vاٹک: 333 مساجد اور 13 کھلے مقامات پر عید کی نماز کے اجتماعات

S فرزندان اسلام نے عید الفطر کی نماز ادا کی اٹک اور گردونواح میں عید الفطر مذہبی عقیدت اور جوش و خروش سے منائی گئی اٹک شہر سمیت دو دراز دیہات میں بھی بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اجتماعات میں کشمیر، فلسطین، برما، افغانستان، شام، بھارت اور دیگر ممالک کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کرائی گئیں

ہفتہ 15 مئی 2021 20:50

0اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 مئی2021ء) ضلع اٹک میں 333 مساجد اور 13 کھلے مقامات پر عید کی نماز کے اجتماعات میں فرزندان اسلام نے عید الفطر کی نماز ادا کی اٹک اور گردونواح میں عید الفطر مذہبی عقیدت اور جوش و خروش سے منائی گئی اٹک شہر سمیت دو دراز دیہات میں بھی بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اجتماعات میں کشمیر، فلسطین، برما، افغانستان، شام، بھارت اور دیگر ممالک کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کرائی گئیں اور اسرائیلی بربریت اور جارحیت کی شدید مذمت کی گئی عیدالفطر کے اجتماعات کے موقع پرسخت سکیورٹی کے انتظامات، ضلع اٹک کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی عید گاہ اٹک شہر میں منعقد ہوا جہاں مفتی مسعود احمد نے مسلمانوں کے حالت زار پر خطاب کیا اور اس اجتماع میں مسلمانوں کو توبہ و استغفار کرنے کی ترغیب دی جبکہ مفتی مسعود احمد نے نماز عید پڑھا ئی ، گورنمنٹ پائلٹ سکول میں نماز عید علامہ غلام محمد صدیقی، جامع مسجد لوہاراں میں مولانا شیر زمان، اٹک کینٹ میں مولانا رفاقت علی حقانی، مدینہ مسجد میں پیر طریقت الحاج ارشد الحسینی ، جامع تہفیمات اسلامیہ میں مولانا نعیم اللہ نے نماز عید کی امامت کی، مرزا، شکردرہ، سنجوال، کامرہ، حضرو، شیں باغ اور ضلع بھر کی چھ تحصیلوں سمیت دو ر دراز دیہات میں بھی عوام نے مساجد اور عید گاہوں میں نماز عید ادا کی اس موقع پر علمائے اکرام نے عید الفطر کافلسفہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لئے عید الفطر ایک تحفہ ہے جو رمضان کی بابرکت گھڑیا ں گزارنے کے بعد مسلمانوں کو عطا کیا گیا ہے امت میں واحدت، یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیا جبکہ اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مظلوم فلسطینو ں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے حکمرانو ں کی بے حسی پر کڑی تنقید کی علمائے اکرام نے کہا کہ موجودہ وقت میں مسلمانو ں کو قرآن و سنت کا دامن تھامنا چاہیے اور توبہ و استغفار کر کے روٹھے رب کو منانا چاہیے انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کیا صرف کرونا مساجد میں ہی آتا ہے اور ساری پابندیاں مساجد پر ہی لگائی گئیں جبکہ کاروبار زندگی اپنے معمولات کے مطابق جاری ہے دریں اثناء عید کے اجتماعات پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے پولیس نے کسی بھی ممکنہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مساجد اور عید گاہوں کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کیے

اٹک شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments