ہیں ان کا سنجیدگی سے حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔

  میں اپنی تجاویز پیش کرنے سے پہلے یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستانی خواتین کو کون سے حقوق سے نوازا گیا اور وہ کون سے حقوق ہیں جن کا مطالبہ 8 مارچ 2019 کو کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ 8 مارچ 2019 کی عورت مارچ کے مطالبات یا حقوق  سے ہمارے معاشرے کے ہر طبقے کے افراد نے کیا تاثرات قائم کیے اور یہ لوگ انھی مطالبات کی روشنی میں 2020 کی عورت مارچ کے متوقع مطالبات کس طرح سوچ اور پیش کر رہے ہیں - یہ بھی کہنا چاہتی ہوں اگراس مارچ میں موجود فکری رجحان کو صحیح سمت نہ دی گئی تو ہماری آئندہ نسلیں جنھیں واٹس اپ اور ٹچی جنریشن کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی اپنے مذہبی اور تہذیبی ورثے سے دور ہوچکی ہے اور ہر قسم کے کام کے لئے سوشل میڈیا کی محتاج ہے اور جس کے ایقان اور خیالات سوشل میڈیا کی معلومات کے ساتھ ہی ریفریش ہوتے رہتے ہیں جو مغربی تقلید  پر فخرمحسوس کرتی ہے اور صبر و برداشت کا مادہ نہیں رکھتی تو ایسی نسل کو اپنی مذہبی تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے قریب لانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہماری آئندہ نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی اور ہمارے پاس سوائے لکیر پیٹنے کے کچھ باقی نہ بچے گا
"حقوق جو حاصل ہوئے / کئے"
آزادی رائے کا حق
 آزادی خیالی کا حق
خودکفیلی کا حق
 من پسند لباس پہننے کا حق
 وراثت میں حصے کا حق
 من پسند شادی کا حق
 استقاط حمل کا حق
 جسم فروشی اور ہم جنس پرستی کے قانونی تحفظ کا حق
 جبری یا کم عمری کی شادی میں تحفظ کا حق
 ووٹ ڈالنے کا حق
آبروریزی سے تحفظ کا حق
(یاد رہے کہ یہ حقوق ہر طبقے کی خواتین کو میسر نہیں)
حقوق جو عورت مارچ 2019 میں مطالبہ کئے گئے
(ہمارے معاشرے نے ڈسپلے بینرز سے جو تاثرات و گمان قائم کیے، حاضر ہیں)
سگریٹ پینے کا حق
 چھوٹے کپڑے پہننے کا حق
 اپنے جسم کو جیسے چاہیں جہاں چاہیں استعمال کرنے کا حق
 گریبان نیچا کرنے کا حق
 ٹھٹھے لگا کر ہنسنے اور چلا کر بات کرنے کا حق
 ٹانگیں پھیلا کر بیٹھنے کا حق
 مردوں سے دوستی کا حق
 رات بھر باہر رہنے کا حق
 گالی دینے کا حق
 آوارہ گردی کا حق
 نکاح کا رواج ختم کرنے کا حق
 بھاگ کر یا چھپ کر تعلق قائم کرنے کا حق
 دوپٹہ اتارنے کا حق
 حجاب سے نفرت کا پیغام پھیلانے کا حق
 ہم جنس پرستی کا حق
 والدین سے بغاوت کا حق
 کسی کو اپنے سامنے کچھ نہ سمجھنے کا حق
 بڑوں سے بدتمیزی کا حق
 خاندان سے بغاوت کا حق
 بدچلن بننے کا حق
 بےشرم بننے کا حق
 بازار میں ناچنے کا حق
 بےغیرت بننے کا حق
 عورت کے ذاتی معاملات کی بازار میں نمود اور تشہیر کا حق
 طلاق پر جشن منانے کا حق
 آنکھیں مٹکانے کا حق
 بدمعاشی کا حق
 گاڑی کا ٹائر بدلنے کا حق
 عورت مارچ 2019 کی روشنی میں 2020 کی عورت مارچ کے متوقع مطالبات یا حقوق کی جھلک جو لوگوں کے ذہنوں میں قائم ہوئی
پوری گواہی کا حق
 کثرت شوہر کا حق
 وصیت کا حق
 طلاق دینے کا حق
 امامت کرنے کا حق
 گھر کی سربراہی کا حق
 عدت میں نہ رہنے کا حق
 گھریلو ذمہ داریوں سے بغاوت کا حق
 اپنی تعلیم کا غلط فائدہ اٹھانے کا حق
 اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھانے کا حق
 نکاح کے رواج کو ختم کرنے کا حق
 طلاق پر خوشیاں منانے کا حق
 بازار میں نازیبا حرکتیں کرنے کا حق
 عورت کے ذاتی معاملات کی تشہیر اور نمود کا حق
 بڑوں سے بدتمیزی کا حق
 حجاب سے نفرت کا پیغام پھیلانے کا حق
 اسلام سے روگردانی کا حق
ہمارے جیسے معاشرے میں حساس موضوعات پر بہت غوروفکر، عقل و خرد، تشخص و توجہ،  دور اندیشی اور منطقی بنیادوں پر قلم او قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

خواتین کے حقوق کا معاملہ مذہبی معاشرتی معاشی ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے حل طلب موضوع ہے۔  مذہبی اور قانونی حقوق پر سختی سے عمل داری کی گئی ہوتی تو آج یہ نوبت نہ آتی اب اگر آ ہی گئی ہے تو سب سے پہلے قانون فطرت کی پاسداری اور پھر اپنے معاشرے کی مذہبی و اخلاقی اقدار کا لحاظ رکھنا کسی بھی مہذب فرد کی ذمہ داری میں شامل ہے ۔ عورت مارچ کے شرکاء کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ خواتین و حضرات پر مشتمل تھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ازدواجی زنا بالجبر جیسے معاملے میں کوئی تنظیم یا ادارہ مرد و عورت کے تنہائی کے اوقات میں کسی طرح مداخلت نہیں کر سکتا آپ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ خواتین کے ذاتی معاملات کی بازار میں تشہیر معیوب سمجھی جاتی ہے آپ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے گھرانوں میں روایتی انداز زندگی کو پسند کیا جاتا ہے بہت سے معاشرتی گروہوں میں تنگ نظری پائی جاتی ہے اور تعلیم و تربیت کا فقدان ہے ۔

  کہیں مرد عورت کا استحصال کر رہا ہے اور کہیں عورت مرد کا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے معاشرے کو مہذب بنانے کے لئے،  جہاں مرد عورت کی اور عورت مرد کی تعظیم و تکریم کرنا جانتا ہو اور ایک دوسرے کے حقوق وفرائض سے واقف ہوں ، تعلیمی اداروں میں چھوٹی کلاسوں سے ہی ہنگامی بنیادوں پر خصوصی نصاب متعارف کروایا جائے جس میں مذہبی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے میں برابری کے حقوق کی نشاندہی کی جائے ۔

بچوں کو شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں اس حوالے سے تمام قوانین پڑھائے جائیں اور قوانین سے انحراف کی صورت میں انجام سے واقفیت دلائی جائے تاکہ وہ بچپن ہی سے مخالف جنس کی عزت و تعظیم کرنا سیکھیں اور انہیں اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے آگاہی حاصل ہو ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ادب و آگہی ،  جو زندگی کا پہلا کرینہ ہے، کو تہذیبی و ثقافتی ورثہ کے طور پر پڑھایا جائے تاکہ بچوں میں مرد عورت سے آگے بڑھ کر انسان بننے کا شعور اجاگر ہو اور وہ ایک دوسرے سے انسانیت کی سطح پر مخاطب ہوں ۔

عورت مارچ کا اصل مقصد معاشرے میں عورت کا استحصال اور اسے انسان نہ سمجھنا تھا ، میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ کوئی بھی سمجھدار فرد اس مارچ کے مقصد سے انحراف نہیں کرتا ہوگا مگر اس مارچ کی فکر کی تشہیر غیر مہذب انداز میں کی گئی جس نے معاشرے کے پڑھے لکھے جدید طرز زندگی کا رجحان رکھنے والے افراد کو بھی شرمندہ کردیا اور اس انداز کی تشہیر نے غیر محسوس طور پر بہت سی خواتین کے جذبات اور آذادی پر ضرب لگائی اور ان کی زندگیوں میں مشکلات کھڑی کردیں ہیں ۔

میری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ خواتین سے متعلق مسائل پر معاشرے میں ہنگامی بنیادوں پر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے جس میں خاص طور پر اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گی کہ ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی اداروں میں چھوٹی جماعتوں سے ہی ادبی و اخلاقی تربیت کا لازمی مضمون متعارف کروایا جائے تاکہ کچے ذہنوں سے ہی بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق معلوم ہو اور ہماری آنے والی  نسلیں اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہوں جب ہر فرد انسانی اقدار پر ایک دوسرے کا احترام و عزت کرنا سیکھ جاۓ گا تو معاشرے میں برابری کی بنیادوں پر معاملات طے ہونے لگیں گے اور عورت اس معاشرے کا فرد ہونے پر فخر محسوس کرے گی
پھول پھینکے سبھی نہیں میری طرف
پھول سمجھا نہیں مجھے کوئی

لاہور کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

Aurat March K Khilaf is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 March 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.