سست تیلے کے جسم سے خارج ہونے والے لیس دار مادہ کی وجہ سے مکئی کے پتوں پر پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ پتوں کے خوراک بنانے کا عمل متاثر ہونے کے علاوہ پولن کو بھی نقصان پہنچتا اور چھلیوں میں دانے کم بنتے ہیں۔کاشتکاروں کو فصل پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت

ہفتہ اپریل 14:38

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اپریل2019ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ سست تیلا ، چست تیلا، امریکن سنڈی ،گڑوؤں کی سنڈی ، لشکری سنڈی بہاریہ مکئی کی فصل پرحملہ آور ہو کر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا کاشتکار فصل کو بیماریوں اور کیڑوں کے حملے سے بچانے کیلئے فوری حفاظتی و تدارکی اقدامات یقینی بنائیں ۔ ایک ملاقات کے دوران انہوںنے کہا کہ چست تیلا اور سست تیلا پودے کے پتوں سے رس چوستے ہیں جس سے پتوں پر سفید نشان بن جاتے ہیں اور پتے خشک ہو جاتے ہیںنیز سست تیلے کے جسم سے خارج ہونے والے لیسدار مادہ کی وجہ سے پتوں پر پھپھوندی لگ جاتی ہے جس سے پتوں کے خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ پولن (زردانی) کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے چھلیوں میں دانے کم بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ امریکن سنڈی فصل کے نرم پتوں کو کھاتی ہے اور چھلیاں بننے پر دانوں کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے اسی طرح مکئی کے گڑوویں کی سنڈیاں سوائے جڑ کے تمام حصوں پر حملہ کرتی ہیں جوپتوں اور بھٹوں کے پکے دانوں کو بھی کھا جاتی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ لشکری سنڈیاں گروہ کی شکل میں انڈوں سے نکل کر پتوں کو نچلی سطح سے اس طرح کھاتی ہیں کہ پتوں کی صرف جھلی باقی رہ جاتی ہے۔

انہوںنے بتایاکہ سنڈی کا حملہ ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے اور بڑی سنڈی بھٹوں سے نکلنے والے سلک کو بھی کھا جاتی ہے جس سے چھلی میں دانے بننے کا عمل رک جاتا ہے۔انہوںنے بتایا کہ لشکری سنڈی کا حملہ اگر ٹکڑیوں کی صورت میں ہو تو انڈے اور سنڈیاں ہاتھ سے پکڑ کر تلف کردیں جبکہ نر پروانوں کی تلفی کیلئے روشنی کے پھندے لگائیں۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار نقصان رساں کیڑوں اور سنڈیوں کے کیمیائی انسداد کیلئے زرعی ماہرین کی سفارش کردہ کیڑے مار زہروں کا استعمال کریں۔

متعلقہ عنوان :

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments