بلوچستان کی قبائلی معاشرے میں عورتوں اور لڑکیوں کو عزت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،رئیس عبد الحق رضی

جامعہ بلوچستان اسکینڈل سے صوبے کا نام پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے واقعہ کے بعد کوئی غیرت مند اپنے بچیوں کو یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نہیں بھیج سکتا بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث بدکرداروںکو منظر عام پر لاکر منطقی انجام پر پہنچایا جائے، بیان

ہفتہ اکتوبر 19:15

بولان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اکتوبر2019ء) جماعت اسلامی ضلع کچھی کے نائب امیر رئیس عبد الحق رضی اور دیگر عہدیداروں نے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان اسکینڈل صوبہ کے چہرے پر بدنما داغ ہے بلوچ پشتون قبائلی معاشرے میں ایسے شرمناک حرکات کے مرتکب عناصر کو سر عام پھانسی دی جائے واقعہ میں وائس چانسلر کی مجرمانہ خاموشی اور سربراہاں جامعہ کی دفاع کرناباعث شرم ہے حکومت وی سی کو فی الفور تبدیل کرکے واقعہ کی اعلیٰ سطحی پر تحقیقات کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قبائلی معاشرے میں عورتوں اور لڑکیوں کو عزت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن جامعہ بلوچستان اسکینڈل سے صوبے کا نام پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے واقعہ کے بعد کوئی غیرت مند اپنے بچیوں کو یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نہیں بھیج سکتاجب تک واقعہ میں ملوث کرداروں کو سزا نہیں دی جاتی انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر لگے خفیہ کیمروں سے طالبات کو بلیک میلنگ اور جنسی ہراسمنٹ کی سکینڈل سے یونیورسٹی کے معیار تعلیم پر سوال اٹھتا ہے ایسے میں وائس چانسلر کی ڈھٹائی سے بیانیہ کے جامعہ بلوچستان سے متعلق اسکینڈل سازش ہے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ اگر سربراہ بھی اسکینڈل میں ملوث افراد کی پشت پنائی کرے تو انصاف کی توقع کس سے کی جائے انہوں نے بیان میں اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث بدکرداروںکو منظر عام پر لاکر منطقی انجام پر پہنچایا جائے اور کرپٹ وی سی کو فی الفور تبدیل کرکے واقعہ کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کی جائے تاکہ آئندہ ایسے گھناؤنے افعال کا ارتکاب کیا جائے۔

بولان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments