چیچہ وطنی،کراچی نیوی ہسپتال کی قتل ہونی والی نرس کو آہوں اور سسکیوں کے دوران چیچہ وطنی میں سپرد خاک کر دیا گیا

جمعرات جولائی 20:33

چیچہ وطنی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی2017ء) کراچی نیوی ہسپتال کی قتل ہونی والی نرس کو آہوں اور سسکیوں کے دوران چیچہ وطنی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ فردوس تبسم کوساہیوال میں رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی نے مجرمانہ حملے میں ناکامی کے بعد گلا دبا کر پھینک دیا تھا جسے ریسکیو1122نے ہسپتال پہنچایا تھا۔ جہاں وہ 11روز موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھی ۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے نرس کو بربریت کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو سخت سزا ئیں دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کوئی شر پسند ایسی گھنائونی حرکت نہ کر سکے ۔ واقعات کے مطابق فردوس تبسم 24جون کی صبح بائی پاس چوک ساہیوال میں جب ٹرمینل پر اتری اور رکشہ میں سوار ہوئی تو رکشہ ڈرائیور اور اسکا ساتھی نے اسے مجرمانہ حملے میں ناکام کے بعد گلا دبا کر پھینک دیا۔

(جاری ہے)

لیکن اس دوران واپڈا کی ایک چیکنگ ٹیم رات 3بجے آگئی جس نے بچی کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر ریسکیو 1122کی گاڑی کے ذریعے سول ہسپتال پہنچایا جسے بیہوشی کی حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں حالت مزید بگڑ جانے کے بعد سی ایم ایچ اوکاڑہ کینٹ اور پھر سی ایم ایچ ملتان کینٹ میں رکھا گیا ۔11یوم تک قومے میں رہنے کے بعد آج صبح دم توڑ گئی۔ فردوس تبسم کی لاش ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے سپر د کر دی ۔

بتایا گیا ہے کہ فردوس تبسم کراچی نیوی ہسپتال میں بطور سٹاف نرس کام کر رہی تھی جسے تین ماہ کی کارڈیالوجی کی ٹریننگ کے لیے کراچی سے راولپنڈی بھیجا گیا تھا اور وہ عید پر چھٹیاں اپنی بیوہ ماں اور بہن بھائیوں سے ملنے حیات آباد چیچہ وطنی جا رہی تھی کہ اس سانحہ کا شکار ہو گئی۔

متعلقہ عنوان :

چیچہ وطنی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments