ھ*حکومت کو گرانا اور صیح معنوں میں جمہوریت لانے کیلئے ہمارا اتحاد ہے،مفتی تاج الدین

اتوار دسمبر 19:10

Eاٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 دسمبر2020ء) جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مفتی تاج الدین ربانی نے کہا کہ دیگر جماعتوںکے ساتھ کا معنی یہ نہیں ہے کہ ہماری پالیسی ایک ہے حکومت کو گرانا اور صیح معنوں میں جمہوریت لانے کیلئے ہمارا اتحاد ہے جب ہم سب ملکر مقابلہ کر رہے ہیں اسوقت کے حملہ اور عام دنوں کے حملے میں بڑا فرق ہے میں سمجھتا ہوں جس کمیٹی نے غور وخوص کے ساتھ ان قائدین کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے وہ درست ہے یہ بات انھوں نے حضرو میں مقامی ہوٹل میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ نواز شریف اسٹبلشمنٹ کی پیدا وار ہیں اس میں کسی کو بھی شبہ نہیں ہے بڑی بات یہی ہے کہ 1988ء میں الیکشن سے لیکر کر ماضی کے الیکشن تک اسٹبلشمنٹ شریک رہی ہے اور آج جو ہمیں تانے دے رہے ہیں وہ سب کچھ اسٹبلشمنٹ کرتی رہے ہیں لیکن اب وہ اپنی غلطیوں پر توبہ کرتے ہوئے پچھلی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں لیکن میں سمجھاہوں کہ ان باتوں کو چھیڑنے کی بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے انھوں نے کہا کہ ہمیں سلکٹیڈ کہنے والے خود سلکٹیڈ ہیںمولانا شیرانی ضلعی امیر نہیں بن سکے جب تحصیل،ضلع اور صوبے کا الیکشن ہوتا ہے انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور مرکز کے الیکشن کے وقت اعتراض ہوتا ہے پچھلے الیکشن میں مولانا شیرانی کے نامزد امیدوار مولانا کفایت اللہ کو94ووٹ ملے جبکہ عبدالغفور حیدری کو600سے زاہد ووٹ ملے ہیں اس سال الیکشن میں مولانا فضل الرحمن کو 700سے زاہد اراکین کاووٹ ملا بلکہ تمام اراکین نے کھڑے ہوکر مولانا فضل الرحمن کو تاحیات امیر ×نامزد کیا سلکٹیڈ کا تانہ دینے والے مولانا شیرانی بیٹھے رہے انھوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ضلعی سیکرٹری اطلاعات حافظ ہارون الرشید نے کہا کہ حافظ حسین احمد کے دورہ چھچھ کے موقع پر ہم جس سرد مہری کا مظاہرہ کرتے تھے اس کی وجہ سامنے آگئی ہے جب نواز شریف نے گوجرانوالہ میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف تقریر کی اس وقت حافظ حسین احمد کو اختلاف پیدا نہیں ہوا یہ اختلاف کوئٹہ میں جاکر کیوں پیدا ہوا ہے ہماری جماعت کی عاملہ جوفیصلہ کرتی ہے اس کے مقابلے میں حافظ حسین احمد آئے یا مولانا فضل الرحمن دونوں غلط ہیںانھوں نے کہا کہ حافظ حسین احمد جس سٹرھی پر چڑھے ہیں یہ ادھار مانگی ہوئی ہے جب ہٹے گی تو حافظ حسین احمد کا کچھ نہیں بچے گامولانا فصل الرحمن(جے یو آئی ف)کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے حافظ حسین احمد نہیں گئے تھے جس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ جے یو آئی(ف) نہیں ہے ایم ایم اے کے دور میں بھی جماعت کے فیصلوں کے مقابلہ میں جماعت اسلامی کی بولنا شروع کی تو دس سال معطل رہے پھر معافی مانگنے پر جماعت میں شامل کیا گیا انھوں نے کہا کہ اس وقت حافظ حسین احمد کو جماعت کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات بنایا گیا جب یہ اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے ایک شخص اپنے گھر سے باہر نکل کر کچھ کر نہیں سکتا وہ کہتا ہے مولانا فضل الرحمن میرے پیچھے چلے ایسا نہیں ہوتا ۔

اٹک شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments