فیصل آباد میں پی ڈی ایم کا کامیاب سیاسی شو، تاہم کوئی اہم اعلان نہیں کر سکی

اتوار 17 اکتوبر 2021 00:22

فیصل آباد (رپورٹ سید ذکر اللہ حسنی، اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2021ء) فیصل آباد میں پی ڈی ایم نے کامیاب سیاسی شو کی تاہم کوئی اہم اعلان نہیں کر سکی۔

راہنماؤں نے وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کے خوب لتے لیے۔ راہنماؤں نے کہا کہ ظالم اور نااہل حکومت سے چھٹکارے کے لیے اب جلسوں سے ہٹ کر سڑکوں پر آنا ہو گا۔ یہ حکومت ختم نہ ہوئی تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ جس حالت پر ملک کو پہنچا دیا گیا ہے اس سے نکلنا مشکل ہے لیکن ہم چیلنج سمجھ کر ذمہ داری قبول کریں گے۔

(جاری ہے)

چوروں کا سردار بے ایمان نہیں ہو سکتا۔ جلسہ سے جمعیت علماء اسلام و پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، مسلم لیگ نواز کی مرکزی رہنما مریم نواز شریف، سربراہ مرکزی جمیعت اہلحدیث سنیٹر ساجد میر، سربراہ جمیعت علماء پاکستان اویس نورانی،محمود اچکزئی، مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال،سابق سی ایم بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے خطاب کیا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ یہ جلسہ رسول اللہ کے میلاد کے مہینہ میں ہے۔ہم انہی کے نقش قدم پر پاکستان کو اسلام اور انصاف کا گہوارہ بنائیں گے۔ جو حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کا احتساب کررہے ہیں ان کا احتساب اب پی ڈی ایم کرے گی۔ ریاست کا دارومدار دفاعی اور اقتصادی قوت پر ہوتا ہے۔

معیشت گر جائے تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ سوویت یونین بارہ سال میں معیشت سمیت گر گیا۔ ایک بار پھر دنیا پر معیشت کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ سوسال پہلے یورپ نے ایشیاء کو قبضے میں کیا۔ اب چین اقتصادی قوت بن رہا ہے۔ عمرانی حکمرانی یورپ کا ایجنڈا پاکستان لایا ہے۔ جس کا مقصد چینی بلاک کو توڑنا ہے۔ گلہ بھی اداروں سے یہی ہے کہ وہ بھی پاکستانی ہیں غلطیاں نہ کریں۔

تہتر کا آئین میثاق ملی ہے پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔ جہاں عوام کے بچوں کو بھوک کا مسئلہ ہو تو وہ عوام کیسے جدوجہد کرے گی۔ پی ڈی ایم ایسے نااہل حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کے لیے بنایا ہے۔ ہم عوام کے ساتھ حکمرانوں کو رخصت کریں گے۔ چین سے ہمالیہ سے بلند شہد سے میٹھی دوستی کو آج اس حکومت نے اہمیت نہیں دی۔ سی پیک کو رول بیک کر دیا۔

افغانستان کا معاملہ سامنے ہے۔ بھارت کے ہاتھوں کشمیر بیچ دیا ہے۔ کشمیر فروش کو کیسے پاکستانی عوام کا نمائندہ کہا جائے۔ کب تک ہر کسی کو چور چور کہ کر سیاست کرو گے۔ تم نے فضل الرحمن کو چیلنج کیا تمہیں جواب مل گیا۔ تمہیں سیدھا کرنے کے لیے میرا ایک مکہ ہی کافی ہے۔ باقیوں کو چور کہا اپنے اردگرد نظر ڈالو تمہارے اردگرد چور ہیں اور تحفے میں ملی قیمتی گھڑی بیچ دی۔

شرم نہیں آتی بے شرموں نے تحفہ بیچ دیا۔ ہم نے ایسے بے شرموں سے جان چھڑانی ہے۔ اب ہمیں جلسوں سے ہٹ کر سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ پی ڈی ایم قیادت عوام کی قیادت کرے۔ آج عوام کو ساتھ لے کر حکومت کو نہ ختم کیا تو خانہ جنگی ہو گی ۔ قوم سڑکوںپر آئے ۔جب تک ہم تھے کشمیر محفوظ تھا ہمارے جاتے ہی کشمیر بیچ دیا۔ فاٹا میں معاملات خراب کردیے۔ ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی۔

احمقانہ بات ہے۔ آج تک پاکستان بننے سے اب تک سرکاری ملازموں کی تعداد ایک کروڑ تک نہیں پہنچی۔ نوجوانوں کو بے وقوف بنایا۔ ریٹائرمنٹ سے قبل ایک جج نے سولہ ہزار ملازمین کی برطرفی کا دیا۔ تیس لاکھ ملازم برطرف کر دیے۔ قرضے ستر سال کےایک طرف اور تین سال کے ایک طرف۔ پی ڈی ایم عوام کے ساتھ نکلے گی اور اس حکومت سے جان چھڑائیں گے۔ جس حالت پر ملک کو پہنچا دیا ہے اب ہم بھی پریشان ہیں کہ کیسے نکالنا ہے۔

مگر چیلنج سمجھ کر ذمہ داری لینی ہے۔ انقلاب لانا ہے۔ اسلامی انقلاب لانا ہے۔ کامیاب اجتماع پرمبارکباد پیش کرتے ہیں۔ 31 اکتوبر کو ڈیرہ غازیخاںمیں پہنچیں گے۔پی ایم ایل این کی راہنما مریم نواز نے کہا کہ کبھی سنا کہ چوروں کا جو سردار ہے وہ ایماندار ہے؟ اگر نہیں تو کہاں ہے جے آئی ٹی اور کہاں جسٹس کھوسہ؟؟یہ چٹ سے بھی غلط پڑھتا ہے۔

فارن پالیسی ایسی ہے کہ مودی فون نہیں اٹھاتا اور جوبائیڈن فون نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ میں اس لیے نہیں گیا کہ دنیا کا کوئی سربراہ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا اسے میئر سے زیادہ نہیں سمجھتا۔عمران کہتا تھا کہ نواز نے فوج کو پنجاب پولیس بنا دیا ہے۔ مگر ہم پولیس کی عزت کرتے ہیں۔ نواز نے جب بھی سٹینڈ لیا سویلین بالادستی کی خاطر عوام کےلیے لیا۔

نواز نے اس کی پاداش میں تین حکومتوں کی قربانی دی۔ بیٹی،داماد،جیل گئے۔ عمران کی باری آئی تو فوج کے ادارے پر خودکش حملہ کیا۔ادارے کے سربراہ کو کرسی پر رکھنے کے لیے اپنے حامی شخص جو صحافیوں کو اغواء،نوکریوں سے نکلواتا ہے،چینلز کو بند کراتا ہے، الیکشن چوری کرتا ہے۔ مائی باپ کے لیے ایک شخص کے لیے پاکستانی فوج کو تماشا بنا دیا۔

تقرریاں ہوا میں لٹک گئیں۔آج آفیسرز کو سمجھ نہیں آ رہی کہ چارج رکھنا ہے یا چھوڑنا۔ہے۔ فوج کے اعلیٰ افسران کی تقرریاں جن بھوت کر رہے ہیں پی ایم اور ادارے نہیں کررہے۔ تقرریاں ایسے ہو رہی ہیں کہ فلاں کا نام ف،ن،ع،ل سے شروع ہوتا ہے۔ قوم جانتی ہے کہ اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے کیا ہے۔ یہ جانتا ہے کہ وہ شخص کرسی سے ہٹا تو عمرانی حکومت منہ کے بل زمین پر گرے گی۔

نواز کی بصیرت کو سلام ہے کہ اس نے چار سال پہلے کہا تھا عمران جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔ تقرری وزیراعظم کا اختیار ہے اور استحقاق ہے مگر عوام کا وزیراعظم چننا عوام کا استحقاق ہے پہلے عوام کو اس کا حق دو پھر وہ اپنا پی ایم چنے پھر فیصلہ کرے کس کی تقرری کرنی ہے۔ ہم عمران کے ساتھ سلیکٹڈ سمجھتے ہوئے بھی کھڑے ہو جاتے مگر قوم کیوں ساتھ دے جس نے جمہوریت کو آمریت کا لبادہ اوڑھایا۔

اس نے آئین کے لیے نہیں اسے تار تارکرنے کیلیے سٹینڈ لیاہے۔ یہ عمران نہیں اس شخص کیخلاف بھی چارج شیٹ ہے جس نے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ پینل انٹرویومیں آر ٹی ایس بٹھانے،ڈبے چوری کا پوچھے گا؟ کبھی نواز بننے کی بھول کر بھی کوشش نہیں کرنا۔ شیر کی کھال پہننے سے کوئی گیدڑ شیر نہیں بنتا۔ عوام میں سیاسی شہید بننے نہ جانا۔ کس منہ سے عوام

کےپاس جاؤ گے؟ تباہی کا حساب لینے کو تیار ہو؟؟سربراہ مرکزی جمیعت اہلحدیث سنیٹر ساجد میر، سربراہ جمیعت علماء پاکستان اویس نورانی،محمود اچکزئی، مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال،سابق سی ایم بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے بھی خطاب کیا۔

مریم نواز نے چوہدری شیر علی اور رانا ثناء اللہ خان کو دائیں بائیں کھڑا کر کے خطاب کیا۔ سٹیج کے پیچھے اور وی آئی پی داخلہ گیٹ پر مرکزی جمیعت اہلحدیث یوتھ فورس اور مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ گروپ کے لیڈران کے درمیان سٹیج پر جانے کے تنازعہ پر تلخ کلامی اور دو تین بار ہاتھا پائی بھی ہوئی۔جلسہ دس بج کر چالیس منٹ پر اختتام پذیر ہوا۔ کنوینیئر جلسہ کاشف نواز رندھاوا، میڈیا کوآرڈی نیٹر حافظ شفیق کاشف نے دھوبی گھاٹ بھرنے اور کامیاب جلسہ کے انعقاد پر پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکنوں کو مبارک باد دی اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments