چلاس میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف 30 منٹ کیلئے قراقرم ہائی وے پر علامتی دھرنا اوراحتجاج

ہفتہ ستمبر 01:20

گلگت ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2019ء) چلاس میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف 30 منٹ کیلئے قراقرم ہائی وے پر علامتی دھرنا اور احتجاجہوا۔

(جاری ہے)

یکجہتی کشمیر ریلی کی قیادت مولانا عبد المحیط اور ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کر رہے تھی. مقررین نے نریندر مودی کے عزائم اور مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نام نہاد فاطمہ بلتی نامی لڑکی کی تقریر اور سنگے حسنین کے گلگت بلتستان کے حوالے سے دئے گئے بیان پر شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا. ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے فاطمہ بلتی کو اغیار کا ایجنٹ مقبوضہ کر گل کا باشندہ قرار دیا انہوں نے واضح کیا کہ فاطمہ بلتی کا تعلق گلگت بلتستان سے نہیں ہے اور نہ گلگت بلتستان کے لوگ کسی کے مخصوص بیانئے کو مسلط کرنے دیں گی. یہاں کسی کی مرضی کا الحاق ممکن نہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان اور کشمیر سے رشتہ نظریاتی بنیادوں پر استوار ہے اور نظریہ کسی مخصوص جغرافیہ اور آئینی مسودے کا محتاج نہیں ہے۔

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments