چونیاں واقعہ:وزیراعلیٰ کا ملزمان کی نشاندہی کرنیوالےکونقد انعام دینےکا اعلان

جوبھی ملزمان کی نشاندہی کرے گا اس کو 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، معطل افسران کی پوسٹنگ نہیں کریں گےبلکہ ان افسران کو چارج شیٹ کیا جائے گا۔ چونیاں میں میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ ستمبر 17:48

چونیاں واقعہ:وزیراعلیٰ کا ملزمان کی نشاندہی کرنیوالےکونقد انعام دینےکا ..
چونیاں(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 ستمبر2019ء) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے چونیاں واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرنے والے کو نقد انعام دینے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ملزمان کی نشاندہی کرے گا ان کو 50لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، معطل افسران کی پوسٹنگ نہیں کریں گے بلکہ ان افسران کو چارج شیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے آج چونیاں میں متاثرہ لواحقین سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں سب کچھ ٹھیک ہوتا تو مجھے یہاں نہ آنا پڑتا۔

ہم نے بہترین ٹیم پر جے آئی ٹی بنائی ہے، میرٹ پر تفتیش کریں گے اور کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کریں گے، چونیاں میں ڈولفن فورس کو بھی تعینات کردیا گیا ہے۔کوشش کریں گے ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جن پولیس افسران کو معطل کیا ہے ان کی پوسٹنگ کسی بھی جگہ دوبارہ نہیں کی جائے گی۔ ان افسران کو چارج شیٹ اور کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چونیاں واقعات کے کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ایف آئی آر میں اے ٹی اے لگائی گئی ہے۔ملزمان کی نشاندہی کرنے والے کو نقد انعام دیا جائے گا، واقعات میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کیلئے 50لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ قصور میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنایا جائے گا۔ مزید برآں ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کابینہ ارکان کی کارکردگی رپورٹس طلب کرلی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ کے کچھ ارکان کیخلاف مبینہ الزامات پرانکوائری شروع کردی گئی ہے۔ جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی پر تین سے چار وزرا کی وزارتیں تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح ناقص کارکردگی پر کچھ وزراء سے وزارتوں کے قلمدان بھی واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عمرہ کی ادائیگی کیلئے گئے تو انہوں نے جاتے ہوئے ترجمان شہبازگل اور عون چودھری کو عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے جس پر شہباز گل خود مستعفی ہوگئے تھے۔

چونیاں شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments