ؒ جوڈیشل ریفارمز کی سخت ضرورت ، عدالتی نظام سے تنگ اپوزیشن آئے مل کر حل اصلاح کا پہلو نکالتے ہیں، ڈاکٹر بابر اعوان

E 24 ارب اکاؤنٹ میں کیسے آئے ،شہباز شریف کو تفتیشی اداروں کے سوالوں کے جوابات دینا ہونگے،مشیر برائے پارلیمانی امور کی میجر طاہر صادق سے ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو

اتوار 11 جولائی 2021 18:40

و*حضرو/اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جولائی2021ء) وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کی دم پر ایسا پاؤں رکھا کہ اب میاں شہباز شریف پاؤں پر ہاتھ لگانے اور کان پکڑنے کی بات کررہے ہیں، رنگ روڈ کی انکوائری شفاف ہے ، سابقہ حکومت کہ ادوار میں کبھی کشمیر کے مسئلے پر بات نہ ہوئی ہے ، وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ 24 رب روپے شہباز شریف کے کاؤنٹ میں کیسے آئے اس کا یہ جواب نہیں دے سکے ،انہیں تفتیشی اداروں کے سوالوں کے جوابات دینا ہونگے ،سیف الرحمن22 سال احتساب ادارے کا انچارج رہا اوراب ملک سے فرار ہے، مجھے وکالت میں 4عشرے ہو گئے ہیں اس وقت جوڈیشل ریفارمز کی سخت ضرورت ہے اس حوالہ سے اپوزیشن کے جو لوگ موجودہ عدالتی نظام سے تنگ ہیں وہ آئیں ہمارے ساتھ مل بیٹھ کر اصلاح کے پہلو نکالیں، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر صادق پارلیمانی پارٹی کہ اہم ترین لیڈروں میں سے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹک میں ایم این اے میجر (ر) طاہر صادق کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے سابق ایم پی اے و پی پی پی کے مقتول رہنما ملک شاہان حاکمین کی رہائشگاہ پر سوگوار خاندان سے تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی، مشیر وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کو سیاسی استحکام پی ٹی آئی حکومت میں ملا ، اپوزیشن کی سیاست میں شہباز شریف کبھی پاؤں پکڑنے اور کبھی ناک رگڑنے کی بات کرتے ہیں مگر اس سے اب وہ واپس آنے والے نہیں ،پاکستان میں کرپشن رواج ہو گیا ہے ، کہتے ہیں کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے ، پی ٹی آئی میں یہ سب نہیں ہے ، پاکستان کو بہت سارے چیلینجز کا سامنہ ہے ، کرونا اور معاشی حالات کو پی ٹی آئی حکومت نے انتہائی احسن طریقے سے سنبھالا ہے شوگر مافیا، غلہ مافیا سے ہم نکل آئے ہیں ، اگلے دو سال ڈیلورنس کے ہیں،بابر اعوان نے مزید کہا کہ افغان بارڈر میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں ، ہم پاکستان کے اندر پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی طرف دیکھیں گے ، وزیر اعظم عمران خان نے کھل کر کہا ہے کہ ہم امریکہ کو پاکستان میں اڈے نہیں دیں گے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں امریکہ کا امن پارٹنر ہے لیکن جنگ میں پارٹنر شپ نہیں کریں گے ، وزیر اعظم کی یہ پالیسیاں بہتر حالات کی نوید ہیں، ابھی حکومت کے 2سال باقی ہیں، اندر کی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ، کابینہ میں تبدیلیاں آئی ہیں وزیر اعظم کی مرضی ہے وہ اور بھی تبدیلیاں کریں گے ۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر بابر اعوان نے وزیر اعظم کے مشیرنے کہا کہ کشمیر میں پی ٹی آئی جیتے گی، اگر کشمیر میں پی ٹی آئی نہ جیت رہی ہوتی تو اپوزیشن کی اتنی چیخیں نہ سنائی دی رہی ہوتیں ، کشمیر میں بھی نتیجہ گلگت بلتستان جیسا ہی نتیجہ آئے گا،انہوں نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین انڈیا جیسے بڑے ملک میں استعمال ہوتی ہے جس کی آبادی ہم سے دس گنا زیادہ ہے جہاں ہر الیکشن کا نتیجہ قبول ہوتا ہے ، یہاں کوئی نہ کوئی اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ نتیجہ میں گڑ بڑ ہو گئی ہے ، الیکٹرونکس ، دھاندلی کو ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں روک سکتے ، دنیا میں ساڑھے سات ٹریلین کا کاروبار ہوتا ہے اسی ٹیکنالوجی سے سارا کام ہوتا ہے ہم اسی سے ابتدا کررہے ہیں اور ملک کے زر مبادلہ کیلئے اہم کردار ادا کرنے والے اوورسیز پاکستانیز کو بھی ووٹنگ کا حق دے رہے ہیں ۔

اٹک شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments