پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد کی آبادی لائف اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہے،ڈاکٹر محمدافضال

اتوار مئی 18:10

چکوال ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 مئی2019ء) زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمدافضال ملک نے اتوار کے روز بتایا کہ پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد کی آبادی لائف اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہے جو گھریلو سطح پر بھنسیں ، گائے اور بھیڑ بکریاں پالتے ہیں اور ان کی آمدن کا چالیس فیصد حصہ اس کاروبار سے حاصل ہوتا ہے۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر افضال ملک نے بتایا کہ اس کے باوجود گوشت کی صنعت مناسب وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ترقی نہیں کر پارہی۔

کیونکہ جانوروں کو تجارتی بنیادوں پر پالنے کی بجائے روایتی طریقوں سے پالا جاتا ہے اور پاکستان میں گوشت کا شعبہ جانور پالنے اور بیچنے تک غیر منظم انداز میں چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق ا س وقت گوشت کی طلب اور رسد میں بہت بڑ ا خلا ہے جو مرغی کے گوشت کی پیداوار سے اس کمی کو پورا کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بیف فارمنگ کے شعبے کو متحرک کر کے پاکستان کو غذائی اعتبار سے بھرپور بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی زرعی مجموعی زرعی پیداوار میں 55.9فیصد لائف اسٹاک فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں کو فربہ کرنے کی صنعت کو فروغ دیا جائے تو گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ فربہ جانوروں سے صافی گوشت92فیصد جبکہ عام جانوروں میں صافی گوشت48فیصد حاصل ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :

چکوال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments