کچھ قصور اپنا بھی ہے !

منگل جون

Muhammad Irfan Nadeem

محمد عرفان ندیم

ایمرسن انیسویں صدی کا مشہور امریکی شاعر ہے ، وہ میساچوسٹس میں 1803میں پیدا ہوا ۔ ایمرسن کی خوبی یہ تھی کہ وہ بیک وقت ایک اچھا مقرر ،مصنف اور شاعر تھا ۔ شاعری ، تقریر کا فن اور نثر نگاری یہ تینوں خوبیاں بہت کم لوگوں میں اکھٹی ہو تی ہیں ،برصغیر کی پوری تاریخ میں ہمیں صرف دو تین نام ایسے ملتے ہیں جن میں یہ تینوں خوبیاں مکمل طور پر پائی جاتی ہیں ۔

ان میں پہلا نام مو لانا ابو الکلام آذاد کا ہے ، ان کے علاوہ آپ مولنا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کو اس لسٹ میں شامل کر سکتے ہیں ۔ ایمرسن جس قصبے میں رہائش پذیر تھا جب اس قصبے کا پہلا نوجوان یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا تو قصبے والوں نے مل کر اس کے اعزاز میں ایک پارٹی ارینج کی ،علاقے کے تمام معززین کو اس پارٹی میں مدعو کیا گیا ، ایمرسن کو خصوصی دعوت نامہ ارسال کیا گیا ،تمام معززین نے اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات کااظہار کیا ، ایمرسن کی باری آئی ،وہ اسٹیج پر آیا، ابتدائی گفتگو کی اور بولا ”میں اس نوجوان کوملنے کے بعد ہی اپنے خیالات کا اظہار کر سکوں گا “تقریب ختم ہو گئی ۔

(جاری ہے)

ایک ماہ بعد دوبارہ تقریب منعقد کی گئی، ایمرسن کی باری آئی ،وہ اسٹیج پر آیا اور حاضرین سے خطاب کرتے ہو ئے کہا ”میں اس نوجوان کو ملنے کے بعد اس کا گرویدہ ہو گیا ہوں ، مجھے یہ نوجوان بہت پسند آیا ہے ، جب سے میں اسے ملا ہوں، اسے سمجھا ہے مجھے اس پر رشک آنے لگا ہے ، آپ جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیئے کہ اس نوجوان نے یونیورسٹی میں پڑھنے کے باوجود اپنی صلاحیت اور ذہانت کو برقرار رکھا ہے“
ہماری یونیورسٹیاں کس طرح کی تعلیم ،تہذیب اور کلچر کو پروان چڑھا رہی ہیں شاید اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں رہا ۔

آپ کسی نزدیکی یونیورسٹی کا وزٹ کریں وہ آپ کو یونیورسٹی کم فیشن انڈسٹری ذیادہ دکھائی دے گی۔قوموں ،تہذیبوں اور اور ملکوں کی ترقی اور عروج کا مدار کسی ملک کی تعلیم اور ریسرچ پر منحصر ہوتا ہے ،کس ملک میں کتنی ریسرچ اور کتنی جدیدایجادات ہو رہی ہیں ، کس یونیورسٹی نے بیماریوں کے خلاف ویکسیئن دریافت کی ہے اور کون سی یونیورسٹی آنے والے دنوں میں انسانی دماغ کو کنٹرول کرنے پر ریسرچ کر رہی ہے ۔

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے ،انسان کی پیدائش سے پہلے ممکنہ طور پر اس میں پائی جانے والی بیماریوں کی تشخیص اور ان کا خاتمہ ،انسانی دماغ پر کنٹرول حاصل کر کے روبوٹ کی طرح اس کا استعمال ،کاشتکاری کے لیئے جدید ایجادات، مصنوعی بارشیں برسانے کے کامیاب تجربات اور کائنات کی نبض کو اپنی مٹھی میں لینے کے منصوبے یہ تمام پروجیکٹ پائیہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں اور عنقریب آنے والے زمانے میں آپ یہ حیران کن بتدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔

کیا یہ محض اتفاق ہے ؟ کیا یہ سب کچھ محنت اور پلاننگ کے بغیر ہو رہا ہے ؟ کیا یہ محض کوشش کا مکلف ہو کر لمبی تان کر سونے کے کرشمات ہیں ؟شاید ہم نے نہ سمجھنے کی قسم کھا رکھی ہے ۔یونیورسٹیاں کسی ملک کے پالیسی ساز ادارے ہوتے ہیں ، یونیورسٹیوں کی تحقیق اور ریسرچ کے نتیجے میں آئندہ کے لیئے حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے ،دنیا میں ہر سال انگریزی میں تقریبا دو لاکھ ریسرچ پیپر شائع ہو تے ہیں ان میں مسلمانوں کی تعداد کیا ہے ؟ میرا خیال ہے رہنے دیں ،آپ پڑھیں گے تو دکھ ہو گا ، اگر مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہوتی پھر بھی کچھ بھرم رہ جاتا ، مگر یہاں تو اتنی مقدار بھی نہیں ، جی ہاں ،صرف دو سو ،اور ان دو سو میں شاید ہی کو ئی پاکستانی ہو گا ۔

ہمارے جونوان کو شکایت ہے کہ بیروزگاری عام ہے نوکریاں نہیں ملتی ، شاید اس میں کچھ قصور مگر اپنا بھی ہے ، ہم یونیورسٹی سے صرف ڈگری لیتے ہیں ، قابلیت اور مہارت نہیں ، اور یونیورسٹی بھی ہمیں صرف سی جی پی اے دیتی ہے ،کوئی ہنر ،فن ،مہارت اور صلاحیت نہیں دیتی ۔ مارکیٹ میں آج بھی مانگ ہے ، مارکیٹ میں آج بھی اچھا پلمبر نہیں ملتا ، اچھا الیکٹریشن نہیں ملتا ، اچھا مکینک نہیں ملتا ۔

مارکیٹ آج بھی ترس رہی ہے ایک ایسے دکاندار کو جو اپنے اصولوں کا پابند ہو ، ایسا سبزی فروش جو دھوکا نہ دے ، ایسا چھابڑی والا جو دونمبری نہ کرے ۔معاشرے میں آج بھی ایسے کاریگر کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے جو اچھا کام کرنا جانتا ہے اور کرتا بھی ہے ، لوگ آج بھی اپنی گاڑی اسی ورکشاپ پر لے کر جاتے ہیں جس کے کام سے وہ مطمئن ہوتے ہیں ،اگرچہ انہیں اپنی باری آنے کے لیئے دو چار دن کا انتظار کرنا پڑے ،اچھا الیکٹریشن آج بھی سترھویں اسکیل کے ملازم سے ذیادہ پیسے کماتا ہے ۔

لوگ آج بھی اچھے ڈرائیوروں کے نخرے اٹھانے کے لیئے تیار ہیں ، اچھا مالی آج بھی بے روز گار نہیں ، خوش اخلاق دکاندار کی دکان آج بھی سب سے ذیادہ چلتی ہے ماہر خطاط او رنقاش آج بھی ہاتھوں ہاتھ لیئے جاتے ہیں ، محنتی کسان آج بھی خوشحال ہے اور مجموعی طور پر ہنر اور فن آج بھی علم اور تعلیم سے آگے ہیں ۔
ہمیں ماننا پڑے گا ہماری یونیورسٹیاں وہ کردار ادا نہیں کر رہیں جو انہیں کر نا چاہیئے تھا ،یہ محض ڈگریاں تقسیم کرنے کی فیکٹریاں ہیں ، یہ رٹے بازی اور سی جی پی اے لینے کے کارخانے ہیں ،یہاں صرف طوطے کی طرح تھیوریز پررٹا لگایا جاتا ہے ۔

اور اگرآپ میں سچ سننے کی ہمت ہے تو صحیح لفظوں میں یہ نوجوان نسل کو بگاڑنے کے اڈے ہیں ،ہمارے ایک پروفیسر صاحب کہا کرتے تھے یہ عشق و عاشقی کے مراکز اور شادی سنٹر ہیں ۔ جہاں سے قیادت جنم لینی تھی وہاں قیامت جنم لیتی ہے ۔ ہماری یونیورسٹیاں وہ ماحول پیدا نہیں کر پائیں جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ہمارے اسٹوڈنٹس میں وہ جوش،وہ جذبہ ،وہ لگن اور وہ احساس دکھا ئی نہیں دیتا جو ایک تخلیق کا ر کے لیئے ضروری ہے ،ہماری یونیورسٹیوں کا ماحول اور یونیورسٹی میں دی جانے والی تعلیم اس قابل نہیں کہ وہاں تخلیق کا ر جنم لیں ۔

تخلیق کار وہ شخص بنتا ہے جو اپنے چوبیس میں سے بیس گھنٹے اپنی اسٹڈی پر خرچ کرے ،اسے اپنے پرائے کی کو ئی خبر نہیں ہو تی ،وہ ہر لمحہ اپنے کام ،اپنے پراجیکٹ اور اپنی سوچ میں مگن رہتا ہے ،اسے اپنے لباس ،اپنے رہن سہن اور اپنے کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں ہو تی ا ور وہ ہر لمحہ اپنی تخلیق کے بارے میں سوچتا ہے ،آپ آئن سٹائن ،نیوٹن اور ایڈیسن کی تصاویر کو دیکھیں آپ کو نظر آئے گا ان کے بال بڑھے ہو ئے ہیں ،ڈاڑ ھی الجھی ہو ئی ہے اور آپ کوتصویر میں بھی یہ لوگ کسی گہری سوچ میں مگن نظر آتے ہیں ،یہ ان کی تصاویر کا وہ رخ ہے جو عام انسان کو نظر نہیں آتا ۔


اس سال بھی جو فہرست جاری ہوئی ہے اس میں ایشیا کی سو بہترین جامعات میں ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ۔ کیسے شامل ہوتی جب ہم نے دنیا کو کچھ نیا دیا ہی نہیں ، کوئی نئی ایجاد ، کوئی نئی تھیوری، کوئی نیا نظریہ ، کوئی نئی سوچ، کو ئی نیا آئیڈیا کچھ بھی تو نہیں دیا ۔جب ہمارے ہاں یونیورسٹی کا تصور محض عیاشی اور ہلہ گلہ ہو گا تو پھر یہی ہو گا ۔

جب یونیورسٹی میں قدم رکھنے کے بعد ہمارے نوجوان کی یہ سوچ ہو گی کہ بس اب وہ کوہ قاف کے دیس میں آ گیا ہے اور اب اسے سوائے ریسرچ اور تحقیق کے باقی سب کچھ کرنا ہے تو پھر یہی ہو گا جو ہو رہا ہے ۔ پیارے قاری !اگر اب بھی ہمیں غلطی کا احساس ہو جائے تو کچھ نہیں بگڑا ، وقت اب بھی اپنے ہاتھ میں ، ٹاپ کی جگہ پہلے بھی خالی تھی ، اب بھی خالی ہے اور آئندہ بھی خالی رہے گی بس ہمارے پا س قابلیت،صلاحیت اورمہارت کی وہ سیڑھی نہیں جس کے سہارے ہم اس جگہ تک پہنچ سکیں۔مارکیٹ اب بھی ڈیمانڈ کر رہی ہے اور معاشرہ اب بھی باصلاحیت ،ہنر مند اور قابل لوگوں کی تلاش میں ہے اور یہ ملک آج بھی باصلاحیت ، ماہر اور قابل لوگوں کو سر پر بٹھانے کے لیئے تیار ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

قصور کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kuch Qasoor Apna Bhi Hai Column By Muhammad Irfan Nadeem, the column was published on 30 June 2015. Muhammad Irfan Nadeem has written 336 columns on Urdu Point. Read all columns written by Muhammad Irfan Nadeem on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.