حکومت پنجاب نے کاشتکاروں کو چنے کی کاشت پر 5 ایکڑ تک بذریعہ واؤچر2 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی کی فراہمی کا آغاز کردیا

جمعرات 21 اکتوبر 2021 13:48

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اکتوبر2021ء) حکومت پنجاب نے کاشتکاروں کو چنے کی کاشت پر 5 ایکڑ تک بذریعہ واؤچر2 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی کی فراہمی کا آغاز کردیاہے اور کہا ہے     کہ  چناایک پھلی دار فصل ہے اور غذائیت کے اعتبار سے یہ گوشت کا نعم البدل سمجھا جاتا ہے جبکہ چنا پنجاب میں تقریباً 24لاکھ ایکڑ پر کاشت کیا جاتا ہے جو ہمارے ملک میں چنے کے کل رقبے کا80 فیصد ہے نیزچنے کی فصل92 فیصد بارانی علاقہ جات بشمول تھل کے اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔

پلسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹرچوہدری محمد رفیق نے کہاکہ کاشتکار بارانی علاقوں میں چنے کی کاشت جلد ازجلد مکمل کر لیں جبکہ آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت15 نومبر تک جاری رکھیں۔نہوں نے کہا کہ کاشتکار دیسی چنے کی ترقی دادہ اقسام بٹل2016،نیاب سی ایچ104,نیاب سی ایچ2016،بھکر2011،پنجاب 2008اور بلکسر2000 جبکہ کابلی چنے کی ترقی دادہ اقسام سی ایم 2008،نور2009 اور ٹمن 2013کا صحت مند بیج استعمال کریں نیزکاشتکار چنے کی کاشت سے قبل بیج کو پھپھوندی کش زہر اور جراثیمی ٹیکہ ضرور لگائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دیسی و کابلی چنے کی عام جسامت والے دانوں کا صاف ستھرا،صحتمند بیج30 کلوگرام اور موٹے دانوں کی اقسام کا 35 کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال اورچنے کی کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔علاوہ ازیں قطاروں کا درمیانی فاصلہ30 سینٹی میٹر(1 فٹ) اور پودوں کا درمیانی فاصلہ15 سینٹی میٹر(6انچ) ہونا چاہیے تاہم میرا زمینوں اور زیادہ بارش والے علاقوں میں قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر(ڈیرھ فٹ) رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ آبپاش علاقوں میں چنے کو ڈیرھ بوری ڈی اے پی کھاد فی ایکڑ ڈالیں اورکھاد بوائی کے وقت زمین کی تیاری کے دوران ڈالنی چاہیے اسی طرح بارانی علاقہ جات میں جہاں وتر موجود ہو وہاں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں جبکہ جن ریتلے بارانی علاقوں میں بوائی بغیر زمین کی تیاری کی جاتی ہے وہاں کھاد سیاڑوں کے ساتھ ڈرل کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر جڑی بوٹیاں اگ آئیں تو ابتدائی مر حلہ میں ان کا تدارک بھی یقینی بنائیں۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments