اُردو پوائنٹ پاکستان فیصل آبادفیصل آباد کی خبریںفیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی کمزور پوزیشن نے لیگی قیادت کو پریشان کردیا آج ..

فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی کمزور پوزیشن نے لیگی قیادت کو پریشان کردیا

آج فیصل آباد ڈویژن کی18سیٹوں میں سے صرف ’’4‘‘ ایسی ہیں جہاں مسلم لیگ مضبوط پوزیشن کے ساتھ میدان میں ہے۔ ان 4میں ایک حلقہ آزاد امیدوار کا ہے ،سابق سینیٹر طارق چوہدری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2018ء)فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی کمزور پوزیشن نے لیگی قیادت کو پریشان کردیا۔سابق سینیٹر طارق چوہدری نے اپنے کالم میں مسلم لیگ ن کی کمزور پوزیشن پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ
آج فیصل آباد ڈویژن کی18سیٹوں میں سے صرف ’’4‘‘ ایسی ہیں جہاں مسلم لیگ مضبوط پوزیشن کے ساتھ میدان میں ہے۔ ان 4میں ایک حلقہ آزاد امیدوار کا ہے ،۔

تفصیلات کے مطابق سال 2018 پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں ایک اہم اور تاریخی سال ہے۔تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 جمہوری حکومتیں اپنے اپنے آئینی ادوار مکمل کر کے رخصت ہو چکی ہے۔2018 انتخابات کا سال ہے۔ایک جانب ملکی اداروں نے انتخابات کی تیاری شروع کر رکھی ہے تو دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ایک جانب سیاسی پاور شو جای ہیں تو دوسری جانب سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔

پاکستان میں اس وقت ہر جگہ الیکشن کے چرچے ہیں۔ایک جانب عوام الیکشن 2018 کے انتخابات پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب سیاسی پنڈت بھی اس الیکشن کو پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تیسری مرتبہ انتقال اقتدار کا مرحلہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔

۔پنجاب میں لاہورکے بعد فیصل آباد میں تگڑا سیاسی مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں کڑا مقابلہ ہوگا ۔دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے تگڑے امیدواروں کو اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اہم مقابلہ این اے 106 میں متوقع ہے جہاں ن لیگ کے رانا ثنا اللہ کا مقابلہ حال ہی میں ن لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کرنے والے نثار جٹ سے ہو گا۔

این اے 108 میں عابد شیر علی کا مقابلہ تحریک انصاف کے فرخ حبیب سے ہے۔این اے 110 سے ن لیگ نے رانا افضل کا ٹکٹ روک رکھا ہے جس کا فیصلہ پیر کو ہو گا جبکہ تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی سے آنے والے راجہ ریاض کو میدان میں اتار دیا ہے۔ این اے 102 سے طلال چوہدری کا مقابلہ تحریک انصاف کے نواب شیر وسیر سے ہو گا۔اس حوالے سے سیاسی حلقوں کی جانب سے نثار جٹ کو رانا ثنا اللہ کے خلاف اور فرخ حبیب کو عابد شیر علی کے خلاف تگڑا امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن نے زیرک رہنماوں نے بھی انتخابات میں اپنی کمزور پوزیشن کو تسلیم کرلیا ہے۔مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر طارق چوہدری نے بھی اپنے کالم میں فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی کمزور پوزیشن کو تسلیم کرلیا ہے ۔اس حوالے سے وہ قومی اخبار میں چھپنے والے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ فیصل آباد مسلم لیگ (ن) کا قلعہ اور لاڑکانہ ہوا کرتا تھا۔

گزشتہ انتخاب میں تحریک انصاف لاہور میں ایک سیٹ جیت گئی اور باقی حلقوں میں قابل ذکر ووٹ حاصل کئے جبکہ فیصل آباد ڈویژن کے 18حلقوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکی۔ آج فیصل آباد ڈویژن کی18سیٹوں میں سے صرف ’’4‘‘ ایسی ہیں جہاں مسلم لیگ مضبوط پوزیشن کے ساتھ میدان میں ہے۔ ان 4میں ایک حلقہ آزاد امیدوار کا ہے جہاں مسلم لیگ کوئی امیدوار نہیں لاسکی وہ اس آزاد امیدوار کی حمایت کر رہی ہے جس نے ان کا ٹکٹ لینے سے
انکار کر دیا تھا۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے تین حلقوں میں مقابلے کی پوزیشن میں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

فیصل آباد شہر کی مزید خبریں