حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ 40 سال سے جاری ، فرق صرف یہ ہے جو کل بیٹنگ کر رہے تھے آج بالنگ کرا رہے ہیں، امیر العظیم

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایمپائر اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرے ؁ ایمپائر کو ملک میں کڑا احتساب اور قانون کی صحیح حکمرانی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،مرکزی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی

ہفتہ جنوری 23:46

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 جنوری2021ء) مرکزی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہا ہے کہ جس طرح کی تقریریں بطور وزیر اعظم محمد نواز شریف کرتے تھے وہآج عمران خان کر رہے ہیں اور جو جملے عمران خان ادا کرتے تھے وہ آج محمد نواز شریف ادا کر رہے ہیں محمد نواز شریف کیآج کے جملوں پر جو کل عمران خان ادا کرتے تھے حکومت غداری کے مقدمات قائم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایمپائر اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرے تاہم ایمپائر ہر دور میں کھلاڑی بن کر اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے ایمپائر کو ریفری کا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ اس کے کھلاڑی بننے سے قیام پاکستان لے کرآج تک جو نقصانات ہوئے ہیں وہ سلسلہآئندہ بھی تسلسل سے جاری رہے گا ایمپائر کو ملک میں کڑا احتساب اور قانون کی صحیح حکمرانی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی صدر الخدمت فائ ونڈیشن ماہر تعلیم سابق پرنسپل شیخ ا?صف محمود صدیقی ، چیف انجینئر واپڈا شیخ عمران صدیقی کی والدہ تعزیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جنرل سیکرٹری شمالی پنجاب اقبال خان ، امیر ضلع سردار امجد علی خان ، سیکرٹری ضلع حافظ محمد بلال ، امیر شہر میاں محمد جنید ، ضلعی صدر تنظیم اساتذہ سید ثنائ اللہ بخاری ، ضلعی صدر مسلم لیگ ( ن ) محمد سلیم شہزاد ، سابق اپوزیشن لیڈر ضلع کونسل اٹک ملک ریاض الدین اعوان ا?ف ملہووالی ، کوارڈینیٹر میجر گروپ حاجی محمد اکرم خان ، سابق ا?فیسر نیشنل بینک شیخ سعید جان ، ماہر تعلیم ملک محمد یونس ، چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، بانی چیئرمین الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن لالہ محمد صدیق ، جنرل سیکرٹری لیاقت عمر ، صحافی جاوید خان و دیگر موجود تھے امیر العظیم نے کہا کہ لوگ لفظوں کی جگالی کر رہے ہیں حالات پہلے سے عملاً بتر ہوتے چلے جا رہے ہیں اقتدار میں ا?نے سے قبل جو گفتگو عمران خان کرتے تھے اس کے بالکل برعکس انداز حکمرانی اختیار کیے ہوئے ہیں جن لوگوں کو احتساب کر کے جیلوں میں ڈالنا تھا ان کو اپنی وزارتوں میں ساتھ لیا ہوا ہے اقتدار سے قبل عمران خان کا کہنا تھا کہ میری کابینہ مختصر ہو گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ کی جانب جا رہے ہیں غیر منتخب لوگوں کو وزارتوں میں لے رہے ہیں ہر تیسرے چوتھے دن کوئی نہ کوئی وزیر تبدیلی کا شکار ہوتا رہتا ہے جو وعدے انہوں نے کیے اس کے برعکس وہ عمل کر رہے ہیں اسی طرح اپوزیشن بھی اپنے مفادات کی سیاست کر رہی ہے بجائے اپنی اصلاح کرنے کے وہ جن جرائم میں خود شریک جرم رہے انہی پر تنقید کیے جا رہے ہیں اس کی واضح مثال فارورڈ بلاک بنانا اور حکمرانی حاصل کرنے کیلئے چھانگا مانگا میں لوگوں کی خریداری کی تھی ا?ج خود ہی اس کی مذمت کر رہے ہیں اس وقت پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اخلاقی بحران کا شکار ہے جب تک اس ملک کا سیاستدان اپنی صلاح نہیں کرے گا ملک و قوم ترقی کیلئے ا?گے نہیں بڑھ سکیں گے ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تقریروں پر نہ جائیں عمال اور کرتوتوں کو بھی دیکھیں یہ تقریریں لندن میں بیٹھ کر کی جائیں یا اسلام ا?باد ایوان میں کی جائیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ابھی ہزارہ برادری کے لوگ اپنے مقتولین کی میتیں لے کر کوئ ٹہ میں بیٹھے رہے جب عمران خان حکومت میں نہیں تھا تو ا?گے چڑھ کر باتیں کرتا تھا اب جو وقت ا?یا تو کوئ ٹہ میں ہزارہ برادری کے پاس نہیں گیا موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ’’ ورلڈ بینک اور ا?ئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ‘‘ کو قبول کر لیں اور بہت ہی سطحی اور اشتہاری قسم کے اقدامات اختیار کرنا اور ٹھوس اقدامات سے پہلو تہی کرنا حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے جماعت اسلامی ہی عوام کی ا?خری امید ا?س ہے باقی تمام پارٹیاں اپنے اپنے مفادات کی اسیر ہیں اور وراثتوں پر پارٹیاں چلائی جا رہی ہیں جبکہ جماعت اسلامی میں تسلسل کے ساتھ ذمہ داران تبدیل ہوتے رہتے ہیں سانحہ مچھ کوئ ٹہ دراصل موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی ناکامی کا تسلسل ہے اور ا?ج تک دہشت گردی کے ان واقعات میں کسی مجرم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا نہیں دی گئی دہشت گردی کی ان وارداتوں کو بے نقاب بھی نہ کرنا موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے موًثر تفتیش اور تحقیق بھی نہیں کی بلوچستان سے گرفتار ہونے والے ہندو جاسوس ’’ کلبوشن ‘‘ کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی کہ وہ کن مقامی لوگوں کی معاونت سے پاکستان کی جاسوسی کرتا رہا پاکستان میں حکومتوں کی نا اہلی ، ناکامی اور اداروں کے زوال پذیر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندو جاسوس ’’ کلبوشن ‘‘ کے بارے میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ وہ جاسوس بھی تھا یا نہیں ;238; پاکستان کی حالت یہ ہے کہ جو طیارے سے بم گرانے آئے تھے وہ ’’ پائلٹ ‘‘ گرا کر چلے گئے اور ہم نے اگلے روز اسے ’’ چائے بسکٹ ‘‘ کھلا کر عزت احترام سے بھارت روانہ کر دیا جب ہندو بنیئے کے ساتھآپ اپنا اعلیٰ اخلاقی رویے کا مظاہرہ کریں گے تو وہ اپنی سازشیں مزید تیز کر دے گا ہم اپنا گھر ٹھیک کر لیں تو میں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اسی سے ان کا سدباب ہو گا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ 40 سال سے جاری ہے فرق صرف یہ ہے کہ جو کل بیٹنگ کر رہے تھے وہ آج بالنگ کرا رہے ہیں

اٹک شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments