پاکستان میں زیتون کی پیداوار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، عبداللطیف غدیرہ

ہفتہ 23 اکتوبر 2021 16:43

پاکستان میں زیتون کی پیداوار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، عبداللطیف غدیرہ
چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اکتوبر2021ء) ایگزیکٹو ڈائریکٹر بین الاقوامی زیتون کونسل عبداللطیف غدیرہ نے  بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کا دورہ  کیا۔اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر بین الاقوامی زیتون کونسل عبداللطیف غدیرہ نے کہا کہ پاکستان کی آب و ہوا زیتون کی کاشت اور معیاری پیداوار حاصل کرنے کیلئے انتہائی موزوں ہے اور پاکستان میں زیتون کی پیداوار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، اس وقت حکومت پاکستان زیتون کی ترقی کے لئے متعدد منصوبے چلا رہی ہے جن کی وجہ سے مستقبل میں پاکستان زیتون کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہو جائے گابلکہ برآمد بھی کر سکے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی زیتون کونسل نے پاکستان کو باقاعدہ طور پر کونسل کا ممبر تسلیم کر لیا ہے،باقاعدہ ممبر شپ کے ذریعے پاکستان کو زیتون کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر معاونت دی جا سکے گی  اور اس سیکٹر کو مزید ترقی دینے کے لئے کونسل کی طرف سے ہرسطح پر فنی راہنمائی دی جائے گی، کونسل پاکستان کے زیتون کے تیل اور اس کی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے میں کردار ادا کرے گی اور اس سے زیتون کے تیل کو بیرون ملک برآمد کرنے  میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

انہوں  نے بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی طرف سے زیتون کی کاشت کے لئے کئے گئے اقدامات کی تعریف کی اور ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ ہذا میں قائم سینٹر آف ایکسیلینس فار آلیو ریسرچ اینڈ ٹریننگ کو جدید ٹیکنالوجی میں معاونت کیے لئے بین الاقوامی زیتون کونسل کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمینٹ ڈیپارٹمینٹ حکومت پاکستان، ڈاکٹر محمد طارق پراجیکٹ ڈائریکٹر قومی منصوبہ برائے فروغ زیتون، محمد رفیق ڈوگر ڈائریکٹر بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال، ڈاکٹر رمضان انصر سینئر سائنٹسٹ زیتون، ڈاکٹر محمداظہر اقبال سائنٹیفک آفیسر زیتون، اشرف سمراہارٹیکلچرسٹ،انعام الحق ہارٹیکلچرسٹ، ہارون احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات راولپنڈی بھی موجود تھے۔

ا س موقع پر بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کے ڈائریکٹر محمد رفیق ڈوگر نے بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی کاوشوں سے خطہ پوٹھوار میں زیتون کے ساڑھے چودہ لاکھ پودے کاشتکاروں کو سبسڈی پر فراہم کئے جا چکے ہیں اور پوٹھوار میں ایک منصوبہ کے تحت زیتون کی کاشت گیارہ ہزار ایکٹر پر کاشت کی جا چکی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت زیتون کی آبپاشی کے مسائل کے حل کے لئے 70 فیصد سبسڈی پر جدید ڈرپ نظام آبپاشی کی تنصیب بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ ادارہ ہذا میں کاشتکاروں کو زیتون کا تیل کشیدگی سبسڈی پر کر کے دی جا رہی ہے۔ ادارہ نے  کاشت کے لئے زیتون کی اقسام تیار کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال ادارہ میں پہلا سنٹر فار ایکسیلنس فار اولیو ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے  ذریعے تحقیق اور کاشتکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

چکوال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments