زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور سپیریئر یونیورسٹی کے مابین تعلیم و تحقیق اور زراعت کے شعبے میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے

جمعرات 21 اکتوبر 2021 16:40

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور سپیریئر یونیورسٹی کے مابین تعلیم و تحقیق اور زراعت کے شعبے میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اکتوبر2021ء) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور سپیریئر یونیورسٹی کے مابین تعلیم و تحقیق اور زراعت کے شعبے میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے تاکہ بین الاقوامی معیار کی حامل افرادی قوت اور تحقیقات کی بدولت تعلیم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔

مفاہمت کی یادداشت پر دستخط زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں اور سپیریئر یونیورسٹی کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے سنڈیکیٹ روم میں منعقدہ تقریب میں کئے۔ اس موقع پر تمام ڈینز، ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے فیکلٹی اور سٹوڈنٹ کے تبادلے، مشترکہ تدریس و تحقیق، پبلی کیشنز، سیمینار، کانفرنسز کا اہتمام کریں گے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوتے ہوئے دورحاضر کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

(جاری ہے)

معاہدے میں جوائنٹ ڈگری پروگرام کے انعقاد کے متعلق امکانات بھی تلاش کئے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ اس سال پانچ ارب سے زائد کی دالیں اور خوردنی تیل درآمد کیا گیا ہے جو کہ ایک زرعی ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیریئر یونیورسٹی کے ساتھ تعاون سے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لاتے ہوئے زراعت کو درپیش چیلنجز کا سائنسی بنیادوں پر حل تلاش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد آئی بی اے سکھر کے ساتھ ٹو پلس ٹو بی بی اے پروگرام کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہے جس کے تحت کاروباری مہارتوں کی حامل افرادی قوت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیریئر یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈ کے تحت زرعی یونیورسٹی کے ماہرین بہترین تحقیقی سفارشات سامنے لاتے ہوئے زراعت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دہقان کی اولاد زراعت کو پیشے کے طور پر اپنانے سے گریزاں ہے اگر ہم زراعت کو جدید رحجانات سے روشناس کراتے ہوئے منافع بخش کاروبار بنا سکیں تو نہ صرف اس سے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ کاشتکاروں کے طرز زندگی کو بھی بہتر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی میں 187ڈگری پروگرامز کے تحت خصوصی طور پر زراعت میں بہترین افرادی قوت پیدا کی جا ری ہے جن میں انٹرپنیور مہارتوں کو نکھارنے پر کام کیا جائے تو نہ صرف ان کا مستقبل بہتر ہو گا بلکہ ملک بھی معاشی اعتبار سے ترقی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی میں چار ارب سے زائد تحقیقات جاری ہیں۔ سپیریئر یونیورسٹی کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کا عقلمندانہ استعمال کر کے ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے مربوط کوششیں عمل میں لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں جدید رحجانات کو اپنا کر نہ صرف پیداواریت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مستحکم زرعی معیشت سے غربت میں کمی بھی واقع کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپیریئر یونیورسٹی تحقیقی فنڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے جس میں پچاس لاکھ سے زائد کی گرانٹ مختص کی گئی ہے تاکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بہترین تحقیقات کی بدولت نہ صرف عوامی مسائل حل کئے جائیں بلکہ انڈسٹری کو درپیش مشکلات دور کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فنڈ سے استفادہ کرنے کے لئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سائنسدانوں کو بھی تحقیقی پرپوزل سامنے لانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سپیریئر یونیورسٹی میں چار سالہ انڈرگریجوایٹ ڈگری کا آخری سال طلباء میں انٹرپنیورصلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے مختص کیا گیا ہے جس میں طلباء جدت پر مبنی کاروباری منصوبہ جات سامنے لے کر آتے ہیں تاکہ مستقبل میں وہ ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال طلباء نے چالیس نئے کاروبار کا اجراء کیا جس کے تحت معیشت میں تین سو ملین کا ریونیو اور تین سو سے زائد نئی نوکریاں دستیاب ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا باسمتی چاول دنیا بھر میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے تاہم ویلیوایڈیشن نہ ہونے کے باعث انڈیا کا باسمتی چاول نے بین الاقوامی منڈیوں میں جگہ بنائی ہے اگر ہم مناسب مارکیٹ تکنیک اور ویلیوایڈیشن کو یقینی بنائیں تو اربوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء میں کاروباری استعدادکار پیدا کر کے اور تعلیم و تحقیق کو بین الاقوامی سطح سے ہم آہنگ بنا کر ہی ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں جس کے لئے ان کا ادارہ کوشاں ہیں۔

اس موقع پر پرووائس چانسلر ڈاکٹر انس سرور قریشی، ڈاکٹر اصغر باجوہ، ڈاکٹر امان اللہ ملک، ڈاکٹر مسعود صادق بٹ، ڈاکٹر محمد اسلم مرزا، ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر سرفراز حسن، ڈاکٹر محمد جلال عارف، ڈاکٹر وسیم اکرم، رجسٹرار طارق محمود گل، ڈائریکٹر ایچ آر ڈاکٹر منظوم اختر، سپیریئر یونیورسٹی ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر داؤد مامون اور سینئر صحافی شاہد علی بھی موجود تھے۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments