سابق شوہر نے گھر میں گھس کر بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا

پولیس نے رشوت دے کر چھوڑ دیا، ملزم نے ایک بار پھر خاتون کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا دیا،گرفتاری پر غصے کا اظہار کرتے ہوئےتیزاب پھینک کر فرار ہو گیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار 3 اکتوبر 2021 11:59

سابق شوہر نے گھر میں گھس کر بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا
بورے والا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 03 اکتوبر2021ء) سابق شوہر نے بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا۔تفصیلات کے مطابق بورے والا کے علاقے مجاھد کالونی میں سابقہ شوہر نے خاتون سے زیادتی کے بعد تیزاب پھینکا اور فرار ہوگیا۔خاتون کو تشویشناک حالت میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔خاتون نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اس کا سابق شوہر چند روزقبل دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا اور مجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہو گیا۔

میں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار بھی کیا تھا تاہم بعد میں اسے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا۔متاثرہ خاتون کے مطابق پولیس کی گرفتاری اور بعد میں چھوڑے جانے کے بعد سابق شوہر ایک بار پھر رات گئے دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہوا اور زبردستی زیادتی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

جبکہ گرفتاری پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجھ پر تیزاب پھینکا اور اس کے بعد فرار ہو گیا۔

دوسری جانب ڈیرہ غازی خان میں سوشل میڈیا پر خواتین سے زیادتی کی وائرل ہونے والی ویڈیو پر آر پی او فیصل رانا نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او سے رپورٹ طلب کر لی اورٹھوس شواہد کیساتھ ملزمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی ہدائت کر دی۔ ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے سوشل میڈیا پر خواتین کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ڈی جی خان عمر سعید ملک سے رپورے طلب کر لی،ڈی پی او نے آر پی او فیصل رانا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وائرل ہونے والی اس ویڈیو کی تصدیق سمیت تمام معاملات چیک کرنے کے لئے ڈی ایس پی سٹی کی نگرانی میں آئی ٹی ماہرین سمیت تجربہ کار پولیس افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ،جو اس مبینہ سکینڈل کو ہر عنوان سے چیک کر کے ملزمان اور متاثرہ خواتین کا تعین کرے گی،آر پی او فیصل رانا نے ڈی پی او کو ہدائت کی کہ وہ اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔

بُورے والا شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments