ہکلہ۔ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے منصوبے کی تکمیل رواں مالی سال کے اختتام تک متوقع

منگل دسمبر 14:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 دسمبر2020ء) نیشنل ہائی وی اتھارٹی(این ایچ اے) نے ہکلہ۔ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کی تعمیر کا کام تیز کر دیا رواں مالی سال کے اختتام تک آئندہ سال جون میں اس منصوبے کی تکمیل متوقع ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایک اہلکار نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار لین پر مشتمل 292 کلومیٹر طویل موٹر وے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا حصہ ہے پر تعمیراتی کام کو پانچ مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت موٹر وے کے یارک۔رحمان خیل سیکشن پر 93 فیصدعملی کام مکمل ہوچکا ہے جس کا ٹھیکہ میسرز این ایل سی کو جولائی 2017 میں سونپا گیا تھا۔ رحمان کوٹ۔ بیلیاں سیکشن کا ٹھیکہ میسرز کا ٹھیکہ مشترکہ طور پر ایس کے بی۔

(جاری ہے)

کے این کے کو سونپا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیکشن کو دو پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور اب تک پیکیج 1 پر تقریبا 99 فیصد فزیکل کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ پیکیج۔

II پر تقریبا 93 فیصد ترقیاتی کام مکمل کیا جا چکا ہے جس پر جولائی 2017 میں کام شروع ہوا تھا۔ حکام نے بتایا کہ کوٹ بیلیاں۔تراپ سیکشن کا معاہدہ میسرز ایف ڈبلیو او کے پاس ہےجس پر کام کا آغاز اکتوبر 2016 میںہوا اور اب تک 93 فیصد پیشرفت ہوچکی ہے۔ تراپ۔پنڈی گھیب حصے کا ٹھیکہ میسرز لیمک۔زیڈ کے بی کو جوائنٹ وینچرپر دیا گیا اور نومبر 2016 میں منصوبے پر کام شروع ہوا جو اب تک 61 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔

پنڈی گھیب۔ہکلہ انٹرچینج حصے کا ٹھیکہ بھی میسرز لیمک۔ زیڈ کے جے کو دیا گیا جس پر جنوری 2017 میں کام کا آغاز ہوا اور اب تک اس حصے پر 56 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے۔ چار لین پر مشتمل موٹروے کو فتح جنگ کے قریب پشاور۔اسلام آباد موٹر وے پر واقع ہکلہ انٹرچینج سے شروع کیا گیا ہے۔ ہکلہ سے یہ موٹروے جنوب مغربی سمت سے ہوتے ہوئے فتح جنگ ، پنڈی گھیب ، تراپ اور میانوالی کے قصبوں سے گزر رہی ہے۔اس کے بعد یہ موٹر وے منصوبہ سندھ میں ساگر دوآبہ سے گزرتی ہے اورخیبر پختونخوا میں داخل ہونے سے پہلے میانوالی کے قریب دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے عیسی خیل کے قریب پہنچے گی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال میں یارک شہر کے قریب اختتام پذیر ہو گی۔

ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments