نیشنل پارٹی ضلع کچھی کے زیر اہتمام وفاقی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

اتوار اکتوبر 19:50

بولان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اکتوبر2020ء) نیشنل پارٹی ضلع کچھی کے زیر اہتمام مرکزی کال پرضلعی صدر وڈیرہ بشیر احمد چھلگری،صوبائی کسان سیکرٹری عبدالستار بنگلزئی کی قیادت میں وفاقی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے خلاف ڈھاڈر پریس کلب بولان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر صدارتی آرڈینس نامنظور اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے خلاف نعرے درج تھے ۔

مظاہرین سے این پی کے صوبائی کسان سیکرٹری عبدالستار بنگلزئی،سابق ضلعی صدر غنی بلوچ،اکبر بلوچ، عبداللہ بلوچ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کا جاری کرنا اٹھارہویں ترمیم کا خاتمہ اور سندھ، بلوچستان کے ساحلی پٹی کو وفاق کے حوالے کرنا کسی صورت قبول نہیں اس طرح کی آرڈیننس جاری کرنے سے موجودہ وفاقی حکومت کے صوبوں سے متعلق عزائم کا پردہ چاک ہوا ہے ساحلی پٹی اور بلوچستان کے وسائل کے مالک صرف اور صرف بلوچ قوم ہیں ہم کسی صورت اپنے حقوق کو سلب ہونے نہیں دیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ہے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن ملکرسلیکٹڈ وزیراعظم اور حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کرے گی جو کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا متحدہ اپوزیشن اتحاد ہوگا انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے سے وفاق اور اسکی اکائییوں کے مابین فاصلے بڑھیں گے جوکہ ملکی سیاست کیلئے کسی طور بھی نیک شگون نہیں حکومت سندھ بلوچستان ساحلی پٹی کو وفاقی حکومت کے حوالے فیصلے کو واپس لے کیونکہ بلوچ اور سندھی اپنے ساحل وسائل کے مالک اور اس دھرتی کے مالک ہیں نہ کے غلام نا اہل حکمرانوں نے ملک کو دیوالیہ بنادیا ہے کرپٹ اور چور دروازے سے اقتدار کے ایوانوں میں آنے والے ہرگز عوام کے حقیقی نمائندے نہیں جنکی وجہ سے ملک کی دنیا بھر میں جگ ہسائی ہورہی ہے نیشنل پارٹی بلوچستان کے ساحل وسائل پر شب خون مارنے والے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرتی ہے بلوچ قوم اور وسائل کی جدو جہد جاری رکھیں گے صدارتی آرڈیننس کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

بولان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments