اُردو پوائنٹ پاکستان دیردیر کی خبریںسانحہ آرمی پبلک اسکول کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا

لوئر دیر(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16ستمبر 2016ء): سانحہ آرمی پبلک اسکول کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پولیس نے لوئر دیرمیں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کر گرفتار کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد سانحہ آرمی پبلک اسکول میں سہولت کاری میں ملوث تھے۔ لوئر دیر کے ڈی ایس پی ہدایت اللہ نے بتایا کہ مرکزی سہولت کار کے ساتھ دیگر 4 دہشتگردوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

ہدایت اللہ نے بتایا کہ اسلام وزیر کالعدم تحریک طالبان کا کمانڈر ہے اور اس کا تعلق رباط سے ہے۔ وزیر عُرف مفتی آرمی پبلک اسکول کی منصوبہ بندی میں ملوث اورنگزیب عُرف عمر خلیفہ کا سہولت کار تھا۔ مزید یہ کہ اسلام وزیر لوئر دیر میں جماعت اسلامی کے رہنما اور پولیس اہلکار کے قتل میں بھی ملوث رہا ہے۔

(خبر جاری ہے)

ڈی ایس پی ہدایت اللہ نے مزید بتایا کہ اسلام وزیر 23 مختلف مذہبی سیمینارز میں تعلیم بھی دیتا رہا ہے اور مبینہ طور پر اس کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ماسٹر مائنڈ سے بھی روابط ہیں۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد اسلام وزیر پہلے سعودی عرب اور پھر افغانستان فرار ہو گیا تھا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ سہولت کار اسلام وزیر اور دیگر گرفتار دہشتگردوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول 16 دسمبر 2014ء کو پیش آیا تھا جس میں 133 طلبا شہید ہو گئے تھے۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

دیر شہر کی مزید خبریں