پاناما لیکس میں بہت سے نام تھے ، صرف نوازشریف کا حساب کیوں لیا گیا ، پنڈورا باکس پر کیوں خاموش ہیں ، اسطرح کے احتساب نہیں چلیں گے ،مولانا فضل الرحمن

نیب ہو یا کوئی اوربلا، تمہارا مقابلہ میدان میں کرینگے ،عمران خان نے پاکستان کو جس حالت پر پہنچایا ہے دوبارہ اٹھانا چیلنج ہے، پی ڈی ایم کی تحریک جاری رہے گی ، حکمرانوں کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ،امریکہ نے اڈے مانگے نہیں ،عمران خان کہتا ہے ہم اڈے نہیں دینگے، افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ کو سپر پاور نہیں کہا جا سکتا، جلسے سے خطاب تین سال پہلے ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا، تبدیلی سرکار نے بیڑہ غرق کردیا، عمران نیازی کا وقت پورا ہوچکا ہے ، عوام حکمرانوں سے نجات کیلئے گھروں سے نکلیں، شہباز شریف

اتوار 31 اکتوبر 2021 22:30

پاناما لیکس میں بہت سے نام تھے ، صرف نوازشریف کا حساب کیوں لیا گیا ، پنڈورا باکس پر کیوں خاموش ہیں ، اسطرح کے احتساب نہیں چلیں گے ،مولانا فضل الرحمن
K ڈیرہ غازی خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 اکتوبر2021ء) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ پاناما لیکس میں بہت سے نام تھے ، صرف نوازشریف کا حساب کیوں لیا گیا ، پنڈورا باکس پر کیوں خاموش ہیں ، اس طرح کے احتساب نہیں چلیں گے ، نیب ہو یا کوئی اوربلا، تمہارا مقابلہ میدان میں کرینگے ،عمران خان نے پاکستان کو جس حالت پر پہنچایا ہے دوبارہ اٹھانا چیلنج ہے، پی ڈی ایم کی تحریک جاری رہے گی ، حکمرانوں کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ،امریکہ نے اڈے مانگے نہیں ،عمران خان کہتا ہے ہم اڈے نہیں دیں گے، افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ کو سپر پاور نہیں کہا جا سکتا۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج یہاں ناکام اور نااہل حکومت کی ناکام کارکردگی کے حوالے سے تقریریں ہوئیں، یہ آواز آج نہیں اٹھی ہے،25 جولائی 2018 پاکستان کی جمہوری اور پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ میں نے 26 جولائی کو اسلام میں جمع ہوئے تو کہا تھا یہ الیکشن ناجائز اور دھاندلی ہے اور ہمیں کسی قیمت پر دھاندلی کی پیداوار حکومت قابل قبول نہیں ہے، آج ہماری آواز گلی گلی اور کوچے کوچے پہنچ چکی ہے۔

وفاقی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے وہ ناجائز تھے لیکن ناجائز ہونا ان کے لیے کوئی عیب نہیں ہے اور اب وہ نالائق بھی ہیں، وہ نااہل بھی ثابت ہوئیہیں۔انہوں نے کہا کہ متمدن دنیا میں ریاست کا دار ومدار اس کی مستحکم معیشت پر ہوا کرتی ہے، جس ملک اور جس ریاست کی معیشت گرجاتی ہے پھر وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی، سوویت یونین کی مثال سب کیسامنے ہے۔

انہوںنے کہاکہ رشین فیڈریشن ایک سپرو پاور ریاست تھی لیکن جب اس کی معیشت گر گئی تو پھر سوویت یونین اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکا اور آج پاکستان کا کیا حشر کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارا حکمران جہاں جاتا ہے تو بھیکاری کی طرح کھڑا ہوتا ہے، میرا ناجائز حکمران جس انداز کے ساتھ دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے لیکن اس سے شرم نہیں آتی مگر ہماری آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا ہے، آج پاکستان سالانی ترقیاتی تخمینے کے حوالے سے صفر سے نیچے چلا گیا، آج ہندوستان کی سالانہ ترقی کا تخمینہ 7 اور 8 سے زیادہ ہے، چین کی ترقی کا سالانہ تخمینہ 9 فیصد سے زیادہ، بنگلہ دیش کی ترقی کا تخمینہ 6 فیصد سے زیادہ ہے اور 7 فیصد تک چلاجاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پچھلی حکومت نے ملک کی سالانہ پیداوار مجموعی شرح ساڑھے 5 فیصد پر چھوڑی تھی اوراگلے سال کے لیے ساڑھے 6 فیصد کا ہدف مقرر کیا تھا، کم ازکم یہ تو بتایا جاتا کہ نواز شریف سے اچھی حکومت کر رہے ہیں، حالانکہ تم نے اس کو بدنام کیا، الزامات لگائے اور کرپٹ کہا اس لیے تمہیں ان سے اچھی کارکردگی دکھانی تھی لیکن تم معیشت کو صفر پر لائے ہو۔

انہوں نے کہا کہ میری جنگ یہ ہے اگر حکومت ہوگی تو عوام کے ووٹ کی بنیاد پر ہوگی لیکن اگر ووٹ چوری کرکے اپنا مرضی کے نتائج مرتب کرکے ملک پر اس طرح جابر اور ناجائز حکمران مسلط کیے جائیں گے تو بغاوت کے لیے سب سے پہلے ہم نکلیں گے اور ان حکمرانوں کو ہم چیلنج کریں گے۔انہوںنے کہاکہ یہاں آج کسان رو رہا ہے، آج ڈاکٹر رو رہا ہے، وکیل احتجاج پر ہے، اسکول کا استاد احتجاج پر ہے، جہاں ایک کروڑ نوکریوں کی امید دلائی تھی وہاں 3 کروڑ افراد کو بے روزگار کیا گیا اور نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنے ہوئے 74 سال ہوئے ہیں اور اب تک پاکستان کے مجموعی ملازمین ایک کروڑ تک نہیں پہنچے لیکن اس نے کہا ایک سال میں ایک کروڑ نوکریاں دوں گا تواس پر اعتبار کیسے کیا۔ انہوںنے کہاکہ یہ ملک کو نیب کے ذریعے چلا رہے ہیں، وہ چور ہے اس کے خلاف کیس کرو، نیب کا فلسفہ ایک آمر کا دیا گیا ہے، نیب فعال ہوتا ہے تو سمجھو کہ وہ آمریت کی علامت ہے اور اس ملک پر آج بھی آمرانہ حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے جبر سے آج پیسے کی گردش رک گئی ہے، ملک کی معیشت جمود کا شکار ہوگئی ہے، ایک زمانہ تھا جب بھارت میں بی جے پی کی حکومت تھی اور واجپائی وزیراعظم تھا تو وہ بس میں بیٹھ کر لاہور آیا اور مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا۔انہوںنے کہاکہ بھارت میں آج بھی بی جے پی کی حکومت ہے اور مودی وزیراعظم ہے لیکن مودی کا آپ کے ساتھ آپ رویہ کیا ہے، صرف اس لیے کہ اس وقت آپ کی معیشت مضبوط تھی اور پاکستان سے تجارت کرنا چاہتا تھا، آج وہ آپ کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں اور آکے وجود کا دشمن ہوگیا ہے۔

صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ عمران کو اس ایجنڈے پر لایا گیا تھا کہ کشمیر کو بیچنا ہے تو تم نے کشمیر کو بیچ دیا ہے، آج کشمیریوں کا خون ہو رہا ہے لیکن پاکستان سے ان کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے، ہم نے 70 سال کشمیریوں کے خون پر سیاست کی ہے لیکن آج ہم نے کشمیریوں کو تن تنہا چھوڑا ہے۔انہوںنے کہاکہ جب پاکستان میں چین نے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور سی پیک کا عظیم منصوبہ پاکستان میں آیا، جس کے ساتھ بجلی پیداوار، صنعتی علاقے، پاکستان کی پیدواری صلاحیت وابستہ تھی لیکن ایجنڈے دیا گیا سی پیک کو ناکام بنانا ہے، آج جس طرح پاکستان کی ترقی کے سفر کو جس طرح تباہ و برباد کیا ہے، آج چین ہم سے ناراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورا ایشیا معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے لیکن کوئی ملک پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کو تیار نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں ملک کے اداروں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ واقعتا پاکستان کیلئے وفادار ہیں اور پاکستان کے لیے آپ کے ارادے مشرقی پاکستان جیسے نہیں تو پھر ایسے ناجائز حکمرانوں کی پشتیبانی کرنا کسی قیمت پر بھی پاکستان کے ساتھ وفاداری سے تعبیر نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ بڑے واضح فیصلوں کی طرف جانا ہوگا، ہم نے ابھی اس ملک کو بچانا ہے، پاکستان کو عمران خان جس حالت تک پہنچا چکا ہے، دوبارہ اس ملک کو کیسے اٹھاؤگے یہ شہباز شریف کے لیے بھی چیلنج ہے اور ہم سب کے لیے بھی چیلنج ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اس بڑے چیلنج کو قبول کرنا ہے اور اس چیلنج کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پانامالیکس میں بہت سے نام تھے ،اگر یہ جرم تھا تو پھر نوازشریف کا حساب کیوں لیا گیا اور آپ نے سیاسی مقاصد حاصل کر نے کیلئے صرف اقامے پر نوازشریف کو سزا دی ، یہاں کے کچھ ادارے اس طرح کی چیزوں کو ناجائز طورپر حکمرانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں ، اب پنڈورا باکس آگیا اس میں انہی کے نام ہیں ان کیلئے کیوں خاموش ہیں اس طرح کے احتساب نہیں چلیں گے ، ہم نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ ہم ان حکمرانوں کو کسی بات کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں ، تمہارا نیب ہو ، نیب کے علاوہ کوئی بلا ہو ، جو بلا ہو تم آزما لو انشاء اللہ میدان میں تمہارا مقابلہ کرینگے ،عوام کی عدالت میں مقابلہ کرینگے ۔

انہوںنے کہاکہ انشاء اللہ اس ملک میں عام انتخابات ہونگے اور یہ بلدیاتی کوئی چیز نہیں ،یہ عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ہے تاکہ آپ کی تحریک رک جائے اور یہ تحریک آگے نہ بڑھے ، انشاء اللہ اس پر بھی پی ڈی ایم اپنا مضبوط موقف دیگی اور انشاء اللہ تحریک جاری رہے گی ، اپنے شہروں میں آواز کو پہنچائیںگے ، آپ ہر گائوں ہر چو ک، ہر محلے میں آواز پہنچائیں گے اور انشاء اللہ یہ شکست کھا چکے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کی تحریک آگے بڑھے گی اور انشاء اللہ قوم کے شانہ بشانہ رہیں گے جس طرح اس حکمران نے آپ کو اپاہج بنایا ہے ہم ان کو پیغام دینا چاہتے ہیں قوم بے بس نہیں ہے ،انشاء اللہ پی ڈی ایم عام آدمی کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑی ہے اور ہر محاذ پر یہ جنگ جاری رہے گی اور حکمرانوں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی ۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اڈے مانگے نہیں لیکن عمران خان کہتا ہے ہم اڈے نہیں دیں گے۔

انہوںنے کہاکہ افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ کو سپر پاور نہیں کہا جا سکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر اقوام متحدہ اجلاس سے ویڈیو لنک پر خطاب کیا کیونکہ عالمی دنیا کا کوئی بھی حکمران عمران خان سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی معیشت مضبوط ہو گی توخارجہ پالیسی بھی مضبوط ہو گی ،آج صورتحال یہ ہے کہ ہماراحکمران کہیں جاتا ہے توبھکاری کی طرح کھڑا ہوتا ہے۔

قبل ازیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ آج اپنے گھر آیا ہوں، جولائی 2010 میں جنوبی پنجاب میں سیلاب آیا تھا تو میں جنوبی پنجاب کے کونے کونے میں عوام کے پاس حاضرہوا تھا، ہم نے جنوبی پنجاب کو دوبارہ آباد کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کھاد کی قیمت 1200 روپے تھی جو آج 2400 روپے ہے، آج ڈی اے پی کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، ہم نے کسانوں کو نئے گھر دیئے، شمسی توانائی فراہم کی اور غریب کسانوں میں اربوں روپے تقسیم کیے۔

میاں شہبازشریف نے کہا کہ پورے جنوبی پنجاب میں دانش اسکول نواز شریف کی لیڈرشپ میں بنے جب کہ آج بے روزگاری اور مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے، مہنگائی اورغربت نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور گزشتہ ساڑھے 3 سال میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بھی ہو چکا ہے۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں یونیورسٹی نواز شریف نے بنائی تھی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کون کہتا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہوتا ہی انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پی ٹی آئی کے دور میں سب سے زیادہ کرپشن کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی! آج عوام کا سمندر آپ کو جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھا وقت آنے والا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ آج موٹروے پر سفر کیا تو سوچا ایسی شاندار روڈ نہ ہوتی تو کمر کا کیا ہوتا انہوں نے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ 3 سالوں میں 15 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے لیکن موجودہ حکومت نے کون سے نئے منصوبے شروع کیی میاں شہباز شریف نے کہا کہ آج ادویات کئی گنا مہنگی ہو چکی ہیں، بجلی کے بل بم بن کر گر رہے ہیں، نواز شریف کے دور میں مہنگائی صرف ساڑھے 3 فیصد تھی جب کہ آج مہنگائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ن لیگ کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ عوام تباہ ہو گئی لیکن اس بے حس وزیراعظم کو کوئی خیال نہیں مگر اب یہ رات لمبی نہیں ہے۔ انہوں ںے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی لیڈرشپ میں گھروں سے باہر نکلو،ہم مل کر مہنگائی کے خلاف اس ظالم حکومت کے خلاف مارچ کریں گے، پورا پاکستان آج اشک بار ہے۔ انہوںنے کہاکہ تبدیلی سرکار نے بیڑہ غرق کردیا، عمران نیازی کا وقت پورا ہوچکا ہے ، عوام حکمرانوں سے نجات کیلئے گھروں سے نکلیں۔

انہوںنے کہاکہ یاد کرو جولائی 2010میں جب پورے جنوبی پنجاب میں میانوالی سے اوچ شریف تک پانی سمندر کی طرح ٹھاٹھیں ماررہاتھا، ہزاروں ایکڑ رقبہ تباہ ہوگیا، ہزاروں گھر پانی میں بہہ گئے، اس وقت میں ڈی جی خان اور جنوبی پنجاب کے چپے چپے میں حاضر ہوتا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا جب ہر طرف تباہی تھی ، میں یہاں پر خدمت بتانے نہیں آیا، اربوں روپے ہم نے غریب لوگوں میں تقسیم کیا ،یہ وہ وقت جب بہت تنگی تھی ، ہم نے جنوبی پنجاب کو دوبارہ آباد کیا تھا جبکہ اس وقت کھاد کی قیمت 1200تھی آج 2400 ہے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہا کہ عوام کا اس وقت مہنگائی سے برا حال ہے،ادویات کی قیمتوں میں 400فیصد اضافہ ہوچکا ہے،آج بیروزگاری اور مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوچکا ہے،مہنگائی اور غربت نے عوام کی کمر توڑ دی ہے،کون کہتا تھا ڈالر مہنگا ہو تو وزیراعظم چور ہوتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments