سامر افتخار نے واشنگٹن پاسیفک نارتھ ویسٹ اوپن ٹینس ٹائٹل اپنے نام کر لیا،سامر افتخارنے فیصلہ کن معرکے میں برازیلین کھلاڑی کومات دی

بدھ اگست 22:04

چکوال ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2017ء) پاکستان کے ڈیوس کپ اور اے ٹی پی پروفیشنل کھلاڑی سامر افتخار نے پاکستان کا نام فخر سے بلند کرتے ہوئے جشن آزادی کا تحفہ دیا ہے اور امریکہ کے شہر واشنگٹن میں منعقد ہونے والے پاسیفک نارتھ ویسٹ اوپن کے فائنل میں برازیل کے کھلاڑی کو سات پانچ، چھ تین سے شکست دیکر سنگل ٹائیٹل اپنے نام کر لیا۔

سامر افتخار نے اپنے فرسٹ کزن اعصام الحق قریشی کے بعد یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ سامر افتخار کے والد خواجہ طیب افتخار جو کہ اپنے بیٹے کے کوچ بھی ہیں نے یہ ٹائیٹل خادم پنجاب میاں شہباز شریف کے نام کر دیا ہے۔خواجہ طیب افتخار نے بتایا کہ سامر افتخار نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج پیش کر دیا ہے۔ خواجہ طیب افتخار نے بتایا کہ میرے والد مرحوم خواجہ افتخار احمد پورے متحدہ ہندوستان کے ٹینس کے نمبر ایک کھلاڑی تھے اور اب ان کی تیسری نسل بھی ٹینس میں ان کے نام کو زندہ کیے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

خواجہ طیب افتخار نے بتایا کہ ہمارا تعلق چکوال سے ہے اور میرے والد خواجہ افتخار احمد نے اپنے چچا خواجہ محمود ایڈووکیٹ کے ہمراہ موجودہ سول کلب چکوال میں آٹھ سال کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا۔ خواجہ طیب افتخار نے بتایا کہ چکوال کی عوامی حویلی ایک مسلسل تاریخ ہے اور اس حویلی سے خواجہ عبدالحمید عرفانی جیسے نامور سکالرنے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر انٹر نیشنل سکالر بریگیڈیر خواجہ طارق محمو دکی عسکری اور ادبی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور اب صحافت کے میدان میں خواجہ بابر سلیم محمود نے تمغہ امتیاز حاصل کر کے خاندان کی اعلیٰ روایات کو آگے بڑھایا ہے۔

خواجہ طیب افتخار نے بتایا کہ سامر افتخار نے چار سال قبل سول کلب چکوال کے اس ٹینس کورٹ پر حاضری دی تھی جہاں سے اس کے دادا خواجہ افتخار احمد نے ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا۔ خواجہ طیب افتخار نے مزید بتایا کہ سامر افتخار کی حوصلہ افزائی کیلئے چکوال پریس کلب میں سامر افتخار کو ضلع چکوال کاسب سے بڑا ایوارڈ دھن چوراسی بھی پیش کیا گیا تھا اور اسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ سامر افتخار نے آج ملک کا نام روشن کیا اور ٹینس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔

متعلقہ عنوان :

چکوال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments