صوبہ ہزارہ تحریک کی اپیل پر شہدا ء کی یاد میں یوم شہداء صوبہ ہزارہ منایاگیا، شہداء کیلئے فاتحہ خوانی

شہداء کے خون سے غداری کی اجازت نہیں دیں گیخفاٹا انضمام کے بعد صوبہ ہزارہ کا قیام لازم ہو گیا ہے، مقررین کا عزم

پیر اپریل 23:03

ایبٹ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اپریل2021ء) صوبہ ہزارہ تحریک کی اپیل پر ہزارہ سمیت پورے ملک کے ہزارہ وال نے پیر کے روز 12 اپریل 2010 کے شہدا ء کی یاد میں یوم شہداء صوبہ ہزارہ منایا۔شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کے خون سے غداری کی اجازت نہیں دیں گیخفاٹا انضمام کے بعد صوبہ ہزارہ کا قیام لازم ہو گیا ہے۔

یوم شہداء کی مرکزی تقریب صوبہ ہزارہ تحریک کے زیر اہتمام ایبٹ آباد پریس کلب میں ہوئی جس کی صدارت چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کی۔میزبانی کے فرائض مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے ادا کیے۔جب کہ تقریب میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی ،جمعیت علمائے اسلام مانسہرہ کے امیر سینیٹر ہدایت اللہ شاہ،مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر مولنا عبید الرحمن،سابق تحصیل ناظم با لاکوٹ ابراہیم شاہ،سابق ایم پی اے عبدالستار،سابق ایم پی سید مظہر قاسم، غلام ربانی ،سابق ناظم انوارالحق،راجہ عدالت،سابق ایم پی اے آمنہ سردار،کو آرڈی نیٹر ایبٹ آباد عبدالرزاق عباسی،کو آرڈی نیٹر کوہستان پرنس فضل حق، جمعیت اہل حدیث کے جنرل سیکرٹری مولنا سرفراز احمد خان، قومی وطن پارٹی کے احمد نواز خان، ممبر سپریم کونسل سید ریاض علی شاہ،سابق ایم پی اے میاں ضیاء الرحمن، بٹگرام سے مولنا حفیظ اللہ،عثمانی ،اشاعت التوحید کے امیر مولنا میاں عنایت الرحمن،،ڈپٹی کو آرڈی نیٹر سید رفیع اللہ شیرازی،ھزارہ موومنٹ کے اسد جاوید جدون،جاوید جدون ،ملک مہابت اعوان،سرار فدا ،ذوالفقار جاوید عباسی،متحدہ علمائ کونسل کے چئیرمین قاضی غلام مجتبیٰ نے بھی اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا کہ 2010 میں ہزارہ کے سات لوگوں نے اپنے خون سے جس مشن کا آغاز کیا وہ ہمارے اوپر قرض اور فرض ہے۔ہزارہ کیایک کروڑ عوام نے پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور اس کے استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ان کو اپنا جائز حق نہیں دیا گیا۔تمام تر وسائل اٹک کے پار لگ رہے ہیں۔فاٹا انضمام کے بعد ہزارہ کے ساتھ زیادتیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ہم انتظامی بنیادوں پر صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔کوہستان سے ایک عام آدمی پشاور جاتے ہوئے ایک دن لگ جاتا ہے۔پورے ملک میں اس وقت نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔آئین لوگوں کی سہولت کے لیے ہوتا ہے۔صوبہ ہزارہ کا بل حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین نے قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔تمام قومی رہنماء ہزارہ میں آ کر صوبہ بنانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔

اس لیے اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے۔حکومت قدم بڑھائے اور ہزارہ سمیت جہاں جہاں بھی نئے صوبوں کی ضرورت ہے وہاں نئے صوبے بنائے جائیں۔صوبہ ہزارہ کا بل قومی اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اٹھارہ میں سے التوا کا شکار ہے۔ہزارہ کی تمام جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔جو تمام پارلیمانی لیڈروں سے ملاقاتیں کرے گی۔تحریک انصاف ہزارہ کے نمائیندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا وقت طے کریں۔

عمران خان خود صوبہ ہزارہ کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ہم پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتے۔پوری اپوزیشن نے صوبہ ہزارہ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کام کرے۔انھوں نے کہا کہ تمام آئینی پراسس مکمل ہے۔تحریک انصاف آگے آئے اور اپنا وعدہ پورا کرے۔

مسلم لیگ ن کے لیڈر شہباز شریف اسمبلی فلور پر صوبہ کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔اور اس وقت بہترین موقع ہے جب تمام جماعتیں متفق ہیں۔لہذا صوبہ ہزارہ سمیت نئے صوبے بنائے جائیں۔عبدالرزاق عباسی ،پروفیسر سجاد قمر ،مولنا عبدالرحمن، رفیع اللہ شیرازی، میاں ضیاء الرحمن مظہر علی قاسم نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے لیے عوام کی سو فیصد تائید اور حمایت حاصل ہے۔

اور عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔عمران خان 2017 میں ایبٹ آباد آ کر صوبہ ہزارہ کی حمایت کر چکے ہین۔اب ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کا بل پاس کروائیں اور عوام کو ان کا آئینی اور قانونی حق دیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت یہ مسئلہ ایوانوں میں ہے لیکن اگر عوام کی ضرورت ہوئی تو وہ اپنا حق لینے کے لیے اسلام باد جا کر بیٹھنے سے گریز نہیں کریں گے۔بہتر ہے کہ عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور قومی اسمبلی میں التوائ کا شکار آئینی بل فوری منظور کروایا جائے۔

ایبٹ آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments