رشتہ دیکھنے کے بہانے 5 ملزمان نے خاتون کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا

جنگل میں جاکر ملزم نے اپنے مزید 4 دوستوں کو بھی بلالیا اور پستول دکھاکر اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی جب کہ ملزمان نے میرے 10 ہزار روپے بھی چھین لیے ، خاتون کا پولیس رپورٹ میں موقف

Sajid Ali ساجد علی بدھ دسمبر 18:08

رشتہ دیکھنے کے بہانے 5 ملزمان نے خاتون کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا
بھکر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 دسمبر2020ء) جنوبی پنجاب کے شہر بھکر میں رشتے دیکھنے کے بہانے 5 ملزمان نے خاتون کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کردی ، پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ بھکر کی تحصیل دریا خان میں پیش آیا جہاں ملزمان نے بیٹی کے لیے رشتہ دیکھنے کا جھانسہ دے کر جھنگ سے ایک خاتون کو بلایا اور بعد ازاں اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

پولیس کو دی گئی درخواست میں خاتون نے موقف اختیار ہے کہ ایک ملزم کی طرف سے نے خاتون کو اس کی بیٹی کا رشتہ دکھانے کے لیے دریاخان بلوایا گیا جہاں پہنچنے کے بعد ملزم نے کہا کہ لڑکے کا گھر دیکھنے کے لیے کار جانا پڑے گا ، اس پر میں کار میں سوار ہوکر اس کے ساتھ چل دی تاہم ملزم نے کار کا رخ جنگل کی طرف کردیا ، جنگل میں جاکر ملزم نے اپنے مزید 4 دوستوں کو بھی بلالیا اور مجھے پستول دکھاکر اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی جب کہ ملزمان نے میرے 10 ہزار روپے بھی چھین لیے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا تاہم اس سلسلے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لاجاسکی۔ دوسری طرف اسی حوالے سے حکومت نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق قانون کو حتمی شکل دے کر مسودہ تیار کرلیا ، وزارت قانون نے تجویز پیش کی کہ زیادتی میں ملوث مجرمان کو نامرد کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا جائے گا، اس کے علاوہ جیل سے رہائی کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوگا ، اس کے علاوہ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق حتمی فیصلے کا اختیار زیادتی کا شکار ہونے والے کو ہوگا ، جنسی زیادتی کے مجرموں کیخلاف مقدمہ کروانے کا اختیار بھی زیادتی کے شکار فرد ہوگا، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ حکام مقدمہ درج کرنے کے پابند ہوں گے ۔

سفارشات کے مطابق زیادتی کےمقدمات کا ٹرائل ان کیمرا ہوگا جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) زیادتی کرنے والے تمام مجرمان کا ڈیٹا بھی مرتب کرے گا ، وزارت قانون نے ضابطہ فوجداری میں لفظ زیادتی کی تعریف میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا جس کے بعد تمام عمر کی خواتین اور 18 سال سے کم عمر مردوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادتی میں ہی شمار کیا جائے گا ، وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نکات میں بتایا گیا ہے کہ مجرمان کوان کی رضامندی سےکیمیائی طریقہ سے ہی نامرد کیا جائے گا، سزا کا یہ طریقہ اُن کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا۔

زیادتی کے مقدمات کا فوری اندراج کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا، متاثرہ شخص سے جرح صرف ملزم کا وکیل اور جج ہی کرسکے گا۔

متعلقہ عنوان :

بھکر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments