کراچی چیمبر کا 60 واں سالانہ اجلاس عام، مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے، زبیر موتی والا کا وفاقی،صوبائی حکومت پر زور

پیر 27 ستمبر 2021 23:08

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2021ء) چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی)، سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) زبیر موتی والا نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں جسے دونوں حکومتوں نے ہی بری طرح نظر انداز کیا ہے جس کی وجہ سے کراچی کا پہلے سے ہی انتہائی خستہ حال انفرااسٹرکچر مزید خراب ہو گیا ہے جہاں سڑکیں، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی کی لائنیں بہت ہی خراب حالت میں ہیں جبکہ شہرِ کراچی کو گیس، بجلی اور پانی کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کے سی سی آئی کے 60 ویں سالانہ اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بی ایم جی نے کہا کہ ایک بھی سہولت کراچی کو مناسب طریقے سے دستیاب نہیں جو عام طور پر دنیا کے کسی بھی کوسموپولیٹن شہر کو دستیاب ہوتی ہیں پھر بھی یہ شہر قومی خزانے کو 67 فیصد ریونیو دیتا ہے جبکہ مجموعی برآمدات کا 55 فیصد بھی کراچی سے جاری ہے۔

(جاری ہے)

وائس چیئر مین بی ایم جی طاہر خالق، ہارون فاروقی، جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری اے کیو خلیل، نو منتخب صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سبکدوش صدر شارق وہرہ، سبکدوش سینئر نائب صدر ثاقب گڈ لک،سبکدوش نائب صدر شمس الاسلام خان، چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے اسمال ٹریڈرز مجید میمن، سابق صدور، منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور جنرل باڈی ممبران کی بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔

زبیر موتی والانے کہاکہ کراچی کا عموماً ممبئی سے موازنہ کیا جاتا ہے لیکن ممبئی کی مقامی حکومت کو بجٹ کی مد میں 436 ارب روپے ملتے ہیں جبکہ کراچی کو بہت زیادہ پیچیدہ صورتحال اور وسیع رقبے پر پھیلا ہوا شہر ہونے کے باوجود 52 ارب روپے کی معمولی رقم ملتی ہیں۔ چیئرمین بی ایم جی نے سوال اٹھایاکہ معمولی بجٹ کے ساتھ یہ شہر کیسے ترقی کرے گا کیسے مقابلہ کرے گا اور کیسے زندہ رہے گا زبیر موتی والا نے باالخصوص کراچی بائی پاس بنانے کی ضرورت پر زور دیا جو کراچی پورٹ کو لیاری ایکسپریس وے اور ناردرن بائی پاس سے ملائے تاکہ تمام بھاری گاڑیاں جو کہ ملک بھر میں جا تی ہیں وہ شہر کی سڑکوں کو متاثر کیے بغیر براہ راست شاہراہوں پر جا سکیں۔

انہوں نے ناقص ٹیکسیشن پالیسیوں میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا جن کی وجہ سے سب سے زیادہ کمانے والے اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے کو ہی محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کے نفاذ کا آغاز بھی کراچی سے کیا جائے گا کیونکہ وقتا فوقتا دیکھا گیا ہے کہ ایسے تمام تر قوانین جن میں جرمانے ہوتے ہیں انہیں کراچی سے ہی شروع کیا جاتا ہے۔

اگر کراچی کو ہی تمام ٹیکس ادا کرنے ہیں اور جرمانے بھگتناہیں تو پھر کیوں کراچی کو اس کی ریونیو میں شراکت کی مناسبت سے ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے انہوں نے متنازعہ آرڈیننس میں انڈر فائلرز کی اصطلاح کو نان فائلرزسے تبدیل کرنے کے کے سی سی آئی کے مطالبے کو دہرایا۔انہوں نے موسم سرما میں گیس کے ممکنہ بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چیمبر نے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کو گیس بحران پر سمپوزیم میں شرکت کی دعوت دی ہے جس میں ماہرین کو اپنی رائے دینے کے لیے مدعو کیا جائے گا اور حقائق اور تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے ایک پریزنٹیشن بھی دی جائے گی جس کا مقصد گیس بحرانوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے عملی طریقہ کار کو تلاش کرنا اور اس پر اتفاق کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے 10 سالوں کے اعدادوشمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ کراچی میں صنعتوں کی گیس کی طلب 385 سے 400 ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان مستحکم ہے تاہم موسم سرما میں صنعتوں کو سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ صنعتوں کی گیس طلب میں اضافہ نہیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ سندھ اور بلوچستان میں گھریلو صارفین کی گیس طلب میں اضافہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اعلان کردہ 10 ملین نوکریاں صرف حکومت فراہم نہیں کر سکتی لیکن کراچی کا نجی شعبہ یہ کام کرسکتا ہے جو کہ اقتصادی نمو کا انجن ہونے کی وجہ سے یہ تمام ملازمتیں پیدا کرسکتا ہے تاہم یہ تب ہی ممکن ہے جب کراچی کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کیا جائے گا اور اس کے تمام مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کرونا وبائی مرض کے پھیلنے کے بعد سے درپیش بے انتہا مسائل اور مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دکاندار، چھوٹے تاجر، ریسٹورنٹس ، شادی ہالز اور سیلون کے کاروبار جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا وہ اب بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کے سی سی آئی ان کے لیے مسلسل ریلیف طلب کر رہا ہے لیکن واقعی یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

یہ مشکل وقت ہے اور سول سوسائٹی کا ہر رکن کرونا بحرانوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ شاید یہ وہ وقت ہے جب حکومت کو بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی معاف کر کے شہریوں باالخصوص چھوٹے دکانداروں کو مالی مدد دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔زبیر موتی والا نے مرحوم سراج قاسم تیلی کو ان کی بے مثال خدمات پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور سبکدوش عہدیداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر شارق وہرہ، سینئر نائب صدر ثاقب گڈ لک اور نائب صدر شمس الاسلام کے سبکدوش ہونے سے ان کی خدمت کا سفر ختم نہیں ہوا جنہیں 2020-21 کے دوران شروع کیے گئے تمام اقدامات اور منصوبوں کے تسلسل کے لیے تاجر برادری کی بی ایم جی اینز کی حیثیت سے خدمت کرتے رہنا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ سبکدوش عہدیداروں کی ایمانداری، نگرانی اور لگن کی بدولت 2020-21 کے دوران ویزا سفارش خطوط اور اٹیسٹیشن سمیت دیگر تمام خدمات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی میں خاطر خواہ کمی کے باوجود کے سی سی آئی کی آمدنی میں 8.4 ملین روپے کا اضافہ ہوا جو کہ چیمبر کی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ممکن ہوا جس کی وجہ سے 25 ہزار سے زائد ممبرشپ حاصل ہوئی۔

چیئرمین بی ایم جی نے نومنتخب عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ غیر معمولی کوششیں کریں اورزیادہ سے زیادہ کام کرنے کو شعار بناتے ہوئے سبکدوش عہدیداروں کے مقرر کردہ معیار کو عبور کرنے کے لیے سخت محنت کریں لیکن عموماً اور باالخصوص پاکستان اور کراچی کو مستحکم، خوشحال اور پرامن بنانے کے لیے ابھی راستہ بہت طویل ہے۔بی ایم جی کے وائس چیئرمین ہارون فاروقی نے کہا کہ ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021 نہ صرف کالا بلکہ اندھا قانون ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے پورت پاکستان کی تاجر برادری کو اکھٹا ہونا ہوگا جبکہ کے سی سی آئی رہنمائی کرتے ہوئے آل پاکستان چیمرز کانفرنس بلائے تاکہ پوری تاجر برادری حکومت پر زور ڈال سکے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے جس کی بدولت ایف بی آر کو بے لگام اختیارات حاصل ہوں گے۔

وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بالوانی کے کہا کہ اگر ایک بیمار کراچی ملکی معیشت میں اتنابڑا حصہ ڈال رہا ہے تو اس حصے داری کا حجم اُس وقت کیا ہوگا جب کراچی پر توجہ دیتے ہوئے اسے صحت مند بنادیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دراصل کراچی ہی پاکستان ہے جس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ورنہ پورا پاکستان جو معاشی مصیبتوں اور مشکلات کا شکار ہے وہ ویسے ہی رہے گا۔

ہم سب کو ایک ساتھ کھڑے ہونا ہوگا اور کراچی کے حقوق کے لئے لڑنا ہوگا۔نو منتخب صدر کے سی سی آئی محمد ادریس نے اپنے خطاب میں سراج قاسم تیلی کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جنہوں نے اپنی پوری زندگی بی ایم جی کی عوامی خدمت کی پالیسی کے تحت نہ صرف تاجروصنعتکار برادری بلکہ تمام کراچی والوں کی خدمت کے لیے وقف کی۔ محمد ادریس نے اپنے پیشرو کے تمام اقدامات کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک کے ذریعے کراچی کو مزید بہتر بنانے کے لیے سخت کوششیں کی جائیں گی۔

میں اپنی مدت میں متعدد معاشی مسائل ، ڈالر روپیہ ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ ، تاجر برادری کو گیس، پانی اور بجلی کے بحران، کسٹم اور ٹیکس سے متعلق درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے سخت محنت کروں گا۔انفرادی مسائل پر غور نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف عام مسائل جو تاجر برادری کی اکثریت کو درپیش ہیں متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔محمد ادریس نے کہا کہ ہم تمام آپشنز اور دستیاب پلیٹ فارمز استعمال کریں گے تاکہ کراچی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط آواز بلند کی جا سکے جس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہو رہا ہے۔

ہم تمام کاروبار مخالف پالیسیوں کی مخالفت کریں گے لیکن وزیراعظم عمران خان اور ان کے معاونین کی جانب سے ملک اور تاجربرادری کے وسیع تر مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات کا پرجوش خیرمقدم اور بھرپور حمایت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو چارٹر آف اکانومی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگاجس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اور بہت سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

اس لیے حکومت کو تاجر برادری کی مشاورت سے ایک موئثر طریقہ کار وضع کرنا ہوگا تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جاسکے۔صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ ایماندار ٹیکس دہندگان کو سراہنا چاہیے اور انہیں سہولیات دی جائیں جبکہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی شروع کی جائے جو عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے سبکدوش صدر ایم شارق وہرا نے بھی مرحوم سراج تیلی کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور چیمبر کی جانب سے 2020-21 کے دوران حاصل کیے گئے کچھ اہم سنگ میل کے ساتھ تمام کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے نئے عہدیداروں کو کے سی سی آئی کا امیج اور امور کو مزید بہتر بنانے کے لیے بطور بی ایم جی این اپنی ہر وقت دستیابی کی یقینی بھی دہانی کروائی۔

چاغی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments