دس روپے کی روٹی پندرہ روپے کا نان ،یہ ہے نیا پاکستان ، واہ رہے عمران خان،بلاول بھٹو زرداری نعرہ

انسداد تجاوزات کے نام پر لوگوں سے چھت چھینی جارہی ہے، نئے پاکستان کے نام پر پرانے پاکستان کو تباہ کرنیوالوں کو روکیں گے چوری کے ووٹ سے بننے والی حکومت سینہ زوری پر اتر آئی ہے نئے پاکستان میںمشاورت ہے نہ وژن ، 100دن پورے نہیں ہوئے ، 100سے زیادہ یوٹرن لے چکے ہیں معیشت تباہ ہورہی ہے لیکن حکومت تالیاں بجارہی ہے قرض لینے پر خود کشی کرنے کا کہنے والے آج قرض ملنے پر مٹھائیاںبانٹ رہے ہیں نوکریاں دینے کا وعدہ کرنیوالے نوکریاں چھین رہے ہیں،گلگت بلتستان میں جلسے سے خطاب

اتوار نومبر 19:20

دس روپے کی روٹی پندرہ روپے کا نان ،یہ ہے نیا پاکستان ، واہ رہے عمران ..
گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) چیئرمیین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دس روپے کی روٹی پندرہ روپے کا نان ،یہ ہے نیا پاکستان ، واہ رہے عمران خان، انسداد تجاوزات کے نام پر لوگوں سے چھت چھینی جارہی ہے۔ نئے پاکستان کے نام پر پرانے پاکستان کو تباہ کرنیوالوں کو روکیں گے۔ چوری کے ووٹ سے بننے والی حکومت سینہ زوری پر اتر آئی ہے نئے پاکستان میںمشاورت ہے نہ وژن ، 100دن پورے نہیں ہوئے ، 100سے زیادہ یوٹرن لے چکے ہیں۔

معیشت تباہ ہورہی ہے لیکن حکومت تالیاں بجارہی ہے قرض لینے پر خود کشی کرنے کا کہنے والے آج قرض ملنے پر مٹھائیاںبانٹ رہے ہیں جبکہ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنیوالے نوکریاں چھین رہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو گلگت بلتستان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے نے کہا کہ سی پیک میں گلگے بلستان کو نظر انداز کیا گیا ہم اقتدار میں آکر اس غلطی کا ازالہ کریں گے وفاق سے گلگت بلتستان کیلئے رائلٹی لیں گے ۔

(جاری ہے)

بلتستان کو آئینی حقوق بھی پیپلز پارٹی نے ہی دئیے کیونکہ ہم صرف وعدے نہیں کرتے انہیں پورا بھی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج کل تبدیلی کے وعدے کیے جارہے ہیں تبدیلی کا آغاز گلگت بلتستان کا بجٹ کاٹ کر کیا گیا۔ آپ نے نئے پاکسان کا خاکہ تو دیکھ ہی لیا ہوگا۔ جو خواب عوام کو دکھائے گئے وہ عوام کو یاد ہیں لیکن حکمران بھول چکے ہیں ۔ عوام پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کا انتظار کررہے ہیں۔

لیکن حکمرانوں کو تو صرف تو تو میں میں کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں ، وہی رویہ جاری ہے جو کنٹینر پر تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کیا عوام کو ترقی ، صحت اور تعلیم دینے کا وعد ہ پورا کیا گیا ۔ انسداد تجاوزات کے نام پر لوگوں سے چھت چھینی جارہی ہے جو لوگ بے گھر اور بے روزگار ہورہے ہیں وہ کہاں جائیں، کیا کمائیں اور کیا کھائیں ۔ پڑھے لکھے عوام کو نوکریاں نہیں مل رہیں ، معیشت میں بہتر کی بات کرنے والوں نے ملکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے۔

حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ معاشی بحران پر قابو کیسے پائیں۔ بحران ختم کرنے کیلئے مشاورت اور وژن کی ضرورت ہوتی ہے موجودہ حکومت کے پاس مشاورت ہے نہ وژن ، 100دن پورے نہیں ہوئے لیکن 100سے زائد یوٹرن لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کے نام پر پرانے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دٰی گئیں ۔ نئے پاکستان کے نام پر پرانا پاکستان تباہ کرنے والوں کو روکیں گے ۔

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments