آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی کشمیریوںاورپاک فوج سے اظہاریکجہتی کیلئے محکمہ انہار سے ضلع کونسل چوک تک ریلی

جمعہ ستمبر 15:49

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) کشمیریوں اورپاک فوج سے اظہاریکجہتی کے لئے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا)نے محکمہ انہارسے ضلع کونسل چوک تک ریلی نکالی ،ریلی میں سینکڑوںملازمین نے شرکت کی۔شرکاء ریلی نے پاکستان زندہ باد،کشمیربنے گاپاکستان،پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے، ریلی کی قیادت ڈویژنل صدرچوہدری امتیازاحمدتتلہ اورجنرل سیکرٹری چوہدری ذوالفقارعلی کاہلوں،سینئرنائب صدر پنجاب رانامحمداحمد خاں،چیئرمین رانایاسرخورشید، میاں مقصودصوفی عبدالحفیظ،وارث گجر، چوہدری جاوید،شاہدامین،قاسم نور،سعادت بلوچ،آصف گل،چوہدری قاسم،جمیل خان خٹک،شیخ جمیل،راضون چٹھہ،یٰسین بلوچ،پرویزبسرا،حکیم خان نیازی،تجمل حسین ،شفیق خاں اوردیگرعہدیداران نے کی۔

(جاری ہے)

مظاہرین نے بینرزاورکتبے بھی اٹھارکھے تھے جن پربھارتی حکومت کے فیصلے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چوہدری امتیازاحمدتتلہ نے کہاکہ قائداعظم کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قراردیاہے اورکوئی جسم بھی شہ رگ کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتا کشمیر آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہوگا شہیدوںکا خون رائیگاں نہیں جائے گا،بھارتی حکومت کا فیصلہ پاکستانی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے، انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں اورہرمحاذ پرپاکستان کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیارہیں،جنرل سیکرٹری ذوالفقارعلی کاہلوں نے کہاکہ جب بھی پاک فوج نے آواز دی تو ایپکاکاہرکارکن پاک فوج کاسپاہی بن جائے گا،کشمیریوںپرہونے والے ظلم وستم کا جواب بھارت کودیناہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کشمیر پر جس ثالثی کی پیشکش کررہاہے اگر اس کا مقصد کشمیر کے دیرینہ اور بین الاقوامی موقف کی بجائے وادی کی بندر بانٹ ہے تو اسے خود کشمیری بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ کشمیر پر ثالثی کو اسی صورت تسلیم کیا جائے گا جب اس کا مقصد استصواب رائے کرانااور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے اس اقدام سے پورا خطہ جنگ کے خطرے سے دوچار ہوگیاہے اور عالمی برادری نے فوری طور پر اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطے میں جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے اور پھر یہ جنگ کسی ایک علاقے یا خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments