پاکستان 4 کی بجائے 5 صوبوں والا ملک بننے کیلئے تیار

گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کیلئے عالمی قوانین اور یو این قراردادوں کی روشنی میں آئینی مسودہ تیار کرلیا گیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ 31 جولائی 2021 00:15

پاکستان 4 کی بجائے 5 صوبوں والا ملک بننے کیلئے تیار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جولائی2021ء) پاکستان 4 کی بجائے 5 صوبوں والا ملک بننے کیلئے تیار۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے گلگت بلتستان کو پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت دینے کیلئے کمر کس لی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارت قانون نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کیلئے عالمی قوانین اور یو این قراردادوں کی روشنی میں آئینی مسودہ تیار کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے گلگت بلتستان آئینی مسودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی پیش کردیا ہے۔ فروغ نسیم نے گلگت بلتستان آئینی مسودہ خود ڈرافٹ کیا۔ دوسری جانب جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت گلگت بلتستان کونسل کے بارہویں سیشن کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں کونسل نے گلگت بلتستان میں عوام کو مواصلات کی بہتر سہولیات کی فراہمی کی غرض سے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز سپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے پالیسی ڈائریکٹیو کے اجرا کی منظوری دی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں گلگت بلتستان کونسل (الیکشن) رولز2021کی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان کونسل کے چھ ممبران کا انتخاب گلگت بلتستان کونسل (الیکشن) رولز2021 کے تحت کیا جائے گا۔ کونسل نے منہاس حسین، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غذر، کی بطور جج بینکنگ اینڈ کسٹمز کورٹ گلگت بلتستان تعیناتی کی منظوری دی۔منہاس حسین کو جج قومی احتساب کورٹ گلگت بلتستان کا اضافی چارج دینے کی بھی منظوری دی گئی گئی۔

ایجنڈے کی باقاعدہ منظوری کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان سے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور ریلیف اقدامات کے حوالے سے بریفنگ لی۔ اجلاس میں گلگت بلتستان میں سیاحت کی استعداد کو برؤے کار لانے اور فروغ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خطے میں سیاحت کا بے انتہاء پوٹینشل موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پوٹیشنل کو برؤے کار لانے، جدید انفراسٹرکچر کے قیام اور مقامی آبادی کو سیاحت کے شعبے میں تربیت فراہم کی جائے تاکہ جہاں سیاحت کو فروغ حاصل ہو وہاں مقامی آبادی کو بہتر معاشی مواقع میسر آ سکیں۔

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments