5 سال میں گلگت بلتستان میں سترہ کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ‘ وفاقی حکومت تعاون کر تے ہوئے فنڈز دے گی اوربہتر کارکردگی کی صورت میں فنڈز ڈبل کریں گے‘ گرین یوتھ موومنٹ شروع کی جا رہی ہے جس میں گرین پاکستان کے خواب کی تعبیر کے لیے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے

وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کا پلانٹ فار گلگت بلتستان مہم کے سلسلے میں تقریب سے خطاب

ہفتہ اپریل 21:10

گلگت ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اپریل2019ء) وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ 5 سال میں گلگت بلتستان میں سترہ کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ‘ وفاقی حکومت تعاون کر تے ہوئے فنڈز دے گی اوربہتر کارکردگی کی صورت میں فنڈز ڈبل کریں گے‘ گرین یوتھ موومنٹ شروع کی جا رہی ہے جس میں گرین پاکستان کے خواب کی تعبیر کے لیے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔

بوائز ڈگری کالج مناور میں پلانٹ فار گلگت بلتستان مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وزیراعظم کے کلین اینڈ گرین پاکستان کے ویژن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت پورے ملک میں 10 ارب درخت لگائے جا رہے ہیں‘ درخت لگانے میں نوجوانوں کا کردار قابل ستائش ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سر سبزو شاداب مہم کے تحت بوائز ڈگری کالج مناور میں دس ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے گلیشئرز کے پانی سے پورا ملک سیراب ہو رہا ہے‘گلگت بلتستان میں زمینیں آباد ہو رہی ہیں جو کہ نیک شگون ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات عمران وکیل نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات کر رہی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

تقریب کے دوران سیکریٹری جنگلات آصف اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت گلگت بلتستان میں درخت لگائے جارہے ہیں اور گزشتہ سالوں کی نسبت موجودہ سال درختوں کے تحفظ کی شرح کو بھی ٹارگٹ میں رکھا گیا ہے جبکہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت ہی ضلع ہنزہ کو پلاسٹک فری بنایا جارہا ہے۔ تقریب کے آخر میں وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم اور صوبائی وزیر جنگلات نے بوائز ڈگری کالج میں درخت بھی لگائے۔

متعلقہ عنوان :

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments