نمرہ بیگ کا قاتل کون؟

بدھ 27 فروری 2019

Syed Muhammad Yousuf

سید محمد یوسف

یقیناً ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے لیکن جِس دردناک انداز میں ڈاوٴ میڈیکل ہیلتھ سائنسز میں ڈاکٹر آف پیتھالوجیکل کی فائنل ایئر کی طالبہ یتیم نمرہ بیگ کا قتل ہوا وہ انتہائی افسوس ناک درد ناک اور کربناک ہے جِس کا مجھے اور میرے شہر کو بے انتہا افسوس ہے اللہ تعالیٰ نمرہ بیگ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
میری جائے پیدائش میرا شہر کراچی پورے ملک کے طول و عرض میں رہنے والے غریب ہو یا امیر سب کی مہمان نوازی ہی نہیں بلکہ سب کو اپنے دامن میں جگہ بھی دیتا ہے اور یہاں کے شہریوں کے آباوٴ اجداد کی قیام پاکستان کیلئے قربانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں دراصل صحیح معنوں میں یہی وہ شہر ہے جو بانیانِ پاکستان کی اولادوں کا مسکن ہے،ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب سمیت ملک کے کونے، کونے سے لوگ روزگار سمیت اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے اِسی شہر کا رخ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

 اگرکوئی تاریخی طور پر جانچ پڑتال کریں تو معلوم ہوگا کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی شہری کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوجائے یا پھر کوئی ظلم کا شکار ہوجائے تو یہی وہ شہر ہے جِس کی آواز سب سے موثر اور سب سے پہلے اْٹھتی ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ کراچی کی بیٹی نمرہ بیگ گھر سے یونیورسٹی کیلئے نکلتی ہے راستے میں غیر تربیت یافتہ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کے مرتب کردہ 1935 ایکٹ کے قواعد و ضوابط (بلوبیک) کے مطابق عوام کے ساتھ غلاموں سا سلوک کرتی پولیس اور دہشتگردوں کا آپس میں مْد بھیڑ ہوتا ہے گولیاں چلتی ہے ۔

ہر کوئی اپنی جان بچانے کے درپہ ہے ایسے میں ایک گولی نمرہ بیگ کے سر سے آر پار ہوجاتی ہے۔
 لوگ نمرہ بیگ کی نیم مردہ لاشہ کو رکشہ میں رکھ کر ہسپتال پہنچاتے ہیں راستے میں ہی اْسکی روح پرواز ہوجاتی ہے ہسپتال سے اْس یتیم بچی کی میت کو اْس کا ماموں وصول کرکے لے جاتا ہے بعدازاں جنازہ پڑھا کر دفنا دیا جاتا ہے ۔اب میں آگے کن الفاظ میں لکھوں؟ مجال ہے جو پورے ملک میں ایک پتا بھی ہلا ہو کہیں کوئی آواز اْٹھی ہو کسی کے کانوں میں کوئی جوں تک رینگی ہو کہاں گئی آصفہ صاحبہ کہاں گئی بختیاور صاحبہ، بلاول صاحب آپ کہاں ہیں مریم نواز صاحبہ کیا آپ نے بھی نہیں سْنی کہ شہر کراچی والے سوگوار ہیں۔

پیرنی جی آپ کی طرف سے بھی کوئی پْرسا نہیں آیا مخصوص نشستوں پہ موجود خواتین اراکین سمیت اقتدارِ ایوان کی خاموشی بھی کسی افسوس سے کم نہیں سول سوسائٹی والے اپنے مصروفیات سے گھر آکر خوب پیٹ بھر کے کھانا کھانے کے بعد خواب خرگوش کے مزے لْوٹنے میں مصروف ہوگئی نام نہاد سیاسی و مذہبی جماعتوں کو سانپ سونگ گئے انسانی حقوق کے تنظیموں کے نمائندے ہنی مون پر چلے گئے ۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت صحافتی تنظیمیں ستو پی کر سو گئے سونے پہ سہاگہ جنوبی سندھ پر قابض دیہی سندھ کے جاگیرداروں کے مختلف نمائندوں کی طرف سے ایسے، ایسے بیانات سننے کو ملے یقین جانیں کلیجہ چھلنی ہوگیا ارے کم از کم انسانی تقاضوں کو پورا کر لیتے کوئی اعلیٰ حکومتی نمائندہ جاکر نمرہ کے چھوٹے بھائی کو دلاسہ ہی دے دیتے اِس شہر کے دکھوں پر مرہم ہی رکھ دیتے ارے دکھاوا ہی کر لیتے۔

 ہاں ایک جماعت نے کسمپرسی کی حالت میں آواز اْٹھائی جانتے ہیں کون سی جماعت؟ ہمیشہ تنقیدی زد میں رہنے والی، مہاجروں سمیت پاکستان کے اٹھانوے فیصد غریب اور اپنے جائز حقوق سے محروم طبقات کی عکاس مظلوموں کی آس متحدہ قومی موومنٹ پاکستان۔ میرا سوال کراچی میں سیاست کرنے والے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے ہے آخر آپ نے کیوں کوئی آواز نہیں اْٹھائی؟ نہ جانے کب یہ اندھیرا چھٹے گا کب صبح کا سورج طلوع ہوگا کب سندھ کے شہری علاقوں کے باشندوں کو اْن کے آئینی اور قانونی حقوق میسر ہونگے آخر کب وہ دن آئیگا جب یہاں میرٹ کا راج ہوگا۔

مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل مقامی پولیس کا نظام ہوگا نہ جانے کب یہاں مقامی حکومتوں کو اختیارات ملیں گے آخر کب کراچی والوں کو اْنکی مرضی کے مطابق جینے کا حق ملے گا کیا کوئی بتائے گا کہ نمرہ بیگ کا قاتل کون ہے آخر کب کراچی والوں سے نفرتیں ختم ہوگی ۔
آخر کب تک یہ کراچی والے تعصب کا سامنا کرتے رہیں گے اب تک کوئی اعلٰی حکومتی نمائندے نے آکر تعزیت تک نہیں کی ہے لگتا تو ایسا ہی ہے کہ نمرہ بیگ کاقتل بھی تعصب کی نظر ہوگیا ہے میں پوچھتا ہوں آخر کیوں، کیوں؟ کیا اِس لیئے کہ نمرہ بیگ بانیانِ پاکستان کے اولاد ہے کیا اب نمرہ بیگ جیسی بانیانِ پاکستان کی اولادوں کا کوئی سہارا نہیں؟ کیا کوئی اِس شہرِ محبوب کے دکھوں پہ مرہم رکھنے والا نہیں؟ کیا اِس شہرِ روزگار کے تکلیف اور کرب سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا؟ کیا اِس شہر کے مستقل باشندوں کی ذندگی کھیڑے مکوڑوں سے بد تر ہے؟ کیا یہ شہرِ کراچی والے انسان نہیں ہیں؟ آخر کیوں؟ صرف اِس لئے کہ نمرہ بیگ کوئی سندھی، پنجابی، پٹھان، نہیں تھی لغاری، تالپور، جتوئی،نہیں تھی بگٹی، بلوچ، بروہی، چوہدری نہیں تھی۔

نمرہ بیگ کا جرم یہ تھا کہ اْس کے بڑوں نے اِس مٹی سے محبت کی تھی اْس کے بڑوں نے ہندوستان سے بغاوت کی تھی اْس کا جرم یہ تھا کہ اْس کے بڑوں نے پاکستان بنانے کی جرات کی تھی ارے ہاں وہ غیرِ وطن میں جابر تھی اہلِ وطن میں کافر تھی ہاں، ہاں وہ مہاجر تھی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

کراچی کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Nimra Baig Ka Qatil Kon? Column By Syed Muhammad Yousuf, the column was published on 27 February 2019. Syed Muhammad Yousuf has written 3 columns on Urdu Point. Read all columns written by Syed Muhammad Yousuf on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.