آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے چیئر مین سردار رفیق شیر بلوچ کی سربرائی میں کابینہ کا ایک اہم اجلاس

آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عمل درآمد نا ہونے پر 23 اگست کو انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ اور جلسہ منعقد کیا جائیگا ،اجلاس میں فیصلہ

منگل اگست 20:33

دالبندین(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2020ء) آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عمل درآمد نا ہونے پر 23 اگست کو انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ اور جلسہ منعقد کیا جائے گا آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے چیئر مین سردار رفیق شیر بلوچ کی سربرائی میں کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کو قیام عمل میں لانے کا مقصد چاغی کے عوامی مسائلوں کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہے آل پارٹیز نے گزشتہ ایک مہینے میں تمام اسٹیک اولڈرز کو اعتماد میں لے کر اپنی موقف سے آگاہ کردیا اسکے بعد باقاعدہ آل پارٹیز میں شامل تمام پارٹیز کے ممبران کی مشاورت سے لوکل کمیٹی، بجلی کی ٹائم ٹیبل اور بلنگ، ٹرانسپورٹرز کی ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کے باوجود ذیادہ کرایہ کی وصولی ودیگر عوامی مسائلوں سے ڈپٹی کمشنر سمیت تمام متعلقہ محکمہ جات کے آفیسران کو دستاویزات پیش کی تاہم انتظامیہ نے آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کو ہر قسم کی یقین دہانی کروادیا مگر ایک ماہ گزر جانے کے باوجود آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے عوامی اور جائز مطالبات پر کوئی عمل درآمد سامنے نہیں آیا۔

(جاری ہے)

آج کہ اس اجلاس میں آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے سرپرست اعلی علی آحمد بڑیچ ،وائس چیئر مین شیر دل مجاز، جنرل سیکرٹری کامریڈ سید محمد نبی،ترجمان حافظ علی محمد بڑیچ، انفارمیشن سیکرٹڑی حاجی فاروق سیاہ پاد رند، فنانس سیکریٹری خلیل نوتیزئی، ودیگر ممبران زاکر بلوچ، ٹکری عبد الغفار نے شرکت کی اجلاس میں اس عظم کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ ہماری جائز مطالبات کو شاہد ہمار ی کمزوری سمجھ کر پدے پشت ڈالا ہے لیکن آل پارٹیز ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی جدو جہد کیلئے کسی بھی قسم کی دباو کے بغیر اپنی لاعمل طے کردیا ہے آل پارٹیز ایکشن کمیٹی انتظامیہ کے خلاف 23 اگست کو اپنی مطالبات کے حق کیلئے ایک ریلی نکالی جائیگی اور مرکزی چوک پر جلسہ منعقد کریگی اگر اسکے باوجود ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو مزید اپنی احتجاج کو وسعت دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔

متعلقہ عنوان :

دالبندین‎ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments