پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات نے ملاکنڈڈویژن کے تمام ایگزیکٹیو مجسٹریٹس کوزیر سماعت مقدمات کے حتمی فیصلوں سے روکدیا

پیر دسمبر 20:10

بٹ خیلہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 دسمبر2018ء) پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات نے ملاکنڈڈویژن کے تمام ایگزیکٹیو مجسٹریٹس کوزیر سماعت مقدمات کے حتمی فیصلوں سے روکدیا۔

(جاری ہے)

یہ فیصلہ بیرسٹر عدنان کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر کیا گیا ہے چونکہ25 ویںآئینی ترمیم کے تحت صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی ( پاٹا ) کوخیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا ہے اس آئینی ترمیم کے تحت پاٹا انضمام کے بعدآئین کا آرٹیکل247 مکمل خاتمے ختم ہو چکا ہے جس کے بعداسی آئینی دفعہ 247کے تحت ملاکنڈ ڈویژن میں لاگونظام عدل شرعیہ ریگولیشن2009ء کی حیثیت اور مستقبل بارے صورت حال واضح نہ ہونے پرعدالت عالیہ سے رجوع کیا گیااور ریگولیشن کے تحت ملاکنڈ ڈویژن کے ساتوں اضلاع کے تمام ایگزیکٹیو مجسٹریٹس یعنی ڈپٹی کمشنرز ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ز اسٹنٹ کمشنرز اورایڈیشنل اسٹنٹ کمشنرزکو حاصل مقدمات کی سماعت کا اختیار چیلنج کیا گیا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقار احمد خان نے اس سلسلے میں عدالت سے مہلت طلب کی جس پر پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ دارالقضاء سوات نے انٹرم ریلیف دے کرتا حکم ثانی ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ایگزیکٹیو مجسٹریٹس کو ان کے دائرہ اختیار کے مقد مات جن کی سزاتین سال مقرر ہے پر حتمی فیصلے دینے سے روک دیا ہے ان مقدمات میں چوری ڈاکہ جوا قماری وغیرہ نوعیت کے مقد مے شامل ہیںدریں اثناء ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ ملاکنڈ میں بھی ممتاز وکلاء سابق ڈسٹرکٹ ناظم غفران احد ایڈوکیٹ اور مجیداللہ خان ایڈوکیٹ نے بھی ایک کیس کی ریویج پٹیشن میں مقامی مجسٹریٹ کے اختیار سماعت کو چیلنج کر رکھا ہے جس پر متعلقہ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ سے رائے طلب کر رکھی ہی

متعلقہ عنوان :

بٹ خیلہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments