دانشورڈاکٹر اعجاز تبسم کے سفرنامہ ’’ترکی بہ ترکی‘‘کی تقریب رونمائی

جمعہ اپریل 22:32

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اپریل2019ء) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق طالب علم اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے ڈائریکٹر ،ْ ادیب اور سفرنامہ نگار دانشورڈاکٹر اعجاز تبسم کے سفرنامہ ’’ترکی بہ ترکی‘‘ کی تقریب رونمائی یونیورسٹی کے نیو سینٹ ہال میں منعقدہوئی، نامور کالم نگار ‘دانشور ‘ ڈرامہ نگار اور صحافی طارق اسماعیل ساگر نے مہمان خصوصی جبکہ یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے مہمان اعزاز کے طور پر تقریب میں شرکت کی، مہمان خصوصی طارق اسماعیل ساگر نے کہا کہ کتاب کے لکھاری اس ملک کی نظریاتی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیںاوراپنے سفرنامے میں پیش آنیوالے واقعات کو بڑے دلچسپ پیرائے میں تحریر کرتے ہیں، انہوں نے کتاب کے مصنف کی خصوصیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اعجاز تبسم اپنے قاری کو ساتھ لیکر چلنے کا فن جانتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاست کو درسگاہوں میں لانا بڑی بدقسمتی ہے اور ہم اس حوالے سے بہت کمزور واقع ہوئے ہیں کہ ہم کوشش کے باوجود سیاست کو اعلیٰ تعلیم کی دانش گاہوں تک لے آئے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ عموماً سفرنامہ نگار بڑے میسنے ہوتے ہیں اور حقائق کے برعکس ایسے عجیب و غریب واقعات اور باتیں بھی کتاب کا حصہ بنا دیتے ہیں جن کا واسطہ بعد میں وہاں جانیوالوں سے نہیں پڑتا لیکن اعجاز تبسم نے وہی لکھا جو محسوس کیا ۔ یونیورسٹی کے پرووائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے اعجاز تبسم کو اپنے عشق کا ٹھرکی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسے لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے ہمہ وقت سوچ بچار کرنے اور کوشاں رہنے والے اپنے مشن کے ٹھرکی ہوتے ہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف کی تعیناتی کو میرٹ کی فتح قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کا تعاون ہمیشہ انہیں حاصل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور وہ لڑکپن کے دنوں میں ادبی محفلوں کا حصہ بننے کیلئے ہر ہفتہ وار چھٹی کی رات فیصل آباد سے لاہور میں پاک ٹی ہائوس کیلئے رخت سفر باندھتے اور وہاں خاموش بیٹھے رہنے کے بعد رات گئے واپس آ جایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز تبسم یونیورسٹی کا سرمایہ افتخار ہے جس پر ہم سب کو فخر ہے۔ ڈاکٹر طاہر صدیقی نے کہا کہ سفرنامے تحریر کرنے والے لوگ اللہ کے منتخب کردہ ہوتے ہیں اور ڈاکٹر اعجاز تبسم کا قلم جب رواں ہوتا ہے تو مسلسل لکھے چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان سے ادا ہونے والے لفظ کے مقابلہ میں ضبط تحریر ہونیوالا لفظ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے لہٰذاالفاظ کی ادائیگی میں ہمیشہ احتیاط کرنی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کتاب کا قاری اپنے قلمکار کے ساتھ ساتھ نہیں چلتا تو ایسا قلم توڑ دینا چاہئے۔ نعت گو شاعر اور ماہر تعلیم ریاض احمد قادری نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز تبسم اول و آخر ادیب ہیں اور جس سفر پر بھی روانہ ہوئے اسے صفحہ قرطاس پر منتقل ضرور کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی دنیا بھر میں اپنی نیک نامی کا لوہا منوانے والی دانش گاہ ہے اور یہاں پروان چڑھنے والا علم و ادب اسے الحمراء‘ غرناطہ اور اندلس سے ہرگزکم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہرچند یونیورسٹی کے نئے سالار کارواں کی تعیناتی عمل میں آ چکی ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسے انہی لائنز پر آگے لیکر چلیں گے جس پر اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ معروف صحافی محبوب الٰہی نے کہا کہ کتاب کا لکھاری ایک نیک انسان ہے جس نے اپنی دورہ ترکی کے دوران ترک معاشر ت اور زراعت کا قریب سے جائزہ لیتے ہوئے کتاب تحریر کی۔

انہوں نے ڈاکٹر اعجاز تبسم کو درویش دانشور قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اعجاز تبسم جیسے مزیدلکھاری یونیورسٹی کی رعنائیوں میں مزید اضافہ کرتے رہیں۔ کتاب کے لکھاری ڈاکٹر اعجاز تبسم نے کہا کہ تین دہائیاں قبل انہوں نے یونیورسٹی میں سوسائٹی آف ایگریکلچرل رائٹرز کے جس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی تھی اس کے ذریعے آج کشت نو کیلئے ادارتی ٹیم کی نرسری پروان چڑھتے دیکھ کر وہ انتہائی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک معاشرے کو تبدیل ہونے میں ایک صدی لگی ہے ۔ تقریب سے ڈاکٹر شوکت علی‘ ڈاکٹر عقیلہ صغیر اور نامور مزاح نگار سید قمر بخاری نے بھی خطاب کیا۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments